زریں منورشاعریلکھاری

زندگی وقت کی تقسیم سکھا دیتی ہے : غزل/ زریں منور

موسمِ گُل کی حقیقت کا پتا دیتی ہے
کچھ نہ کچھ راز تو غنچے کو صبا دیتی ہے

تیری خاموش نگاہوں کی فسوں کاری بھی
تیرا احوالِ غمِ ہجر سنادیتی ہے

ہم تجھے بھول نہ پائے ہیں مگر کیا کہیے
زندگی وقت کی تقسیم سکھا دیتی ہے

تیری یادوں کے شبستان میں تنہائی بھی
کتنے تارے میرے آنچل میں سجادیتی ہے

اِس زمانے سے رہ و رسم کی رغبت اکثر
عمر بھر خود سے بچھڑنے کی سزا دیتی ہے

ایک ہم ہیں کہ کناروں سے پھسل جاتے ہیں
ایک وہ ہیں کہ جنہیں موج بچادیتی ہے

اے مرے حالِ پریشان سے غافل سُن لے
میری بے چارگی پتھر کو رُلادیتی ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker