پولیٹکل سائنس کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف فرانسس فوکیو مانے ’تاریخ کا خاتمہ‘ نامی کتاب لکھی جس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ’لبرل جمہوریت اور مارکیٹ اکانومی‘ پوری انسانی تاریخ کا نچوڑ ہیں۔ اور اب انسانی تاریخ میں اس سے بہتر آئیڈیاز کی صورت نظر نہیں آتی۔ گویا آئیڈیالوجی کے اعتبار سے ’تاریخ کا خاتمہ‘ ہو چکا ہے ۔
مشہور لبرل مسلم اسکالر فرید ذکریا نے ’دی فیوچر آف فریڈم ۔اِل لبرل ڈیمویسی ایٹ ہوم اینڈ ابراڈ‘ میں کہا کہ انسانی آزادیوں کے راستے میں غیر لبرل جمہوریتیں آڑے آ رہی ہیں، جہاں جمہوریت لبرل نہیں ہوگی ، جہاں جمہوری آزادیاں نہیں ہوں گی، وہاں آزادی کا دائرہ بھی محدود ہوتا جائے گا ۔ محترمہ بینظیر بھٹونے اپنی شہادت سے پہلے لکھی گئی اپنی فاضلانہ کتاب ’مفاہمت‘ میں جمہوریت کی بقا اور معاشرے کی ترقی کیلئے اندرونی لڑائیوں اور ادارہ جاتی کشمکش کو ختم کر کے مصالحتی طریق کار تجویز کیا۔ بعدازاں انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مقتدرہ اور جنرل مشرف سے باقاعدہ معاہدہ بھی کیا جو مصالحت کی ایک عملی مثال تھی۔
افسوس کہ ملک کے سیاسی اور فوجی دونوں حلقوں میں مفاہمت اور مصالحت کےاس فارمولے کو دل سے قبول نہ کیا گیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ تضادستان میں سیاست دم توڑ رہی ہے۔ اگر فوکیوما، تضادستانی ہوتا تو لکھتا ’سیاست کا خاتمہ؟‘ اور اس کا بنیادی خیال یہ ہوتا کہ زبیر جھارا اور انوکی کے مقابلے سے اگر انوکی آؤٹ ہو گیا تو پھر مقابلہ کیا ہوا۔ اگر سلطان راہی سڑک پر مارا جائے تو مصطفیٰ قریشی فلموں میں کس کے مقابل بطور ولن آئے گا، ہٹلر نہ ہو تو چرچل کی اہمیت کیا؟ سیاست بھی ہیرو اور ولن سے چلتی ہے۔ ولن نہ رہے تو ہیرو بھی غیر متعلق ہو جاتا ہے۔
جس طرح مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب پڑھے اور پڑھائے جاتے تھے یا آج سلطنت عظمیٰ روما کے خاتمے کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ اسی حساب سے تضادستانی سیاست کے خاتمے کے ہم سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔ سیاست دان، عوام، فوج اور میڈیا، سب نے سیاست کے تاج محل پر یا تو مسلسل گولہ باری کی ہے یا اندر ہی اندر اس محل کو کمزور کرنے کی سازشیں کی ہیں۔ سیاست کی آزادی جمہوریت سے مشروط ہوتی ہے۔ مگر ہر سیاستدان نے لبرل جمہوریت کے اصولوں سے انحراف کیا۔ اپنے لیے اور اصول رکھے اور اپنے مخالف کیلئے کچھ اور۔ ایسی جمہوریت اور ایسی سیاست نے زوال پذیر ہونا ہی تھا۔
میں علانیہ جمہوریت اور سیاست کا حامی ہوں اور اکثر سیاست کی غلطیوں پر یہ کہہ کر پردہ ڈال دیتا ہوں کہ ان کو طاقتور وقت ہی نہیں دیتے کہ وہ سیاست منظم کر سکیں۔ پارٹی میں میرٹ لا سکیں یا اچھی گورننس کی تیاری کر سکیں۔ مگر اس سوال کا جواب کون دے گا کہ نہ تو عمران خان، عوامی مینڈیٹ کے سب سے بڑے ایوان، قومی اسمبلی جاتے تھے اور نہ ہی شہباز شریف یا نواز شریف۔حکومت کے دوران۔ نہ تو عمران خان نے کبھی اپنی پارٹی کی تنظیم یا مشورے لینے کی ضرورت محسوس کی اور نہ آج وزیراعظم شہباز شریف یا پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ایسی کوئی ضرورت محسوس کر رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی پنجاب میں کوئی سپیس نظر نہیں آرہی تحریک انصاف کی پنجاب میں سرے سے کوئی تنظیم ہی نہیں۔ اور اگر ان کی ووٹ پاور ہے تو اسٹریٹ پاور دور دور تک نظر نہیں آتی۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام و دیگر پارٹیاں پریشر گروپس ہیں۔ پنجاب میں مقبول جماعتیں نہیں۔ اگر ایسے میں فی الحال سیاست کے خاتمے پر فاتحہ نہ پڑھی جائے تو اور کیا کیا جائے؟
اب مسئلہ یہ زیر بحث لانا ہے کہ کیا سیاست کا خاتمہ نیک شگون ہے یا بدشگونی؟ مشہور نوبل پرائز یافتہ آئرش شاعر ڈبلیو بی ییٹس سے کسی نے پوچھا کہ سیاست کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ سیاست کا تعلق سانس لینے اور زندہ رہنے سے ہے۔ اگر زندہ رہنا ہے تو سیاست ضروری ہے۔ سوال کرنے والے نے ییٹس کی طرف حیرانی سے دیکھ کر کہا سیاست اور سانس کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ییٹس نے مسکرا کر کہا کہ نوزائیدہ بچے کی سب سے پہلی ضرورت سانس ہے اور اگر اسے آکسیجن والی سانس نصیب نہ ہو تو وہ اُسی وقت مر جائے گا۔ اب آکسیجن والی سانس برقرار اور مہیا کرنے کیلئے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے محفوظ فضا چاہئے۔ گویا صاف شفاف ماحول ضروری ہے اور صاف ماحول کیلئے سازگار حکومتی پالیسی چاہئے۔ سازگار حکومتی پالیسی بنوانے کیلئے سیاست ضروری ہے گویا آپ کے زندہ رہنے اور سانس لینے کیلئے بھی سیاست لازم ہے۔
20 ویں صدی کے طاقتور اور بااثر ترین مفکر ژاں پال سارتر جنہوں نے وجودی فلسفہ دیا، ان کے بارے میں پاکستان کے حوالے سے ایک واقعہ مشہور ہے۔ ایک سرکاری مفکر ان سے ملنے پیرس گیا تو سارتر نے پاکستانی سیاست کا احوال جاننے کیلئے پوچھا کہ سیاست میں کیا چل رہا ہے؟ پاکستان کے سرکاری لکھاری نے کندھے اچکا کر کہا میں تو ادب کا آدمی ہوں، میرا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سارتر نے اس لکھاری سے یہ کہہ کر مزید بات چیت سے انکار کر دیا کہ ’جس لکھاری کو ملکی سیاست کا علم نہیں اس سے بات ہی کیوں کی جائے؟ سیاست تو سب مسائل کے حل کی ماں ہے‘۔ گو فی الحال تضادستان میں سیاست کا خاتمہ نظر آرہا ہے مگر 25کروڑ انسانوں کے ملک کو چلانے کیلئے جو بھی طریقہ، جو بھی نظام آئے گا وہ چاہے غیر سیاسی ذہن کی پیداوار ہی ہو، اسے تاریخ دان سیاست ہی کہے گا۔
سیاست کو زندگی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اب جبکہ نئے دور کا آغاز ہے ، سیاست کے اداروں ، سیاسی جماعتوں، پارلیمان، کابینہ اور طرز حکمرانی کو بہتر اور مضبوط بنانے پر نہ صرف سوچ بچار کی جائے بلکہ ملک کی بہتری کا سب سے اہم پراجیکٹ سمجھ کر اسے ترجیح بنایا جائے۔ پچھلے 70سال میں سیاست، سیاسی جماعتوں اور وزیر اعظموں پر اس قدر حملے ہوئے ہیں کہ ان کے جسد میں جسم کم ہیں اور چھید زیادہ۔ جب ملک کو چلانے والے منتخب حکمران چاہے وہ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں ہی اس قدر زخمی اور لہولہان ہیں تووہ سیاست کو کیسے سنبھالیں گے اور ملک کیسے چلائیں گے ؟
مقتدرہ چند سال کیلئے توانائی کا ٹیکہ لگا کر ملک کو چلا بھی لے تو بالآخر کسی نہ کسی دن ملک سیاستدانوں کے حوالے کرنا ہے۔ تب پھر وہی شکایات پیدا ہوں گی جو پہلے سے اہل سیاست کی پہچان بن چکی ہیں۔ کرپشن اور بری و نااہل طرز حکمرانی دو بڑی قباحتیں ہیں جو اہل سیاست کے نام لگ چکی ہیں۔ اہل سیاست ان الزامات کی وجوہات کا تدارک کرکے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا حکومتی اتحاد، تحریک انصاف کی سیاست کے خاتمے کو قبول کر چکا ہے۔ کیونکہ یہ واضح اشارہ مل چکا ہے کہ بانی و تحریک انصاف کے بارے میں مقتدرہ کے پاس ایسے واضح ثبوت ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت ملکی افواج کو توڑنے اور نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ ن کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ مقتدرہ کیلئے تحریک انصاف کسی طرح قابل قبول نہیں۔ لگتا ہے کہ ن نے اس ایجنڈے کو اپنی سیاسی تقدیر اور واحد آپشن ہونے کی وجہ سے ہو بہو مان لیا ہے۔ اب مقتدرہ اور ن لیگ دونوں متفق ہیں کہ انصافی سیاست کو سرے سے مُکا دیا جائے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر سیاست کے سالن سے مرچ نکل گئی تو نونی نمک کس حد تک شامل حال رہ سکے گا۔ سیاست میں اپوزیشن نہ ہو تو حکومت بھی کھوکھلی لگتی ہے۔ سیاست کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری اب نون پر ہے وگرنہ واقعی سیاست مرجا ئے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

