میرے دوست سید منتظر مہدی ساہیوال کے معروف معالجِ نفسیات ہیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے مجھ سے زندگی کے مقصد پر کچھ لکھنے کو کہا۔ میں نے سوچا کہ کچھ سوچ سمجھ کر لکھوں گا، لیکن آج بنا سوچے سمجھے ہی لکھنے بیٹھ گیا۔ اگر منتظر کچھ دن پہلے مجھ سے یہ سوال کرتے تو شاید میں انہیں بہتر جواب دے پاتا، کیونکہ اُس وقت میں خود زندگی کا مقصد ڈھونڈ رہا تھا۔ اس سوال پر شاید فلسفی زیادہ غور کرتے ہوں گے، مگر عام انسان عموماً مشکل ادوار ہی میں اس سوال پر رک کر سوچتا ہے۔
اس پر مجھے اپنا ایک پرانا شعر یاد آ گیا:
زندگی شاذف بڑی بے رنگ ہے
اس میں جینے کی وجہ شامل کرو
ایک اور شعر کچھ یوں ہے:
زندہ رہنے کے واسطے شاذف
کچھ بہانے بنا دیے جائیں
صوفیا ہستی کے سوال پر لاجواب ہو کر کہتے ہیں:
"بلھیا، کی جاناں میں کون؟”
زندگی اپنی رفتار اور لے میں خود بہ خود آگے بڑھتی رہتی ہے۔ اس دوران کچھ مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب وقت کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ راتیں رتجگوں سے بھر جاتی ہیں اور کاٹے نہیں کٹتیں۔ انہی لمحات میں تخلیقی افراد پر آمد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا تھا:
خوشی ملی تو کئی درد مجھ سے روٹھ گئے
دعا کرو کہ میں پھر سے اداس ہو جاؤں
شاید محسن سمجھتے تھے کہ ایک تخلیق کار کی زندگی میں دکھوں کی کیا اہمیت ہے، مگر خدا سے دکھوں کی دعا کرنا بہت جگرے کی بات ہے۔ یہ عام انسان کے بس کی بات نہیں۔
شاعروں اور مفکروں نے شاید ہستی کے سوال پر جتنا لکھا ہے، کم ہی کسی اور موضوع پر لکھا ہو گا۔ یہ ایک نہایت بنیادی سوال ہے۔ انسان زندگی کی ابتدا پر بھی ایک دوسرے سے متفق نہیں۔ بہرحال، میں سمجھتا ہوں کہ ہر جواب منطقی ہونا چاہیے۔ دیومالائی کہانیاں سنا کر ہم کسی صاحبِ عقل انسان کو شاید زندگی کے سوال پر قائل نہیں کر سکتے۔
یہ تو طے ہے کہ ہم اربوں سال پرانی لامحدود کائنات کا ایک حصہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ابتدا کائنات ہی کے کسی حصے سے جڑی ہو گی، جو اس زمین پر بھی ہو سکتا ہے اور خلا میں بھی۔
ہر انسان زندہ رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی مقصد تلاش کر ہی لیتا ہے۔ یہ مقصد انسان کے حالات سے جڑا ہوتا ہے۔ ہم عموماً وہی بن جاتے ہیں جیسا ہمارا ماحول ہوتا ہے۔ یعنی ہم خود اپنا ماحول نہیں بناتے بلکہ ہمارا ماحول ہماری تشکیل کرتا ہے۔
محدود شعور کے افراد مقصدِ حیات کو اپنی ذات اور اس سے جڑے افراد تک محدود رکھتے ہیں، جب کہ اہلِ فکر کے لیے یہ مقصد اجتماعی اور آفاقی ہو جاتا ہے۔ یہ مقصد زندہ رہنے کی جدوجہد سے شروع ہوتا ہے اور اکثر اسی پر ختم ہو جاتا ہے۔
ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہم کھانے کی جستجو کرتے ہیں، تن ڈھانپنے کے لیے لباس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، موسمی سختیوں سے بچنے کے لیے ہمیں چھت درکار ہوتی ہے اور کچھ حد تک حرارت بھی۔ ہم بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دوا ڈھونڈتے ہیں اور اپنے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ شاید ہم سب میں یہی مقاصد مشترک ہیں۔
اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہم اپنے اور دوسروں کے لیے سوچتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ اضافی ہو—- یعنی ہماری بنیادی ضرورت نہ ہو۔ اضافی اشیا کے لیے ہمیں سوچنا پڑتا ہے کہ انہیں حاصل کیا جائے یا نہیں اور ان سے ہمیں کیا فائدہ پہنچے گا۔ یوں مقصد کا تعلق ضرورت سے جڑ جاتا ہے۔
کچھ اشیا جب ضرورت سے نکل کر آگے بڑھ جائیں تو وہ ہماری خواہشات یا حسرتیں بن جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ہمارا ذہن کسی خواہش کے بارے میں ہم پر یہ باور کراتا ہے کہ ہمیں اس شے کی اشد ضرورت ہے، حتیٰ کہ اس کے بغیر ہم زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ ایسے حالات میں ہم شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہو سکتے ہیں اور ہمیں معالجِ نفسیات کی مدد درکار ہو سکتی ہے۔
سید منتظر مہدی میرے پسندیدہ معالجِ نفسیات ہیں۔
اور آپ کے؟
فیس بک کمینٹ

