ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

11 اگست کو قائد اعظم کا خطاب:وسیب/ظہور دھریجہ

اگست آزادی کا مہینہ ہے ، اس میں زیادہ سے زیادہ مضامین تحریک آزادی کے حوالے سے آنے چاہئیں تاکہ اس اہم موضوع پر مقالمہ ہو سکے اور تاریخ آزادی کے مختلف پہلو سامنے آ سکیں ۔ 11 اگست کا دن نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی دن اپنے تاریخی خطاب میں فرمایا تھا کہ بلا رنگ ، نسل و مذہب پاکستان میں رہنے والے تمام لوگوں کے حقوق مساوی ہونگے۔ قائد اعظم کے خطاب سے اقلیتوں کو بہت حوصلہ ملا تھا لیکن 1973 ء کے آئین میں بہت سی دفعات پر اقلیتوں کو تحفظات ہیں ۔ ان تحفظات کو دور کیا جانا ضروری ہے کہ اگر پاکستان میں امتیازی قوانین ہونگے تو اس کا نقصان ہندوستان اور دیگر ملکوں میں رہنے والے مسلم اقلیتوں کو ہوگا کہ ایک لحاظ سے وہ بھی امتیازی قوانین بنائیں گے ۔ سٹیٹ ماں ہوتی ہے اور اس میں رہنے والے سب بیٹے تو ماں کو سب سے برابر پیار ہوتا ہے اور ماں کے بیٹے بھی اپنی ماں دھرتی کو مقدس جانتے ہیں ۔ گلستان کی خوبی اس کے مختلف پھولوں ‘ مختلف رنگوں اور مختلف خوشبوؤں سے ہوتی ہے ۔ پاکستان کو بھی اسی طرح کا گلدستہ ہونا چاہئے ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ11 اگست 1947ء کو قائد اعظم نے اقلیتوں کے مساویانہ حقوق کی بات کی ، انہوں نے اپنی کابینہ میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون بنایا ۔ قیام پاکستان کے دو سال بعد جوگندر ناتھ منڈل نے استعفیٰ دیدیا ۔ انہوں نے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو استعفیٰ کی چٹھی میں لکھا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں خصوصاً ہندوؤں سے ناروا امتیازی سلوک ہو رہا ہے اور میں ان کے حقوق کا تحفظ نہ کر سکا ۔ لہٰذا مجھے اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ جوگندرل پال منڈل کے حوالے سے دو باتیں توجہ طلب ہیں ، ایک یہ کہ قائد اعظم نے خود ایک غیر مسلم کو وزیر قانون بنایا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کو انتہا پسند سٹیٹ نہ بنانا چاہتے تھے ۔ نئے آنے والے حکمرانوں کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ، وہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بسنے والے مقامی لوگوں کو شکایت ہے کہ ان کی خدمات کا کہیں بھی تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ 1947ء میں سب سے بڑا مسئلہ انتقال آبادی تھا ۔آزادی کے بعد دونوں حکومتوں نے تبادلہ آبادی کی سکیم تیار کی لیکن غیر دانشمندی کا ثبوت یہ دیا گیا کہ انتقال آبادی کا محفوظ پلان تیار نہ ہو سکا ، پھر دونوں ملکوں میں اس طرح کے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ دونوں طرف سے لاشیں گرنے لگیں ۔ ہندوستان خصوصاً مشرقی پنجاب سے سب سے زیادہ مہاجرین آئے ،ایک اندازے کے مطابق 70 لاکھ آبادی کا ہندوستان سے انخلاء ہوا ۔ پناہ گزینوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سپین سے تین لاکھ مسلمانوں کو وطن چھوڑنا پڑا۔ روس اور جرمنی سے 70 ہزار یہودی نکالے گئے اور فلسطین سے ڈیڑھ لاکھ مسلمان ملک بدر ہوئے ۔ پاکستان سے جانیوالے ہندوئوں کی تعداد ہندوستان سے آنے والے مسلمانوں کے مقابلے میں کم تھی ۔ جب انتقال آبادی ہوا تو ایک بوڑھی عورت نے بڑی بات کی کہ ’’ بادشاہ بدلتے سب نے دیکھے ، رعیت بدلتے ہم نے پہلی مرتبہ دیکھی ۔ ‘‘ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ جن لوگوں نے پاکستان کے لوگوں کو سلطنت قائم کرنے کیلئے اپنی سرزمین دی اور انڈیا سے آنے والے پناہ گزینوں اور لُٹے پُھٹے مہاجرین کے قافلوں کو صرف پناہ ہی نہیں بلکہ اپنی قیمتی املاک ، اراضی اور جائیدادیں بھی دیں۔ تقسیم کے وقت پاکستان کے قومی مسئلے کا ادراک کر لیا جاتا ، بنگالیوں اور دوسری تمام قوموں کو ان کی زبان ، ثقافت اور شناخت کا حق مل جاتا تو مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا اور نہ مغربی پاکستان خلفشار کا شکار ہوتا۔ یوم آزادی کے موقع پر ضروری ہے کہ آزادی کے حالات و واقعات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے اور مقامی افراد کی قربانیوں کا تذکرہ بھی نصاب اور تاریخ کی کتب میں شامل کیا جائے ، آج نئے مکالمے اور نئے بیانیے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ یوم آزادی کے موقع پر ہندوستان سے مہاجرین کی ہجرت کے واقعات اور ہجرت کے نتیجے میں پیش آنے والے مصائب و آلام کا تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے ، جو کہ اچھی بات ہے ۔ لیکن بات مصائب کے بند پر ختم کرنے کی بجائے اس سے اگلی بات بھی بتائی جائے کہ جب مسلم مہاجرین ہندوستان سے خون کے دریا جھاگ کر نوزائیدہ پاکستان پہنچے تو مقامی لوگوں نے ان سے کیسا برتاؤ کیا، ان کے ساتھ حسن و سلوک سے پیش آئے یا اغیار والا معاملہ تھا ؟ اگر مقامی لوگوں کا رویہ ایثار و قربانی والا تھا تو پھر اس کا اعتراف مقامی آبادی کی تہذیب ،ثقافت اور زبان سے مانوسیت اور جذب پذیری کی صورت میں آنا چاہئے اور یوم آزادی کے تذکروں میں مہاجرین کی مشکلات کے ساتھ انصار کے ایثار کا تذکرہ عنقا نہیں ہونا چاہئے ، یہ کیا بات ہوئی کہ ایک طرف ہندوستانیوں کے مظالم کا ذکر ، دوسری طرف ہندوستانی ثقافت سے محبت۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقامی زبان و ثقافت سے مفائرت کسی طرح قرین انصاف نہیں ۔ ہاں ! اگر ہجرت کے بعد مقامی لوگوں سے کسی طرح ایثار و قربانی میں کسی جگہ کمی رہی تو اس کا ذکر بھی آنا چاہئے تاکہ تحریک پاکستان کی کہانی مکمل ہو سکے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker