ملتان :گورنمنٹ گرلز مسلم ہائی سکول ملتان میں سوموار کی صبح ایک افسوسناک حادثے میں ٹیچر کی گاڑی اسمبلی میں شریک طالبات پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں ایک طالبہ جاں بحق اور دوشدیدزخمی ہوگئیں۔حادثہ صبح ساڑھے آٹھ بجے پیش آیا۔
سکول ذرائع کے مطابق سکول ٹیچر نے حال ہی میں نئی گاڑی خریدی تھی اور انہیں ابھی ڈرائیونگ میں مہارت نہیں تھی ۔وہ گاڑی پر سکول پہنچیں توگیٹ میں داخل ہوتے ہی گاڑی بے قابو ہو گئی اور پلر سے ٹکراگئی ، اسی جگہ طالبات کی اسمبلی ہو رہی تھی ۔ حادثے کے نتیجے میں عمارہ نامی طالبہ جاں بحق ہوگئی۔
گورنمنٹ مسلم گرلز ہائی سکول پل موج دریا کی پرنسپل ماہ طلعت منور نے بتایا کہ پیر کے روز دسویں کلاس کی ٹیچر اقرا جمشید اپنی گاڑی پر سکول میں داخل ہوئیں تو غلطی سے ان کی گاڑی نے سکول میں موجود تین طالبات کو زوردار ٹکر ماری جس سے دسویں کلاس کی طالبہ عمارہ خلیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی جبکہ دسویں کلاس کی طالبہ فضا اور آٹھویں کلاس کی طالبہ ماہم عامر شدید زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طورپر نشترہسپتال منتقل کردیاگیاجہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ایس ایچ او تھانہ چہلیک عمران نیازی نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔تاحال ہمیں بچی کے والدین کی طرف سے ٹیچر اقرا جمشید کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے اور بچی کا پوسٹ مارٹم نہ کرنے کا کہاگیا ہے مگر پولیس اس واقعہ کے حوالے سے ضروری قانونی کارروائی عمل میں لارہی ہے اور سکول ٹیچر کی گاڑی کوبھی قبضے میں لے کرتھانے منتقل کیا جارہاہے۔
بعدازاں ڈپٹی سیکرٹری تعلیم جنوبی پنجاب خواجہ مظہرالحق نے گورنمنٹ مسلم گرلز ہائی سکول کادورہ کیا جہاں انہوں نے حادثے کی جگہ کامعائنہ کیا ۔اس موقع پر سکول کی پرنسپل نے انہیں بریفنگ دی۔سیکرٹری سکولز ایجوکیشن جنوبی پنجاب ڈاکٹر احتشام انور نے واقعہ کانوٹس لیتے ہوئے پرنسپل ماہ طلعت اور ٹیچر اقرا جمشید کو معطل کردیا اور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز جنوبی پنجاب اعزازاحمد خان کو انکوائری آفیسر مقررکرتے ہوئے انہیں ہدایت کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کریںتاکہ تمام حقائق کی جانچ کے تمام ذمہ داروں کا تعین کیاجائے اورمزید کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
فیس بک کمینٹ

