حکایت ہے کہ ایک مولوی صاحب کوکسی نے بکری کابچہ تحفے میںدیااس زمانے میںبنارسی ٹھک ہوتے تھے توتین ٹھگوں نےمل کر مولوی صاحب سے کہاکہ آپ نے یہ کتے کابچہ کیوںاٹھایاہواہے ؟ مولوی صاحب نے اسے گالیاںدیںاوربھگادیاتھوڑی دیر بعد دوسرا ملا اس نے کہاکہ مولوی صاحب یہ کتے کابچہ کہاںلے جارہے ہو؟؟اس دفعہ مولوی صاحب کے اعتماد میںتھوڑ افرق آیامگر اسے بھی بھگادیا۔تھوڑاآگے گئے توتیسر اٹھگ مل گیا اورمولوی صاحب سے کہنے لگا مولودی صاحب آپ اتنے نیک آدمی ہوکر کتے کابچہ اٹھائے پھرتے ہو،توبہ توبہ !گاؤں والے آپ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیںاورآپ نے حرام جانور گودمیںلے رکھاہے ؟؟؟
یہ سنناتھاکہ مولوی صاحب کاسارا کانفیڈنس ہواہوگیا،انہوں نے فوری طورپربکری کے بچے کو اتارپھینکااورلاحول ولا پڑھتے چل پڑے ۔یہ ہے منظم پروپیگندہ کی طاقت اوریہی کام اس وقت سوشل میڈیا سے لیاجارہاہے معلومات کے ہرذریعہ سے باربار ایک ہی میسج آرہاہے جس سے سادہ لوحعوام ’’مولوی ‘‘بن رہے ہیں۔ماہرین کامانناہے کہ کوئی بھی میسج جب آپ کو تین سے زیادہ ذرائع سے ملے تو آپ کے اسے ماننے اوریقین کرنے کاچانس بڑھ جاتاہے جب ٹک ٹاک فیس بک ،ٹویٹر ،یوٹیوب ،ٹی وی ہرجگہ ہرایک ہی پیغام آئے گاتو کیانتیجہ ہوگا؟؟
کہنے کو تو آج کی دنیا ’’انفارمیشن ایج‘‘ہے مگر سوشل میڈیا کی سائنس ایسی ہے کہ ہربندے کاایک Search Bubbleہے جو اس کی آن لائن ایکٹویٹی کے algorithmسے بنتاہے تحریک انصاف نے نوجوانوںکے لئے سوشل میڈیااورمعلومات algorithmکی مددسے محدودکردی گئی ۔فیک نیوز میں ہمیشہ ایساعناصرہوتاہے جو آپ کوجذباتی کردے ،ماہرین سوشل میڈیاکامانناہے کہ فیک نیوز کوپھیلانے اورقائل (persuasion)کرنے میںجذباتی کردینے والی چیزیںاہم کرداراداکرتی ہیں جیساکہ آپ کچھ دن سوشل میڈیاپرجانور بھی سرچ کریںتو ہرسوشل میڈیاپرآپ وائلڈلائف ہی ملے گا۔چاہے میڈیم کوئی بھی ہویہی وہ پہلوہے جن پرماہرین نفسیات آئی ٹی کے ماہرین اورمارکیٹنگ کے ماہرین مل بیٹھ کر ایک بہترین سٹریجی بناتے ہیں’’نون ‘‘لیگ کے آخری دور میںپمراکے ایک analysis کے مطابق 14ٹی وی چینل نے اپریل 2016 سے جولائی 2017 تک شام سات بجے سے گیارہ بجے کے پرائم ٹائم میںصرف پانامہ ایشوپر4868پروگرام کئے ،سوشل میڈیا اس کے علاوہ ہے
پاکستان کی 63فیصد آبادی نوجوان ہے جوبچہ 2000میںپیداہوا آج 22 سال کاہے اس نے اپنے سارے بچپن اورلڑکپن میںپاکستان کے سارے سیاستدانوںکونہیں دیکھا بلکہ یہ سنتے گزراکہ سوائے عمران خان کے باقی سارے چورہیںوغیرہ وغیرہ دنیا بھرکی نفسیات کی تحقیق اٹھالیجئے ٹین ایج ہی وہ عمر ہے کہ جب آپ کی سوچ کی تشکیل ہوتی ہے جب آپ نظریات بدلتے ہیںجب آپ کو چیزوںکی پہچان ہوتی ہے اس عمر کوپی ٹی آئی نے ہراس سورس سے اپروچ کیاجوممکن تھی ٹک ٹاک ،یوٹیوب ،فیس بک ،انسٹاگرام ،وٹس ایپ اوردیگرتمام سوشل میڈیا کے ادارے جو لوگوںکے اذہان پراثرانداز ہوسکتے ہیں۔
ٹین ایج کی آفاقی حقیقت یہ ہے کہ میرے دوست جونظریہ رکھتے ہیںوہی میراہوگا ۔اس سب کو ڈیل کرنے کے لئے سوائے پی ٹی آئی کے کسی اور جماعت نے اس پرکام نہیںکیا جس کانتیجہ یہ نکلا کہ نوجوانوںکی سوچ یکطرفہ ہوگئی ہے جس کانتیجہ پوری قوم بھگت رہی ہے اورنوجوانوں کاذہن اس یک طرفہ سوچ سے اس قدرمتاثرہوچکاہے کہ وہ کوئی دوسری بات سننے کوتیار ہی نہیں۔ان کے سامنے ہے کہ ملک معاشی تباہی کے دہانے پرکھڑاہے اورپچھلے پونے چار سال میںپی ٹی آئی حکومت نے اس ملک کو جوستیاناس کیا ہے وہ اسے ماننے کوتیارہی نہیں۔پچھلے کچھ سالوںمیں جس طرحمائنڈمیک کے گئے ہیںیہ اسی کانتیجہ ہے ،اگرشرق پوری استعفیٰدے تو تالیاںاوراگرچوہدری مسعود استعفیٰ دے تو گالیاں۔
یہ ساری صورتحال جرمن قوم کے حالات سے مماثلت اختیارکرتی جارہی ہے سب کو یاد ہوگاکہ نوے سال پہلے کی جرمن قوم ہم سے کہیں زیادہ باشعور اورپڑھی لکھی تھی ۔دنیا کے بہت سے بڑے مفکراورفلاسفر وہیںپیداہوچکے تھے ۔پھردیکھتے ہی دیکھتے ایک نوسربازنے اسے اپنے حصول اقتدار کے خوشنماجال میںایسا پھنسایاکہ پوری اس پرمرمٹی ۔ انجام ٹوٹل تباہی ملک کے ٹکڑے اللہ پاکستان کی خیرکرے۔
فیس بک کمینٹ

