زاہدہ حناکالملکھاری

ایک افسانہ منٹو کا۔۔زاہدہ حنا

ہمارے ایک شمس العلماء اسماعیل میرٹھی کہہ گئے تھے کہ مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ، بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینا۔ اسی مہینے میں ہمارے مشہور ومعروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو پیدا ہوئے۔ تاریخ 11 مئی کی اور سنہ 1912۔ نازک خدوخال والے سعادت ایک سخت گیر باپ کی دوسری بیوی کے بیٹے تھے۔
منٹو کو پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن ادب میں گلے گلے پانی غرق تھے، ابتدائی دنوں میں ہم نے انھیں جہنمی اور راندۂ درگاہ کہا۔ اب یہ عالم ہے کہ انھیں بڑے بڑے اعزازات و القابات دیے جاتے ہیں، ادھر منٹو ہیں کہ اس صورتحال سے نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا دوا دارو کے بغیر دنیا سے گزرگیا۔ صفیہ اور میری بیٹیوں نے زمانے کے کون سے ستم نہ سہے اور اب یہ مردود مجھے ہار پہناتے ہیں۔


وہ کئی مرتبہ ان شکایات کے ساتھ آچکے تھے اور اپنے دل کا غبار نکال کرگئے تھے، اس مرتبہ یکم مئی کو آئے توکہنے لگے۔ عجب منافقوں کی قوم ہے، کس دھوم دھام سے یوم مزدور مناتی ہے۔ گھروں میں پلاؤ، زردہ اڑاتی ہے، ٹی وی پر فلمیں دیکھتی ہے اور 80 سالہ مزدور اس روز بھی اپنی پیٹھ پر تین من کا بوجھ اٹھا کر روزی کماتا ہے۔
منٹو منافقت سے میلوں دور تھے، اسی لیے جب وہ بقول اپنے باجو کی گلی سے پاکستان آگئے اور پانچ ہزار مہینے کی تنخواہ پانے والے منٹو نے یہاں دس دس روپے پر افسانے لکھے، تب بھی وہی لکھا جو ان کے حسابوں سچ تھا اور خون تھوکتے ہوئے جان سے گزر گئے۔
مئی کے مہینے میں وہ پیدا ہوئے تھے، یہ مہینہ ان پر بہت بھاری گزرتا ہے۔کل اپنا افسانہ ’’اللہ کا بڑا فضل ہے‘‘ لہراتے ہوئے آگئے ۔ ’’آج تمہیں اپنا ایک افسانہ سنانا چاہتا ہوں۔‘‘
میں خوش ہوگئی، صاحب یہ تو میری خوش بختی ہوگی۔ انھوں نے اپنی ناک پر عینک درست کی اور باآواز بلند اپنا افسانہ سنانے لگے:
’’اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی بھی ایک لعنتوں کی لعنت تھی …. طنبورہ لے کر بیٹھے ہیں اور گلا پھاڑ رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ جناب آخر ان راگ راگنیوں سے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ آپ کوئی ایسا کام کیجیے جس سے آپ کی عاقبت سنورے۔ آپ کو کچھ ثواب پہنچے۔ قبر کا عذاب کم ہو۔اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. موسیقی کے علاوہ اور جتنی لعنتیں تھیں ان کا اب نام و نشان تک نہیں اور خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ یہ زندگی کی لعنتیں بھی دور ہو جائیں گی۔
’’میں نے شاعر کا ذکر کیا تھا …. عجیب و غریب چیز تھی یہ بھی …. خدا کا خیال نہ آسکے رسول کی فکر نہ ہو، بس معشوقوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔کوئی ریحانہ کے گیت گا رہا ہے ،کوئی سلمیٰ کے…. لاحول ولا، زلفوں کی تعریف ہو رہی ہے کبھی گالوں کی …. وصل کے خواب دیکھے جا رہے ہیں ….کتنے گندے خیالات کے تھے یہ لوگ، ہائے عورت وائے عورت ….لیکن اب اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان اول تو عورتیں ہی کم ہو گئی ہیں اور جو ہیں پڑی گھر کی چار دیواری میں محفوظ ہیں …. جب سے خطۂ زمین شاعروں کے وجود سے پاک ہوا ہے فضا بالکل صاف اور شفاف ہو گئی ہے۔


میں نے آپ کو بتایا نہیں۔ شاعری کے آخری دور میں کچھ شاعر ایسے بھی پیدا ہو گئے تھے جو معشوقوں کے بجائے مزدوروں پر شعر کہتے تھے۔ زلفوں اور عارض کی جگہ ہتھوڑوں اور درانتیوں کی تعریف کرتے تھے …. اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان کہ ان مزدوروں سے نجات ملی، کم بخت انقلاب چاہتے تھے۔ سنا آپ نے ؟ تختہ الٹنا چاہتے تھے حکومت کا، نظام معاشرت کا ، سرمایہ داری کا اور نعوذ باللہ مذہب کا۔اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان شیطانوں سے ہم انسانوں کو نجات ملی۔ عوام بہت گمراہ ہو گئے تھے۔ اپنے حقوق کا ناجائز مطالبہ کرنے لگے تھے۔ جھنڈے ہاتھ میں لے کر لادینی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے …. خدا کا شکر ہے کہ اب ان میں سے ایک بھی ہمارے درمیان موجود نہیں اور لاکھ لاکھ شکر ہے پروردگار کا اب ہم پر ملاؤں کی حکومت ہے اور ہر جمعرات ہم حلوے سے ان کی ضیافت کرتے ہیں۔
اللہ کا بڑا فضل ہے …. اب کوئی ٹھمری دادرا نہیں گاتا۔ فلمی دھنیں بھی مر کھپ گئی ہیں۔ موسیقی کا ایسا جنازہ نکلا ہے اور اس طور پر اسے زمین میں دفن کیا گیا ہے کہ اب کوئی مسیحا اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔ کتنی بڑی لعنت تھی یہ موسیقی۔
کوئی زمانہ تھا کہ سیکڑوں پرچے ادب کے نام پر شائع ہوتے تھے۔ ان میں لوگوں کا اخلاق بگاڑنے والی ہزاروں تحریریں آئے دن چھپتی تھیں ….سمجھ میں نہیں آتا یہ ادب کیا بلا تھی۔ ادب آداب سکھانے کی کوئی چیز ہوتی تو ٹھیک تھا۔ جو کہانیاں ، افسانے، مضمون ، نظمیں ، غزلیں ادب کا نام لے کر چھاپی جاتی تھیں ان میں چھوٹوں کو بڑوں کا لحاظ کرنے کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی ۔ادب ان نااہل ہاتھوں میں بس یہ رہ گیا تھا ….عورت اور مرد کے جنسی مسائل …. لاحول ولا قوۃ…. انسان کی نفسیات نعوذ باللہ۔ یعنی ہم فانی انسانوں کی غیر فانی روح تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی۔ حسن و عشق کی داستانیں۔ خوبصورت مناظر کی تعریفیں، بڑے ہی خوش نما الفاظ میں ….کوئی شام اودھ کی مدح سرائی کر رہا ہے، کوئی صبح بنارس کی۔ قوس قزح کے رنگوں کو کاغذ پر اتارا جا رہا ہے۔ پھولوں، بلبلوں ، کوئلوں اور چڑیوں پر ہزاروں صفحے کالے کیے جا رہے ہیں، لیکن صاحبان سوال تو یہ ہے ….تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب کوئی گُل رہا نہ بلبل …. پھولوں کا ناس مارا گیا ہے تو بلبلیں خود بخود دفعان ہو گئیں …. اسی طرح اور بہت سی واہیات چیزیں آہستہ آہستہ اس سرزمین سے جہاں ان کے سینگ سمائے، چلی گئی ہیں۔
اب صرف ایک اخبار حکومت کی طرف سے چھپتا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ وہ بھی سال میں ایک آدھ بار جب کہ اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ خبریں ہوتی ہی کہاں ہیں۔ اب کوئی ایسی بات ہونے ہی نہیں دی جاتی جو لوگ سنیں اور آپس میں چہ میگوئیاں کریں۔ایک وہ زمانہ تھاکہ لوگ بے کار ہوٹلوں اور گھروں میں یہ لمبے لمبے اخبار لیے گھنٹوں بحث کر رہے ہیں۔ کون سی پارٹی برسراقتدار ہونی چاہیے۔ کس لیڈر کو ووٹ دینا چاہیے۔ شہر کی صفائی کا انتظام ٹھیک نہیں۔ آرٹ اسکول کھلنے چاہئیں۔
عورتوں کے مساوی حقوق کا مطالبہ درست ہے یا نادرست اور خدا معلوم کیا کیا خرافات۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ہماری دنیا ایسے ہنگاموں سے پاک ہے۔ لوگ کھاتے ہیں، پیتے ہیں۔ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ کسی کی برائی میں نہ کسی کی اچھائی میں۔صاحبان !میں سائنس کا ذکر کرنا تو بھول ہی گیا ….یہ ادب کی بھی خالہ تھی۔ خدا محفوظ رکھے اس بلا سے۔ نعوذ باللہ۔ اس فانی دنیا کو جنت بنانے کی فکر میں تھے۔ یہ لوگ جو خود کو سائنس دان کہتے تھے۔ ملعون کہیں کے۔ خدا کے مقابلے میں تخلیق کے دعوے باندھتے تھے۔ ہم مصنوعی سورج بنائیں گے جو رات کو تمام دنیا روشن کر دے گا۔ ہم جب چاہیں گے بادلوں سے بارش برسائیں گے۔‘‘
میں نے کہا منٹو صاحب آپ کا افسانہ شاہکار ہے ہم اس کی مثالیں دیتے ہیں کہ آپ کس قدر روشن ضمیر تھے۔ تیس، پینتس برس پہلے وہ باتیں لکھ گئے جو ہمارے یہاں بعد میں ہونے والی تھیں۔‘‘
’’بی بی وہ افسانہ لکھنے کے لیے روشن ضمیری کی نہیں ، سیاسی اور سماجی بصیرت کی ضرورت تھی۔ پہلے میرے اس افسانے پر تھو تھو کرتے تھے، اب اسی پر واہ واہ کرتے ہیں۔
میں نے ان کی بات کاٹ دی۔ ’’ایسے ہی موقعوں پر کہتے ہیں کہ دیر آید درست آید۔ اس بات پر خوش ہولیں کہ آپ کے پڑھنے والوں کو آپ کی قدرو منزلت کا اندازہ تو ہوا ہے۔‘‘
کہتی تو تم درست ہو ’’منٹو صاحب نے معصومیت سے اپنی گول گول آنکھیں گھمائیں۔‘‘
میں خوش ہوگئی اور وہ کچھ سوچتے اور کچھ سرہلاتے ہوئے ایک طرف کو گئے۔ خدا کا بہت شکر ہے کہ اسی وقت میری آنکھ کھل گئی۔‘‘11 مئی کا دن طلوع ہونے والا تھا۔
(بشکریہ:روزنامہ ایکپریس)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker