زندگی ویسی نہیں ہوتی جیسے سب بتاتے ہیں زندگی ہر کسی کیلئے ذاتی تجربے کے مطابق ہی ہوتی ہے کسی کیلئے جنگل کا سفر اور کسی کیلئے محل کا قیدی۔۔۔نخلستان صحرا بھی ہوتے ہیں اور شہزادیاں محلوں میں بھی مجبور اور ناخوش ہو سکتی ہیں۔۔۔کسی کی زندگی میں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں اور تمام عمر خانہ بدوشی لکھی ہے اور بعض کیلئے ٹھہرے ہوۓ پانی کی طرح جس پر کنول تیرتے ہیں۔۔۔کس کی زندگی کیسے گزرے گی اس کا پتہ نہ کوئی دست شناس دے سکتا ہے اور نہ کوئی ماہر نجم و فلکیات۔۔۔اس کی خبر اور قوت صرف کاتب تقدیر کے پاس ہے کہ وہ ہمیں تمام کاوشوں کے باوجود بھی محروم رکھتا ہے یا عنایت کرتا ہے۔۔معتوب کرتا ہے یا مشکور بننے کی توفیق بخشتا ہے۔۔۔
کوشش اور دعا کے ہتھیاروں سے زندگی سے نبرد آزما ہونا لازم ہے لیکن کبھی کبھی زندگی اتنی سرعت سے موڑ لیتی ہے کہ انسان کی کل کائنات تہہ و بالا کر کے رکھ دیتی ہے۔۔تمام حربے ناکام اور تمام منصوبے چوپٹ ہو جاتے ہیں۔۔وقت وقت کی بات ہے لوگ اور حالات دونوں بدل جاتے ہیں۔۔۔ہمارا اچھا ہونا ہمارے ساتھ اچھا ہونے کا ضامن نہیں بن سکتا نصیب،قسمت اور حالات کا موافق ہونا ضروری ہے۔۔۔ناقدرا ہمسفر اعلی ظرف اور اچھے اوصاف والے انسان کی تمام اچھائيوں کے ضائع جانے کا سبب بن جاتا ہے۔۔۔وقت برا آجاۓ تو جن ہاتھوں کو کبھی ہم نے عزت و محبت سے چوما تھا ہمارے گریبان جھنجھوڑنے لگتے ہیں۔۔جن کی خاطر ہم بھوکے پیاسے تلاش رزق میں مصائب کی گٹھریاں اٹھاۓ بھی مسکراتے رہےتھے وہی زاد راہ لوٹ کر مفرور ہو جاتے ہیں ۔۔۔جن کو ہاتھ تھام کر چلنا سکھایا تھا وہی ہم سے سائبان چھین لیتے ہیں۔۔۔ اعتبار کیا ٹوٹتا ہے خوابوں کا قتل ہوتا ہے امیدوں کے جنازے اٹھتے ہیں اور ارمان ماتم کناں ہوتے ہیں ۔۔۔رنگوں سے بھرے کتنے ہی خواب آنکھوں کے طاق میں چراغوں کی طرح ٹمٹماتےتھے۔۔۔
تیز ہوا کا جھونکا آیا اور سارے آتشی شعلے یکلخت بجھ گئے۔۔۔الماریوں میں کتنے ہی لباس جو خاص وعام مواقع پر زيب تن کرنے تھے لٹکتے رہ گئے اس انتظار میں کہ ان کو پہنا جاۓ گا لمس کی نرم گرم خوشبو سے آراستہ ہوں گے اور اپنے وجود پر پڑی سلوٹوں پر اترائيں گے کہ وہ کن حسین یادوں کے اہم شاہد ہوۓ ہیں۔۔۔سنگھار میز پر نیلی پیلی اور ہری ہری کانچ کی چوڑياں ہم رنگ پوشاک کی شان میں اضافے کا ارمان لیے منتظر رہ گئيں اور ان کے نازک ارمان انکے وجود کی طرح ذرا سی ٹھیس لگنے پر ٹوٹ کر چکنا چور ہو گئے۔۔۔خریدنے والی کی کلائيوں میں سجنے اور کھنکنے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔۔۔اس سے کہیں بہتر تو وہ ٹوٹی ہوئی چوڑياں تھیں جنہیں ان کی مالکن نے کسی کلائی تھامنے والے کی یاد میں اپنی ڈائری کے پنوں میں سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔۔۔سرخ لالی گلابی لبوں کو اپنے رنگ میں رنگنے کی آرزو لیے اپنا رنگ کھو چکی ہے۔۔۔وہ جھلملاتے ہوۓ زيور جن سے کانوں کی لو سجنی تھی اور مانگ میں جگمگانا تھا ظالم زمانے کی ہوس کا شکار ہو گئے ۔۔چھین لیے گئے ویسے ہی جیسے کوئی جانور شکار پر ٹوٹ پڑے.. جب گھر والے نہ رہیں تو گھر ٹوٹ جاتا ہے مکان رہ جاتا ہے آتش دان ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔۔اخبار کی تمام خبریں بنا پڑھے باسی ہو جاتی ہیں۔۔۔ گلدانوں میں پھول سوکھ جاتے ہیں اور توجہ بھری محبت کی آبیاری سے محروم ہو کر آنگن کے تمام پودے مرجھا جاتے ہیں ۔جس نے مکان کو گھر بنانے کی چاہ میں قرب و جوار کے کوچہ بازار کنگھال کر در و دیوار کو سجایا تھا اسے ہی بے گھر کر دیا گیا۔۔جیتے جاگتے انسانوں کو اس کی ریاضتوں کا احساس نہ ہوا لیکن وہ در و دیوار جو اس کی آہٹ سے واقف اور ہر آہ کے رازدار تھے آج بھی اشکبار ہیں۔۔وہ تیز روی سے بھاگ کر کسرت کرنے والوں کے راستے پر چہل قدمی کرتے تھی اور راستے کے اطراف ميں دو رویہ درختوں کی قطار اور ان پر آشیانہ بناۓ پرندوں اور موسمی پھولوں کی قطاروں سے گفتگو کرتی جاتی تھی اپنی ٹوٹی ہوئی امیدوں سے امید کی نئی کونپلوں کی افزآئش کی سعی کرتے تھی۔۔گھر کو جوڑے رکھنے کیلئے پیڑوں پر بسیرا کیے چڑيا سے سبق لیتے تھی جو ہر طوفان کے بعد بکھرے ہوۓ تنکوں کو سمیٹ کر پھر سے گھر بنا لیتی ہے۔۔ وہ راستے اور اس کے تمام چہچہاتے ہوۓ دوست اپنے دوست کے کھو جانے پر رنجیدہ ہیں۔۔
وہ بلی جسے کوئی میاوں کہہ کر بلاتی اور دودھ ڈالتی تھی اب بولائی بولائی پھرتی ہے۔۔۔ مسافر پرندوں کے لیے رکھے پانی کے برتن خشک ہو چکے اور دیواروں سے پرندے تشنہ ہی لوٹ جاتے ہیں بالکل اس خواب دیکھنے والے کی مانند جو بارشوں میں بھیگ کر روح کو سیراب کرنے کی تمنا کرتا ہو لیکن جب بارش کا موسم آۓ تو کوئی اسے قید میں ڈال دے جہاں بارش برسنے کی آواز تو آۓ لیکن مٹی کی خوشبو اور بارش کی پھوار تک پہنچ نہ پاۓ۔۔۔ ۔۔محبت عاجزی سکھاتی ہے وہ پاوں کی خاک بن گئی تھی۔۔محبت خدمت گزاری مانگتی ہے اس نےآرام اور نیند بھلا کر محبوب کی بے ضرر اور چھوٹی ضرورتوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں میں شامل کر لیا تھا۔۔اس کے بچوں کی ماں نے کس ممتا بھرے احساس سے سخت سرد موسم میں گرم بستر چھوڑ کر اس کے بخار میں جلتے وجود کی مسیحائی کی تھی۔۔اس کے زخموں کے درد کو اپنی پوروں سے چنا تھا مرہم رکھا تھا کہ ان بازووں کو طاقت دی تھی جو اس پر ہی اٹھنے لگے۔۔محبت عیب پوشی کی شرط رکھتی ہے ۔۔وہ محبت کی بیل بن کر اس پتھر مٹی کی دیوار سے یوں لپٹی تھی کہ گمان ہوتا تھا دیوار کا سہارا لیے کھڑی ہے لیکن درحقیقت یہ دیوار کو دھوپ سے تحفظ کے ساتھ ساتھ بدنما داغوں سے عیب پوشی اور خوش رنگ پھولوں کے پیرہن سے آراستہ کیے اس کو موسم کی سختیوں سے بچا رہی تھی اور دیوار کی خود ساختہ انا کی تسکین کا باعث بھی تھی کہ بیل کو اس کے آسرے کی ضرورت ہے ۔۔۔جوش وخروش سے چھوٹی چھوٹی خوشیاں منانے والوں کو ناراض کر دیا جاۓ تو زندگی سردیوں کی بےزار اداس شام کی طرح ہو جاتی ہے کٹھور اور سردمہر جزبات کی گرمی سے محروم۔۔زندہ جلا دینے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ آگ تو خاک کی ازل سے دشمن ہے۔۔۔بھسم کر دےگی۔۔۔آنکھیں اور خواب تک جل گئے ہو نگے ایسے میں ورثہ کس میت کو غسل دیں گے کس جسد کو آخری لمس کی خاطر چھو کر رخصت کریں گے۔۔۔کیسے یقین کریں گے کہ جسے رنگوں کا پیرہن دیا تھا وہ راکھ کے سوا کچھ نہیں رہا۔۔۔۔چھین لینے اور ناحق پر قبضہ کرنے والوں کی حقیقت اس بات سے کم نہیں کہ وہ اترن پہننے کی حیثيت اور اوقات رکھتے ہیں۔۔ایسے لوگوں کا لالچ سے لتھڑا ہوا دل دنیا کے مال و زر کی ہوس کے نشے میں زندگی کی معنویت رومانویت اور جزباتی سہاروں سے محروم ہو جاتا ہے۔۔۔ان کی بھوک انسان کی بھوک نہیں بلکہ دوزخ شکم ہے کہ ھل من مزيد کی صدا لگاتا ہے جتنا ملتا ہے اتنا ہی اور چاہتا ہے لیکن مطمئن نہیں ہو پاتا۔۔۔آہوں اور بددعاوں کی بازگشت سنتا ہے اور تمام زندگی مردہ ضمیر کے بوجھ کے ساتھ گزارتا ہے۔۔۔
فیس بک کمینٹ

