مسلم لیگ ن ان کے کشکول میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ ڈال دیتی تو وہ پی ٹی آئی میں کبھی نہ جاتے۔حالانکہ وہ ریمنڈڈیوس کے معاملہ پر اصول پسندی یا مصلحت کیشی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے وزارت خارجہ کا قلمدان تج چکے تھے ،لیکن اقتدار میں رہنا ان کی مجبوری ہے اس لئے رہ نہ سکے ۔یہ ہر وڈیرے ،گدی نشین کا وتیرہ رہا ہے ۔یوں بھی اقتدار ایک جَل ہے ،اس جَل میں ایک بار جو مچھلی آجائے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ،وہ کسی محراب و منبر ہی سے کیوں وابستہ نہ ہو۔
پی ٹی آئی کی میان میں دو تلواریں کیسے سما سکتی تھیں ،آخر بہاﺅالدین زکریا ؒ کی گدی کی وراثت کے ایک دعویدار جنہیں زندگی میں ایک ہی مرتبہ آمر ضیاءکے دور میں مذکورہ دربار کو غسل دینے کا موقع نصیب ہوا ،انہیں آخر کو پی ٹی آئی کی نیام سے الگ ہونا ہی پڑا ۔ان کی باقی کہانی تاریخ کا حصہ ہے ۔مگر صاف چلی کے ساتھ چلنے والے مسند نشین کا دامن ماضی و حال کے حوالے سے بدعنوانیوں سے پاک و شفاف ہے ،لیکن اس کا کیا کہئے کہ انہوں نے سرائیکی وسیب کی جھولی کانٹوں سے بھر دی ،یوں ان پر سے وسیب والوں کا اعتماد اٹھ گیا۔
پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی احمدحسین دیہڑ مستقبل مزاج سیاستدان نہیں ہیں ،انہیں مروجہ سیاست کے داﺅ پیچ سے بھی ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے گو وہ ہوا کے رُخ پر چلنے کے پہلے دن سے عادی ہیں ۔پی پی پی ،مسلم لیگ ن ،پھر پی پی پی اور اب پی ٹی آئی ۔ان کی طبیعت میں قرار نہیں ہے اور ان کی یہی بے قراری اور اضطراب جلد سیاست سے انہیں بے دخل کردیگا کہ اب عوام کا شعور بھی کروٹ لینے لگا ہے۔
سرائیکی وسیب کے آتش فشاں میں جو لاوہ کئی دہائیوں سے پک رہا تھا وہ اب دھیرے دھیرے پھٹنے لگا ہے ۔گزشتہ رات دیر گئے سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان کے انتہائی متحرک نوجوان رہنما ،پارٹی چیئر مین احمد فراز نون کے دایاں بازو خواجہ شعیب الحسن کی کال آئی کہ ملنا چاہتے ہیں ،پھر تھوڑی ہی دیر بعد وہ ایک اور سرگرم نوجوان رہنما عامر گل خان کے ہمراہ تشریف لائے ۔غصے سے بھرے دونوں نوجوان جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کے مسئلہ پر سیخ پا تھے ،جو آدھا ملتان اور آدھا بہاولپور میں قائم کرنے کے جتن ہورہے ہیں بلکہ سنا ہے قیام عمل میں آچکا ہے ،وہ اس کے خدوخال کے بارے شدید تحفظات کا شکار تھے اور اپنے آئیندہ لائحہ عمل کے بارے میں انتہائی کنفیوز بھی ۔جب میں نے کہا یہ لولی پاپ آپ کو عطا کر دیا گیا ہے ،تو دونوں اور بھی دلفگار و دل شکستہ ہوئے ۔
موسم گرما کی ملتان کی دوزخ برابر رات آدھی سے زیادہ ڈھل گئی تھی ،مگر ان کا غصہ نہیں ٹل رہاتھا ،سرائیکی صوبہ محاذ کے کردار اور اپنے اس عمل پر کبیدہ خاطر کہ ملتان والوں نے پی ٹی آئی کو فقط شہر ہی میں نہیں پورے سرائیکی وسیب بھر میں بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا ،اس پر مستزاد حکومت بنانے میں سرائیکی صوبہ محاذ کی حمایت ،یہ سب طاقِ نسیاں پر رکھ دیا گیا ،سرائیکی وسیب کے واسیوں کے بنیادی مطالبات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ملتان سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی کے چھ ممبر قومی اسمبلی اور بارہ پنجاب اسمبلی کے ممبرز صفحہ ہستی ہی سے غائب ،سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان کے چیئرمین احمد فراز نون اپنی جدوجہد پر سراپا احتجاج کہ ” صوبہ محاذ کا تحریک انصاف میں ضم ہونے کے موقع پر عمران خان سے جو تحریری معاہدہ ہوا وہ سول سکریٹریٹ کا نہیں الگ صوبے کے قیام کا ہوا تھا ،جبکہ صورت حال یہ پیدا کی جارہی ہے کہ ملتان اور بہاولپور کے عوام کو آپس میں لڑادیاجائے“۔
سرائیکی شطرنج ِ سیاست پر مہرے اپنی اپنی چال چل رہے ہیں ،پی ٹی آئی کے ممبر پنجاب اسمبلی ندیم قریشی وپارلیمانی سیکٹری اطلاعات پنجاب وترجمان حکومت پنجاب اپنی جدوجہد پر نازاں کہ ان کے قائد عمران خان نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے قیام کی صورت میں سرائیکی صوبے کے قیام کی بنیاد رکھ دی ہے ،مگر پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی احمدحسین دیہڑ نے یہ کہہ کر سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے موقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ” شاہ محمود نے حق ادا نہیں کیا ، لہٰذا وسیب کے ارکان اسمبلی ملتان میں سیکریٹریٹ کے لئے متحد ہوں “۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ”صوبے کیلئے قائم فیڈرل کمیٹی میں شاہ محمود خود شامل ہیں مگر باقی ایم این ایز کو دور رکھا گیا ہے،مزید یہ کہ اسی فیصد ضلعی کارپوریشن فنڈز بھی ان کے حلقے میں خرچ کئے جارہے ہیں “۔
ان اعترافات و منکرات کی صورت حال میں وسیب کے نوجوانوں میں بے چینی اور اضطراب کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے،پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی احمد حسین دیہڑ نے پارٹی موقف کے خلاف بیان جاری کر کے وزیر اعظم کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرائیکی صوبے اور دو سیکریٹریٹس کے حوالے سے پیدا ہونے والے تحفظات پی ٹی آئی کے لئے مستقبل میں جنوبی پنجاب کے مرکزی شہر ملتان میں نمایاں کامیابی کے حوالے سے نوشتہ دیوار ہیں۔
فیس بک کمینٹ

