2018 انتخاباتسرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہلکھاری

نیا صوبہ پاکستان کی ضرورت : وسیب / ظہور دھریجہ

جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ نیا صوبہ وسیب کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ضرورت ہے تو اس کے پیچھے یہ سچائی موجود ہوتی ہے کہ نیا صوبہ بننے سے وفاق متوازن ہو گا‘ سینٹ کو وقار اور توازن نصیب ہو گا اور چھوٹے صوبے سکھ کا سانس لیں گے‘ اس سے بڑھ کر مذاق کیا ہو گا کہ 62فیصد آبادی کا ایک صوبہ اور 38فیصد آبادی کے تین صوبے‘ اس کا مطلب ایک پہیہ ٹریکٹر اور تین پہیے کار‘ وفاق کی گاڑی کس طرح چلے گی؟ صوبہ سرائیکستان پاکستان کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ پنجاب کے بڑے حجم کی وجہ سے چھوٹے صوبے احساس محرومی کا شکار ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ نیا صوبہ بننے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی وہ اشرافیہ فائدے میں ہے جو لوٹ مارکرتی ہے ظلم اور زیادتی کرتی ہے؟ البتہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے غریبوں پر وسیب پر قبضے کا کوئی فائدہ نہیں ان کو صوبے کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے‘ قابض قوتیں نہیں چاہتیں کہ صوبہ بنے ۔ مشرقی پاکستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو لوگ عرصہ دو سو سال سے سرائیکی خطے کے لوگوں کا خون چوس رہے ہیں ان کو واقعی تکلیف ہے اور وہ سرائیکی صوبہ بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری رکاوٹ وسیب کے وہ جاگیردار سیاستدان ہیں جو جاہلانہ سوچ کے حامل ہیں ان کو اپنی جہالت کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا وہ صوبے کی حمایت نہیں کرتے‘ ان کی حمایت نہ کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے اصل گھر لاہور میں بنے ہوئے ہیں۔ وہ بھی صوبے کے حق میں نہیں جن کے اپنے مفادات ہیں۔ آپ سندھ والوں سے پوچھیں تو وہ بھی سرائیکی صوبہ چاہتے ہیں‘ بلوچستان یا خیبر پختونخواہ والوں سے پوچھیں سب صوبے کے حق میں ہیں‘ کشمیری اور فاٹا والے بھی نئے صوبے کے حق میں ہیں وسیب کا بچہ بچہ صوبہ مانگ رہا ہے ان سب کو پتہ ہے کہ سرائیکی صوبہ بننے سے پاکستان کا وفاق متوازن ہو گا اور ملک میں خوشحالی آئے گی۔ آج تخت لاہور کے حکمران میاں برادران صرف صوبہ نہ ہونے کی وجہ سے مغل اعظم بنے ہوئے ہیں آج صوبہ بن جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ آج باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی اہمیت نظر نہیں آتی اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ مغل اعظم نظر آتا ہے۔ حکمرانوں نے ون یونٹ بنایا کہ ہم مشرقی اور مغربی پاکستان کی آبادی کا توازن برابر کر رہے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اس وقت توازن برابر کرنا ضروری تھا تو اب کیوں نہیں ہے؟ آج سب کہہ رہے ہیں کہ نیا صوبہ وسیب کے کروڑوں افراد کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بسنے والے ایک ایک بچے کی ضرورت ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی جو کہ سینئر سیاستدان ہیں انہوں نے پچھلے دنوں واضح طور پر کہا کہ اگر نیا صوبہ بہت ضروری ہے ،ان کے کہنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ سرائیکی صوبہ پاکستان کی ضرورت ہے حکمرانوں کو اب صوبہ بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘ صوبہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم خیرات نہیں اپنا حق مانگتے ہیں۔ وسیب کے لوگ محب وطن ہیں‘ پاکستان سے محب کرتے ہیں اس لیے وہ وفاق پاکستان کے اندر اپنی شناخت اور اپناحصہ چاہتے ہیں‘ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ جتنا جلد ہو سکے نیا صوبہ بنایا جائے اور وفاق پاکستان کو مستحکم کیا جائے۔
( بشکریہ : روزنامہ 92 نیوز )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker