میرے ایک لکھاری اور احترام انسانیت کے علمبردار دوست کا ان دنوں بڑا موضوع "ٹرانس جینڈرز کے دکھ” ہے ۔اس سے قبل وہ ہاتھ سے کام کرنے والے دستکاروں کے سماجی،معاشی اور نفسیاتی الجھنوں پر بھی بہت سا کام کر چکے ہیں بلکہ اس سلسلے میں وہ ایک تحریک کی صورت میں کام کر بھی رہے ہیں،وہ پسے ہوئے اور راندہ درگاہ لوگوں کے المیوں پر کڑھتے رہتے ہیں۔
ہماری ریاست کے اپنے مسائل اور اپنی ترجیحات ہیں۔اس ریاست کی پہلی اینٹ ہی شاید ٹیڑھی رکھی گئی تھی اس لیے پورا ریاستی ڈھانچہ ہی کج رو اور ٹیڑھا رہ گیا ہے ۔نو آ بادیات کے بعد ہمیں مابعد نوآ بادیات کا سامنا ہے ۔نوآ بادیادتی نظام میں تو کہیں کہیں انسانیت کی رمق باقی تھی،نظام عدل اور سکیورٹی کے نظام میں بہت کچھ نچلی کلاس کو مل جایا کرتا تھا مگر اب تو ایک خوف،بے یقینی اور افراتفری کا ماحول ہے جس میں سب کچھ بہہ گیا ھے۔ایسے میں نچلی سطح کے طبقے کے بارے میں کیا کہا جائے۔بطورخاص "ٹرانس جینڈر”تو ہمارے لیے ایک مذاق،ایک تفریح اور ایک کھیل سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔بادی النظر میں دیکھا جائے تو ان کی مجموعی شخصیت اور صحت دیگر دو جنسوں سے کمتر نہیں مگر ان کا مقدر فقط غلاظت اور بے راہ روی ہو کر رہ گیا ہے ۔انھیں "مین سٹریم”کی انسانیت میں شمار ہی نہیں کیا جاتا،کیا انسان کو صرف "سیکس”کے تناظر ہی میں انسان سمجھا جائے ؟
اس جنس کو صحت مندانہ رویوں سے مملوانسان کیوں نہیں بنایا جا رہا،کیا یہ صرف تیسرے درجے کے ناچے ہی رہیں گے،کیا یہ ڈاکٹر،سول اور عسکری افسر نہیں بن سکتے ،کیا یہ استاد اور انجینیر اور اعلی تخلیق کار نہیں بن سکتے۔کبھی ہم نے ان کی ذاتی زندگیوں میں جھانک کر دیکھا ہے ،یہ کیسے کیسے دکھوں اور المیوں سے دوچار ہیں انھیں ان کے اپنے خاندان تک قبول نہیں کرتے،انھیں لوگ گھر کرائے پر دینے کو تیار نہیں اگر کوئی کرائے کا گھر مل بھی جائے تو وہ اتنا تنگ اور غلیظ ہوتا ہے کہ مت پوچھیں ۔ایسے گھروں میں تو حیوان بھی نہیں رہ سکتے جہاں یہ رہتے ہیں۔ہم جنس پرستی کے مرض کے شکار تھرڈ کلاس مردوں کی شہوت کا یہ ہمیشہ شکار رہتے ہیں۔ان کی دربدری اور مظلومیت کا احساس ریاست یا نام نہاد "اشرافیہ”کو کیوں نہیں ہوتا۔یہ سوسائٹی میں چلتا پھرتا "دکھ” ہیں۔کسی نے کہا ہے کہ ہمارے صدقوں کے اصل حق دار یہی ہیں،عجیب مائنڈ سیٹ ہے یہ،کیا اس طرح ھم بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ کا ماحول نہیں بنا رہے ۔
ان کے لیے تعلیم،رہائش،صحت اور روز گار کے مواقعے ترجیحی بنیادوں پر پیدا کرنا ریاست ھی کی ذمہ داری ھے۔ان کی دربدری نہ صرف انسانیت کی تذلیل ھے بلکہ معاشرے میں یوتھ میں جنسی بے راہروی کو فروغ دینا بھی ھے۔ھم نے کالم کے اغاز میں ایک انسان دوست لکھاری کا حوالہ دیا ھے اس حساس لکھاری نے اس جنس کی داخلی اور باطنی الجھنوں کو ذاتی طور پر مشاہدہ کرتے ہوئے کہا ھے کہ ریاستی اداروں کو فی الفور اس طبقے کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہئے اور انھیں معاشرے کے کامیاب انسان بننے کے لیے اقدامات لینے چاھیں۔اسی طرح دیہاڑی دار مزدور کے حالات بھی بہت کٹھن ھیں۔میں ملک کے جس شہر میں گیا ھوں وہاں یہ مزدور کسی چوراھے پر صبح سویرے حسرت کی تصویر بنے ٹھہرے ھوتے ھیں نہ کوئی ان کے لیے شیڈ بنا ھے اور نہ کوئی پانی کا انتظام ھے۔کچھ کو مزدوری مل جاتی ھے باقی سراپائے حسرت بنے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ھیں۔ جنھیں مزدوری کا موقع مل جاتا ھے ان میں سے کئی بغیر اجرتوں کے واپس لوٹتے ھیں،کیا ایسے لوگوں کے تحفظ کے لیے کسی ادارے نے سوچا ھے،کیا ایسے رویے قومی سطح کے "ہیجڑے پن”کی جانب بلیغ اشارہ نہیں۔؟
فیس بک کمینٹ

