نیشنل بک فائونڈیشن کا نعت کیلنڈر آپ کا منتظر ہے۔۔ کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر




مَیں نے پاکستان یوتھ لیگ ملتان کے زیرِ اہتمام یکم جنوری 2018ءکو منعقد ہونے والے 38ویں محفلِ مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شعراءکرام کتنے خوش قسمت ہیں جن کو یوتھ لیگ کی وجہ سے سال کے پہلے دن ہی نہ صرف شاعری سنانے کا موقع مل جاتا ہے بلکہ داد دینے کے لیے بے شمار سامعین بھی مفت میں دستیاب ہوتے ہیں۔ ابھی ہم اس مشاعرے کے نشہ میں گم ہوئے ہی تھے کہ دو جنوری کی صبح ڈاک سے ہمیں ایک بھاری بھرکم پیکٹ ملا تو ہم یہ سمجھے کہ کسی نے ہمیں نئے سال کا تحفہ بھجوایا ہے۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ وزنی پیکٹ کھولا تو پیکٹ کے اندر ایک خوبصورت جہان ہمارا منتظر تھا۔ وہ پیکٹ ہمیں نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی طرف سے موصول ہوا جو ایک انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب ”نعت ٹیبل بک کیلنڈر 2018ئ“ پر مشتمل تھا۔ اس سے پہلے مختلف اشاعتی ادارے غزل و نظم کیلنڈر ہر سال شائع کرتے ہیں لیکن این بی ایف نے اس مرتبہ کمال کر دیا۔ انہوں نے بالکل نئے انداز سے ”نعت ٹیبل بک کیلنڈر“ شائع کر کے اہلِ ذوق کو سال کے 365 دنوں کے لیے اتنی نعتیں تحفہ میں عطا کر دی ہیں۔
اُردو ادب میں نعت کا جو مقام ہے اس پر کوئی دوسری بات نہیں کی جا سکتی۔ حضرت محمد مصطفےٰ خیرالبشر ہیں۔ آپ پر نازل ہونے والا کلامِ الٰہی تمام ادوار کے لیے ضابطہ حیات ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے لے فرشتے، جن و انس، تمام ارض و سما آپ پر درود و سلام پڑھتے ہیں۔ آپ کی شان میں کہے جانے والے اشعار کو نعتِ رسولِ مقبول کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے ہی خوبصورت جذبوں کو رقم کرنے والے جب منظوم اظہارِ خیال کرتے ہیں اس کو مدحتِ خیرالبشر کی نسبت سے نعت کہا جاتا ہے۔ اس سال ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ایک ایسا کام کیا جس سے دنیا میں تو وہ ممتاز ہوں گے لیکن ان کی عاقبت بھی سنور جائے گی۔ اسی لیے وہ کیلنڈر کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
”ہم نے غزل و نظم کے گزشتہ برسوں میں کیلنڈر شائع کیے تو اس مرتبہ ہم نعت ٹیبل بک کیلنڈر پیش کر رہے ہیں۔ جو بیک وقت دینی فریضہ بھی ہے اور ادبی خدمت بھی۔ ہر چند کہ اس منصوبے کا خاکہ بنا تو لیا گیا تھا مگر اس کام کے آغاز کا حقیقی معنوں میں حوصلہ تب پڑ۔ا جب مشیرِ وزیراعظم جناب عرفان صدیقی نے 2017ءکے آغاز میں ”ن والقلم قومی خطاطی نمائش“ اور بعد ازاں ”القلم بین الاقوامی خطاطی نمائش“ کا اہتمام کیا جس میں پاکستان اور دنیا بھر کے کئی ممالک کے خطاطوں نے حصہ لیا۔ اسی موقع پر ہم نے ان حضرات سے ان کے فن پاروں کو نعت کیلنڈر کی زینت بنانے کی اجازت لی اور بعد ازاں برادرم واصل شاہد، اشرف ہیرا، راشد سیال اور دیگر فنکاروں کے توسط سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ تقدیم و تاخیر کے مسائل سے بچنے کے لیے انتظام میں حروفِ تہجی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا۔“
اس کیلنڈر کو ترتیب دینے کی ذمہ داری معروف شاعر و ادیب محبوب ظفر کو سونپی گئی جنہوں نے اس کیلنڈر کے لیے خوب سے خوب تر نعتیہ کلام کا انتخاب کیا۔ اس کی وجہ انہوں نے اپنے دیباچہ میں لکھی کہ نعت کے ہزاروں شعراءکرام میں سے 365 شعراءکے نعتیہ کلام کا انتخاب ایک دشوار کام تھا۔ اس کیلنڈر میں محبوب ظفر نے چند غیر مسلم شعراءکی نعتوں کو بھی شامل کیا۔ بقول کنور مہندر سنگھ بیدی:
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
کیلنڈر کے آغاز میں حضرت ابوطالبؑ بن عبدالمطلب کی نعت نے چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ خاتونِ جنت حضرت فاطمة الزہراؑ، حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن زہیرؓ، الشیخ شرف الدین ابی عبداﷲ محمد البومیری سمیت بے شمار نعتیہ کلام آغاز میں شامل کر کے اس کو معتبر بنا دیا ہے۔
یکم جنوری کو آرزو لکھنوی کی نعت سے سجایا گیا:
ازل سے نقشِ دل ہے ناز جانانہ محمد کا
کیا ہے لوح نے محفوظ افسانہ محمد کا
جس صفحہ پر کسی خطاط کی کیلی گرافی موجود ہے تو اس کے نیچے نام شائع کر کے بتایا گیا ہے یہ فن پارہ فلاں خطاط کی تخلیق ہے۔ ہر صفحہ کا ڈیزائن اتنا منفرد ہے کہ جی چاہتا ہے ہر صفحہ کو الگ الگ فریم کروایا جائے۔ نعتوں کا انتظام بھی بہت کڑا کیا ہے۔ ہر تاریخ پر ایک شاندار مدحتِ نبوی ہماری منتظر ہے۔ مثال کے طور پر چند نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ارادہ جب کروں اے ہم نشیں مدحِ پیمبر کا
قلم لے آئو پہلے عرش سے جبریلؑ کے پَر کا
آغا شاعر قزلباش دہلوی
یہ اہتمام اندھیروں کے رد میں رکھا گیا
چراغِ اسمِ محمد لحد میں رکھا گیا
اختر عثمان
اب اس سے بڑھ کے ہو تعریف کیا محبت کی
ترے عدو کو بھی تجھ سے کوئی گلہ نہیں ہے
اظہر فراغ
مجھے یقیں ہے وہ آئیں گے وقتِ آخر بھی
مَیں کہہ سکوں گا زیارت ابھی ابھی ہوئی ہے
افتخار عارف
میرے ہنر ہی سے کہیں میرے نبی خفا نہ ہوں
عرصہ گزر گیا مگر نعت نہیں کہی گئی
افضل خان
لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا
مَیں پیدل چل کے مکے سے مدینے میں نہیں آتا
افضل گوہر
جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں
حسرت آتی ہے یہ پہنچا مَیں رہا جاتا ہوں
امیر مینائی
تو نے ہر شخص کی تقدیر میں عزت لکھی
آخری خطبے کی صورت میں وصیت لکھی
خالد احمد
میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبوئیں جاتی نہیں
مَیں نے اسمِ محمد کو لکھا بہت اور چوما بہت
سلیم کوثر
آنکھوں میں نور دل میں بصیرت ہے آپ سے
مَیں خود تو کچھ نہیں مری قیمت ہے آپ سے
شہزاد احمد
کاش ایسا ہو مدینے وہ بلائیں جب بھی
ان کے روضے پہ مجھے بات بنانی آ جائے
طارق نعیم
روز ہوتی ہے مرے سامنے تازہ ہجرت
روز مَیں گھر سے نکلتا ہوں مدینے کے لیے
عباس تابش
سیاہ رنگ ہو میرا، زباں میں لکنت ہو
مجھے بھی آپ سے کوئی بلالیؓ نسبت ہو
علی زریون
شہرِ خواہش کے در و بام سے باندھے ہوئے رکھ
مَیں ہوں جیسا بھی مجھے اِس نام سے باندھے ہوئے رکھ
قمر رضا شہزاد
اس کیلنڈر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کا انڈکس علیحدہ سے شائع کیا گیا ہے۔ جس صفحہ پر نعت، شاعر کا نام اور تصویر شائع کی گئی ہے اُسی صفحہ پر اسلامی کیلی گرافی، خطاط کا نام یا کسی معروف مسجد کی تصویر بھی دکھائی دیتی ہے۔ نیشنل بک فائونڈیشن نے بظاہر 2018ءکا نعت کلینڈر شائع کیا ہے لیکن حقیقت میں مستقل ٹیبل کیلنڈر ہے۔ اگر سال 2018ءختم بھی ہو جائے تو یہ کیلنڈر پرانا نہیں ہو گا کہ ہر صفحہ پر صرف تاریخ درج ہے لیکن دن کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ یوں ڈاکٹر انعام الحق جاوید سے محبوب ظفر (مرتب) نے یہ خصوصی اہتمام کیا ہے کہ ان کی جانب سے نعتیہ کلام پر مشتمل یہ تحفہ کبھی بھی پرانا نہیں ہو گا۔
اس کیلنڈر کو جن خطاطوں کے فن پاروں سے سجایا گیا اگر ان کا ذکر نہیں آئے گا تو یہ اُن فنکاروں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ سو یہ کیلنڈر جہاں بہترین کلام کا مجموعہ ہے وہاں پر محمد راشد سیال، علی اعجاز نظامی، محمد مختیار علی، مبشر کلیم، ابنِ کلیم، اشرف ہیرا، محمد یامین حقی (ترکی) دائود بخش (ترکی) حافظ محمد یوسف سدیدی، ابوبکر صدیقی، عظیم اقبال، نثار احمد، وقار احمد، سمیع آفندی (ترکی) صفدر حسین راجہ، ضیاءالرحمن، عبدالعزیز اعوان، احمد علی بھٹہ، عبدالرزاق رضی، فرقان عارف، محمد علی زاہد، صائمہ فہد، عبدالرحمن امجد (سعودی عرب)، صبا عاربی (انگلینڈ)، شفیق زمان، محسن رشید، محمد وقار حنیف، محمد علی قادری، آصف، گلزار بٹ، احاب ابراہیم، صلاح الدین، واصل شاہد، اصغر علی، محمد راشد خرم، عمران زاہب، صبا اسلام کے علاوہ دنیا کے نامور خطاطوں کے فن پاروں کی وجہ سے یہ کیلنڈر خطاطی کی بھی ایک نادر و نایاب البم کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کمپیوٹر گرافکس کی وجہ سے اب ڈیزائن کرنا آسان ہو گیا ہے لیکن اس کیلنڈر کے ہر صفحہ پر نعت کے ساتھ مختلف رنگوں کی جو کہکشاں دکھائی دیتی ہے اس سے کیلنڈر کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ سال کے آغاز میں اگر کسی شاعر کو پہلے دن اپنی شاعری سنانے کے لیے مشاعرہ مل جائے اور اگلے دن نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے نعت کیلنڈر کا انعام آ جائے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے 2018ءہمارا اچھا سال نہ ہو۔ سو قارئین کرام اگر آپ بھی 2018ءکی ہر صبح نعت رسولِ مقبول پڑھ کر کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی نعت کیلنڈر کو خرید کر اپنے گھر یا دفتر کی زینت بنائیں کہ 880ءروپے اس کیلنڈر کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ یعنی ایک صفحہ کی روزانہ قیمت صرف دو روپے اکتیس پیسے بنتی ہے۔ یعنی ڈھائی روپے سے بھی کم تو پھر دیر کیوں کریں نعت کیلنڈر آپ کا منتظر ہے۔
Views All Time
Views All Time
77
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*