آج بڑا عجیب سا جملہ نظر سے گزرا۔
زندہ بھاگ
جی ہاں زندہ بھاگ۔میں نے جملہ جوڑا اپنے موجودہ ملکی حالات سے۔کیونکہ ایک روز قبل ہی دوستوں میں گفتگو ہورہی تھی کہ اگر کئی سالوں کا ڈیٹا اٹھا کردیکھیں توایسا کبھی نہیں ہوا۔جتنا اس ایک سال میں ہمارے ملک سے برین ڈرین ہوا۔ یعنی کہ ہمارے قابل ترین شہری جنہیں ہم کریم آف نیشن کہتے ہیں۔وہ ڈاکٹرز ہوں،انجینئرز ہوں، آئی ٹی ایکسپرٹس ہوں یا دوسرے ماہرین ،وہ تیزی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا تلاش روزگار کے لیے بیرون ملک جا رہے ہیں ۔ ہجرت انسان صدیوں سے کرتا چلاآیا ہے جوعلاقے زیادہ سرسبز تھے۔پرانے زمانوں سے لوگ وہاں ہجرت کرجاتے یا تجارت کے مواقع جہاں زیادہ تھے۔لوگ دور دور سے وہاں آبستے۔ اب بھی جن شہروں کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔آپ غور کریں وہ شہر پانیوں کے دریاؤں کے کنارے آباد ہیں۔ تو یہ بھی بہتر روزگار کے لیے نقل مکانی تھی۔
لیکن آئیں اب اس کے تاریک پہلو اور اندوہناک انجام کوسوچتے ہیں فرض کیجئے معاف کیجئے اب فرض نہیں کرسکتے۔یہ حقیقتاً ہورہاہے کہ ہمارے قابل ترین لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔میرے ایک ملنے والے نے بتایا کہ وہ بیمار ہونے پر گلف اسٹیٹ عجمان ایک ہسپتال گیا تو ڈاکٹر نرسز ڈسپنسر تمام پاکستانی تھے۔ ایسا لگا میں اپنے ہی شہر میں ہوں۔ دوران عمرہ میرے ایک عزیز بیمار ہوئے تو ان کے بچوں نے بتایا کہ مکہ ہسپتال میں تمام نرسز پاکستانی تھیں یہ خوشی کی بات ہوگی کچھ لوگوں کے لیے کہ ہمارے لوگ اس قدرقابل ہیں کہ دوسرے ملکوں میں سروسز فراہم کررہے ہیں مگر میرے لیے یہ قابل فخر نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے ہم سوچتے تھے کہ کپڑے کی انڈسٹری کی وجہ سے فیصل آبادہمارا مانچسٹر ہے مگر لوگ ملیں اکھاڑ کر بنگلہ دیش لے گئے اورپاکستانیوں نے بنگلہ دیشن میں انڈسٹری لگانے کو فوقیت دی۔کون ذمہ دار ہے اس کے لیے۔ یقیناً مل جل کروہ سب لوگ جو پالیسیاں بناتے ہیں اپنے اوراپنے بچوں کی بہتری سے آگے سوچنا پسند نہیں فرماتے اورہم بیچارے انہیں سورماؤں کی حمایت میں ایک دوسرے کاسرپھاڑنے سے بھی گریزاں نہیں ہوتے۔
توقارئین گرامی
یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر پھرکبھی لکھوں گی کہ ہربندہ کس طرح قابل شرم حد تک صرف ذاتی مفاد کی خاطر ملک سے کیا کررہاہے۔ بہت چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات ہیں ۔
کس مٹی سے بنے ہیں ہم لوگ۔ آج ایک ٹکے کے مفاد پر اپنی نسلوں کو ایسے ایسے پیشگی تحفے عنایت کررہے ہیں کہ وہ ہماری حرکتیں تاریخ کے اوراق میں پڑھ کر مغفرت کی دعائیں نہیں کریں گے گالیاں دیں گے۔ اور ہم اسی وقت کی طرف جارہے ہیں اس وقت اس لمحہ موجودمیں ہرمحکمے میں اعلی ذمہ دار نااہل تشریف رکھتا ہے اور اہل افسراس نااہل کی ماتحتی پر مامور ہے۔جی چاہتا ہے کہ دل کھول کر شہادتوں کے ساتھ لکھوں مگر کیاں کروں میرا ایک شاعر درویش شدید جھوٹ لکھ گیا۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
میرے ایک عزیز محکمہ صحت میں اعلی عہدے پرفائز رہے۔ان سے اسی موضوع پر گفتگو ہورہی تھی۔ان کاجملہ لکھتی ہوں تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ کہ مسٹر!اوپر والے لوگوں کو کماؤ پوت چاہیئں جوہرماہ بند لفافہ بھیج سکیں۔ بس یہی قابلیت ٹھہری عزیز من۔ اسی طرح ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ جو لوگ باہر چلے گئے وہ نااہل تھے کیونکہ وہ بغیر کسی سفارش کے میٹر پر سلیکٹ ہوئے یہاں وہ میرٹ پر پورا اتر نہیں پائے۔
تو بات کسی اور جانب جانکلی اصل بات ہو رہی تھی برین ڈرین پر۔ یعنی ہمارے قابل ترین لوگ ملک چھوڑنے پر مجبورہوگئے۔ سیاسی حوالے سے بات نہیں کروں گی کیونکہ اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتی۔ اس الجھنے کانتیجہ جانتی ہوں یہاں قومی نقصان لوگوں کو دکھائی نہیں دے گا۔ ہر سیاسی جماعت سے ہمدردی رکھنے والا شخص دوسری جماعت کو ذمہ دار ٹھہرائے گا مگر مسئلے کاحل نہیں بتائے گا۔ تو جناب یہاں معاشرے کاسفر جس جانب شروع ہوچکا تو تیارہیں چند سالوں میں میرے دیس میں وہی لوگ گھوم رہے ہوں گے جوکسی بھی قابل نہیں کچھ کرنے کے لائق نہیں کیونکہ دوسرے ملکوں کے لیے وہ صرف روٹی گروپ ہے۔وہ تو یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ ایسے لوگ صرف گھومنے پھرنے وہاں چلے جائیں۔ تو ایک طبقہ ہوگا ان لوگوں کا جوتعلیمی مہارت حتی کہ جسمانی مشقت کے بھی لائق نہیں۔ یا عورتیں اور بچے ہوں گے۔اب کچھ لوگ کہیں گے کہ برین ڈرین ہورہا ہے مان گئے مگر ان کی کمائی تو پاکستان واپس آئے گی۔ پچھلے ایک سال میں اوورسیز پاکستانیوں نے کچھ نہیں بھیجا اور دوستو!ابھی کل ہی کی بات ہے ایک فیملی نے بتایا کہ سربراہ دبئی چلاگیا ایک ماہ ہی میں اونے پونے گھر کاسامان بیچ رہے ہیں۔ فیملی جارہی ہے۔ تو جناب اکثریتی لوگ اپنے بچے اس جنگل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ میں کتنے ہی لوگوں کوجانتی ہوں جوصرف والدین کی زندگیوں تک تو آئے ان کے دنیا سے جانے بعد پھرکبھی نہیں لوٹے۔ اورہاں اگر ایک طبقہ نااہل لوگوں کا رعایا کی صورت میں ملے گا تو دوسرا طبقہ کرپٹ، بے ایمان،لوٹ مار کے دلدادہ حکمران رہ جائیں گے۔اورکرہ ارض کو ایک اور نائیجریا مبارک۔
میرے منہ میں خاک
اللہ نہ کرے
فیس بک کمینٹ

