میں قسمت پر یقین نہیں رکھتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں ہم جن حالات سے دوچار ہوتے ہیں وہ خود ہماری غلطیوں اور زمانے کی ستم ظریفیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جن کا ذمہ دار ہم قسمت کو ٹھہرا دیتے ہیں۔
1993 میں جب میں میڈیکل کالج میں داخل ہوا تو میرے والد نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے ڈاکٹر بنتے ہی نئی کار لے کر دیں گے۔ 1996 میں ہمارے مالی حالات خراب ہو گئے اور باباجی اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے ۔ اس میں قسمت کا کوئی دخل نہ تھا بلکہ سارا قصور میرا اور باباجی کا تھا۔ ڈاکٹر بنا تو ہسپتال جانے کے لیے میں نے سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل خرید لی جو بعد میں چوری ہو گئی اور پھر کھٹارا حالت میں مل بھی گئی۔ میں کئی سال تک ملتان کی سڑکوں پر وہ کھٹارا موٹر سائیکل چلاتا رہا۔
2007 میں شادی کے بعد میرے عروج کا سفر شروع ہوا اور میں اور میری بیوی یکے بعد دیگرے بہت سی کامیابیاں سمیٹتے چلے گئے۔ کامیابیوں سے میری مراد مالی خوشحالی ہے۔ مجھے موٹر سائیکل کی سواری سے ڈر لگتا ہے۔ 2008 میں اپنے بیٹے کی پیدائش سے پہلے میں اور میری بیوی موٹر سائیکل سے گرے تو ہم نے لیز پر گاڑی لے لی۔ مجھے بڑے بڑے ہسپتالوں میں کام کرنے کا موقع ملا اور میں نے خوب پیسے بنائے اور ایک اور گاڑی خرید لی۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور میں بےروزگار ہو گیا۔ پچھلے سال مجھے مجبوراً ملتان آنا پڑا۔ دوستوں سے باہر جانے کے لیے رقم ادھار لی تھی جو ویزے کی نذر ہو گئی ، باہر تو نہ جا سکا لیکن کچھ پیسے بچ گئے جن سے میں نے موٹر سائیکل خرید لی ۔ گو کہ مجھے موٹر سائیکل کی سواری سے ڈر لگتا ہے لیکن کچھ دنوں سے میں اعتماد سے اسے چلانے لگا تھا۔ بہت دنوں کے بعد بچے ملتان آئے تو انہیں مجبوراً موٹر سائیکل پر بٹھانا پڑا اور یہ اعتماد ٹوٹ گیا۔ 2008 میں فوزان ماں کے پیٹ میں تھا تو گرنے سے ڈر لگتا تھا۔ بچے بڑے ہو گئے ہیں، لیکن گرنے سے اب بھی اتنا ہی ڈر لگے لگا ہے۔ آیت نے مجھ سے پوچھا، "بابا آپ کو اتنا پسینہ کیوں آتا ہے؟” فوزان بولا، "پاگل! بابا کو انزائیٹی ہے.”
میں قسمت کو نہیں مانتا. جو کچھ بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے وہ خود ہماری غلطیوں اور زمانے کی ستم ظریفیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جن کا الزام ہم قسمت پر دھر دیتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

