نیا سال شروع ہونے پر حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو خیر سگالی کا پیغام دیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈرو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کو ملکی مسائل کا واحد حل بتایا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کے جوشیلے بیانات خاص طور سے دو روز پہلے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے منی بجٹ کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
نئے سال کی شام کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات پر 4 روپے فی لیٹر محصول لگانے کا اعلان سامنے آگیا۔ منی بجٹ کے بعد اس اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اپوزیشن لیڈروں کے بیانات میں مزید شدت اور کاٹ دیکھنے میں آئی۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے جس اجلاس میں منی بجٹ منظور ہونا تھا، اسے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیاگیا تھا۔ اگرچہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہفتے تک حکومت سادہ اکثریت سے منی بجٹ منظور کروالے گی۔ اس دوران 12 جنوری کو عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوگا جس میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ ہوناہے۔ البتہ آئی ایم ایف نے اس ادائیگی کو 550 روپے کے اضافی محصولات کے علاوہ اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے کی قانون سازی سے مشروط کیا ہؤا ہے۔ حکومت نے ضمنی بجٹ کے تحت 360ارب روپے کے محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ باقی کمی پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر پوری کی جائے گی۔ اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کے لئے بھی قانون قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں ان اہم بجٹ تجاویز اور اسٹیٹ بنک کے بارے میں بل کی منظوری کی بجائے اجلاس اچانک ملتوی کیا گیا ہے۔ تمام تر حکومتی دعوؤں سے قطع نظر یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی حلیف جماعتیں ابھی تک منی بجٹ کی سرکاری تجویز منظور کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ گو کہ وزیر اطلاعات نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ منی بجٹ کی منظور ی سے پہلے قواعد کے مطابق سینیٹ کی تجاویز لینا ضروری ہے، اس لئے دو ہفتے بعد یہ معاملہ طے ہوجائے گا۔ فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا ہے کہ حلیف جماعتوں کے دو، دو وزیر وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں جنہوں نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں منی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ اس طرح حکومتی ترجمان یہ یقین دلانا چاہ رہے ہیں کہ منی بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ عائد نہیں ہے تاہم قومی اسمبلی کے اجلاس کا غیر معینہ مدت کے لئے التوا الگ کہانی سناتا ہے۔
خبروں کے مطابق پاکستانی وزارت خزانہ کے نمائیندے درپردہ مواصلت میں آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کروارہے ہیں کہ اس کی تمام شرائط پوری کرنے کے لئے اقدامات کر لئے گئے ہیں، اس لئے 12 جنوری کے اجلاس میں چھے ارب ڈالر کے مالی پیکیج میں سے ایک ارب ڈالرسے کچھ زائد رقم کی ادائیگی منظور کرلی جائے تاکہ پاکستان کے مالی معاملات میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔ آئی ایم ایف کو یقین دلایا جارہاہے کہ تاخیر کے باوجود اس کی تمام شرائط پر عمل ہوگا۔ سوال یہ ہے کیا آئی ایم ایف کا بورڈ پاکستان کی ان یقین دہانیوں پر بھروسہ کرکے اپنا معمول کا طریقہ کار نظر انداز کرنے پر آمادہ ہوجائے گا؟ آئی ایم ایف سے معاملات کے حوالے سے حکومت پاکستان کا حالیہ ریکارڈ قابل ستائش نہیں رہا۔ شوکت ترین نے عہدہ سنبھالنے کے بعد حفیظ شیخ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کی شرائط کو تبدیل کروانے کے لئے دوبارہ مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔ ورنہ اصولی طور پر جو اضافی محاصل اب منی بجٹ کے ذریعے عائد کئے جائیں گے، انہیں جون میں بجٹ کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔ اسی طرح اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کا معاملہ بھی بجٹ کے ساتھ ہی طے ہونا تھا۔
حکومت نے سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے آئی ایم ایف سے طے شدہ معاہدہ کے باوجود اس وقت یہ اقدام نہیں کیا بلکہ اپنے تئیں آئی ایم ایف کو مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی شرائط نرم کرے۔ حکومت اس کوشش میں تو کامیاب نہیں ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے رکن ممالک کو یہ تاثر بھی دیا گیا کہ پاکستانی حکومت ایک معاہدہ پر اتفاق کرنے کے بعد بھی اس سے انحراف کرسکتی ہے۔ کسی ملک کی حکومت کے بارے میں یہ تاثر مثبت نہیں ہے اور اس کا اس کی کریڈٹ ریٹنگ یعنی عالمی مارکیٹ میں بھروسہ پر اثر پڑتا ہے۔ اب منی بجٹ منظور کروانے میں غیر ضروری تاخیر سے حکومتی صلاحیت اور قومی اسمبلی کی اکثریتی رائے کے بارے میں نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
آئی ایم ایف کا قرض محض ایک ارب ڈالر کے حصول کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ ایسے معاہدہ سے متعدد دیگر عالمی مالی اداروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف مالدار ملکوں کے تعاون سے قائم ایک ایسا ادارہ ہے جو کسی ملک کی اقتصادی قوت اور پیداواری صلاحیت کی روشنی میں ایسا مالی ڈھانچہ بناتا ہے جس سے متعلقہ ملک اپنا بیرونی قرض ادا کرنے کے قابل رہے۔ یوں تو آئی ایم ایف کی پیش کردہ تجاویز یا شرائط کو کسی قومی معیشت کو متحرک کرنے کی بنیاد بتایا جاتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ بچت اور آمدنی میں اضافہ کے جو اصول وضع کئے جارہے ہیں، ان سے مقروض معیشت پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے گی۔ لیکن درحقیقت یہ شرائط کسی معیشت کو اس حد تک متحرک دیکھنا چاہتی ہیں کہ آئی ایم ایف اور دیگر مالی اداروں کے ذریعے دیا گیا قرض ادا ہوتا رہے۔ آئی ایم ایف کسی قومی معیشت کے سدھار کا ادارہ نہیں ہے۔ یہ کام بہر صورت اس ملک کی سیاسی قیادت ہی کو انجام دینا پڑتا ہے۔ پاکستانی لیڈر یہ قائدانہ رول ادا کرنے میں کامیاب نہیں رہے ۔ اسی لئے پاکستان اب تک آئی ایم ایف سے دو درجن کے لگ بھگ مالی پیکیج لے چکا ہے اور کوئی حکومت بھی یہ سلسلہ بند نہیں کرسکی۔
دریں حالات عمران خان کی حکومت کو بھی آئی ایم ایف سے ’رحم‘ کی بھیک مانگنے کی بجائے خود اپنی سیاسی صلاحیت پر بھروسہ کرنا پڑے گا تاکہ منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک کا قانون منظور کروایا جاسکے۔ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مسلسل تصادم اور ضد کا رشتہ استوار کیا ہے اور اب اس کی اپنی حلیف پارٹیوں کو بھی لگتا ہے کہ آئیندہ انتخابات سے محض ایک سال پہلے انتہائی مہنگی بجٹ تجاویز کا شراکت دار بن کر ان کے اراکین کو اپنے حلقہ انتخاب میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اسی لئے درپردہ مزاحمت دیکھنے میں آرہی ہے۔ حکومت کوامید ہے کہ اس معاملہ میں چونکہ ریاست کا ’وقار اور مفاد‘ داؤ پر لگا ہے ، اس لئے ماضی کی طرح اسٹبلشمنٹ اس بار بھی اس کی مدد کے لئے دست تعاون دراز کرے گی۔ حلیف جماعتوں کی مسلسل مزاحمت اور اپوزیشن کا تند و تیز لب و لہجہ گوکہ اس بات کا عکاس تو نہیں ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے منی بجٹ کے حوالے سے حکومت کو لال جھنڈی دکھا دی ہے البتہ کوئی سہارا دینے سے پہلے یہ ضرور یقینی بنایا جارہا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت اچھی طرح جان لے کہ اسے پارلیمنٹ میں اگر کوئی کامیابی ملے گی تو وہ کیسے اور کس کی مدد سے دستیاب ہوگی۔
یہ طریقہ اپنے ہی چنے ہوئے وزیر اعظم کو یہ باور کروانے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے کہ سیاسی طاقت اور عوامی مقبولیت کے باوصف انہیں اقتدار پر تصرف کے لئے کسی سہارے کی ضرورت ہے۔ جب کوئی وزیر اعظم ’اداروں کی اس اہمیت‘ کو مان لیتا ہے تو معاملات کا کوئی خوشگوار حل تلاش کرلیا جاتا ہے۔ جو اپوزیشن لیڈر اس وقت عمران خان کے استعفیٰ کو تمام مالی دشواریوں اور مسائل کا حل بتا رہے ہیں، فی الوقت ان کی دوڑ بھی نعرے لگانے اور بیان دینے تک ہی ہے۔ منی بجٹ پر پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث کی بجائے ہنگامہ آرائی کرنے کا راستہ چنا گیا ہے، اس کی منظوری کے وقت یا تو یہ پارٹیاں ’واک آؤٹ‘ کررہی ہوں گی یا خاموشی سے حکومت کو ایک بار پھر کامیاب ہوتے دیکھ کر اگلے کسی موقع کا انتظار کریں گی۔
وزیر اعظم نے دو روز پہلے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے شہباز شریف کی ہر تقریر کو ’درخواست برائے روزگار‘ قرار دیاتھا تو وہ اسی صورت حال کی طرف اشارہ کررہے تھے۔ یعنی اپوزیشن بھی اپنی سیاسی کامیابی کے لئے اسی دروازے کی طرف دیکھ رہی ہے جس سے حکومت کو ’اقتدار‘ کی بھیک میسر آتی ہے۔ فواد چوہدری نے نئے سال کے آغاز پر ایک ٹوئٹ میں سیاسی تصادم ختم کرکے تعاون کی فضا پیدا کرنے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سال 2022 کے آغاز پر ہمیں تلخیاں کم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن مل کر انتخابات، معیشت، سیاسی اور عدالتی اصلاحات کے لئے گفتگو کریں ۔ پارلیمان میں فساد عام آدمی کی نظر میں سیاست دانوں کا وقار کم کرتا ہے‘۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ جس تصادم کو کم کرنے کی بات وزیر اطلاعات اس ٹوئٹ میں کررہے ہیں ، وہ خود موجودہ حکومت کا پیدا کردہ ہے۔ فواد چوہدری اس تلخی کو قائم رکھنے میں پیش پیش رہے ہیں۔
منی بجٹ کی منظور ی کے سوال پر مشکلات کا شکار حکومت کی طرف سے اسی اپوزیشن قیادت کو مصالحت کا پیغام معنی خیز ہے جسے باقاعدگی سے چور اچکے اور لٹیرے کہا جاتا ہے ۔ اسے حکومت کی کمزوری کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات میں کسی اپوزیشن پارٹی کے پاس بھی شاید آئی ایم ایف کی شرائط مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا لیکن ملک میں کوئی متبادل سیاسی قیادت عالمی اداروں، دارلحکومتوں اور لیڈروں کے ساتھ بہتر مواصلت پیدا کرکے سہولت کے نئے راستے تلاش کرسکے گی۔ یا کم از کم عالمی سفارت کاری میں تعطل کی موجودہ تکلیف دہ صورت حال کم کی جاسکے گی۔ تاہم قومی سطح پر تبدیلی کے کسی فارمولے پر ابھی تک اتفاق رائے پیدا نہیں ہورہا جس کے سبب موجودہ تعطل و تصادم دیکھنے میں آرہا ہے۔
ان حالات میں عمران خان کے پاس دو ہی آپشن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ قومی اسمبلی میں جائیں اور منی بجٹ پر ووٹ کو اعتماد کا ووٹ قرار دیتے ہوئے اعلان کریں کہ اگر یہ بل منظور نہیں ہوتا تو وہ اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ یا وہ بدستور سہاروں پر تکیہ کرتے ہوئے آئیندہ انتخابات تک تحریک انصاف کی حکومت کھینچنے کی کوشش کرتے رہیں۔ ملک میں اس دوراہے تک پہنچنے والے عمران خان پہلے وزیر اعظم نہیں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کوئی راستہ چنیں گے جو ان سے پہلے آنے والا کوئی لیڈر چننے کا حوصلہ نہیں کرسکا؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

