میری بڑی بہن صداقت آپی تین روز پیشتر کراچی میں انتقال کرگئیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون، میری والدہ ماجدہ بیمار رہتی تھیں چنانچہ میری زیادہ دیکھ بھال میری بڑی بہنوں نے کی، امرتسر سے 1947ء میں ہجرت کرکے ہم وزیر آباد آئے، اس وقت میری عمر چار برس تھی ۔کچھ عرصے بعد مجھے غلہ منڈی میں واقع ایم سی پرائمری اسکول میں داخل کرایا گیا۔اسکول جانے سے پہلے صداقت آپی میرا منہ دھلاتیں، بالوں میں کنگھی کرتیں، آنکھوں میں سرمہ ڈالتیں اور یوں ان کے گھرانے کا ’’شہزادہ‘‘ اسکول جانے کےلئے تیار ہو جاتا، میں اور بھائی جان ضیاء الحق قاسمی (مرحوم) چھ بہنوں کے دو بھائی تھے۔میں چونکہ چھوٹا تھا چنانچہ مجھے ’’شہزادہ‘‘ کا نِک نیم دیا گیا، اس کے بعد میرے بھانجھےاور ان بھانجھوں کی شادیاں ہونے کے بعد میں سب کا ’’شہزادہ ماموں‘‘ بن گیا اب خاندان کی کسی شادی میں شریک ہوتا ہوں تو چاروں طرف سے شہزادہ ماموں آ گئے ،شہزادہ ماموں آگئے کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ،کیپٹن (ر) جاوید پیرزادہ، سید امجد بخاری اور عتیق میر یہ تینوں مجھ سے شاید تھوڑے ہی چھوٹے ہیں، مگر میں ان کا بھی شہزادہ ماموں ہی ہوں۔
صداقت آپی بہت خوش قسمت تھیں ،ﷲ نے ان کو سات سعادت مند اور فرمانبردار بیٹے سید امجد بخاری،سید ارشد بخاری، سید مظہر بخاری، سید اطہر بخاری، سید اظہر بخاری، سید نوید بخاری اور سید ندیم بخاری کی صورت میں عطا کئے۔ان کے علاوہ دو بیٹیاں بھی ہیں اور ان سب نے حسب مقدور ان کی خدمت کی۔صداقت آپی کے شوہر سید سلیمان شاہ بخاری کا گوجرانوالہ میں بڑا کاروبار تھا بعد میں ان پر تنگی کے دن بھی آئے، مگر صداقت آپی بہت ﷲ والی تھیں انہوں نے امارت اور عسرت کے دونوں زمانے ﷲ کا شکر ادا کرتے ہوئے گزارے، پنجپنجگانہ نماز اور دیگر عبادات میں کبھی کوتاہی نہیں کی، بلکہ مولانا بہائوالحق قاسمی ؒکی صاحبزادی اور مفتی اعظم امرتسر مفتی غلام مصطفیٰ قاسمی کی پوتیاں ہونے کی لاج رکھتے ہوئے اگرچہ سب بہنیں پابند شریعت تھیں ،مگر صداقت آپی اس معاملے میں سب سے آگے تھیں، برقع تو سب بہنیں پہنتی تھیں مگر صداقت آپی نے تو حد کر دی تھی، وہ فیملی فنکشن میں بھی چہرہ ڈھانپ کر رکھتی تھیں، تصویر تک نہیں اترواتی تھیں، میں نے ایک دفعہ ایک فیملی پکچر کا سوچا مگر آپی چہرے سے نقاب ہٹانے پر تیار نہ تھیں چنانچہ پیشتر اس کے کہ وہ اپنا چہرہ ڈھانپتیں’’کمانڈو ایکشن‘‘سے انہیں اس کوشش میں کامیاب نہ ہونے دیا گیا۔
میں صداقت آپی سے امرتسر کی باتیں کرید کرید کر پوچھا کرتا تھا کہ امرتسر میری یادداشت میں بہت کم تھا۔ آپی بتاتی تھیں کہ ہم بہنیں گھر پر ہی رہتی تھیں، ہمارے گھر کے بالکل سامنے امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری ؒ کا گھر تھا ،درمیان میں چند فٹ کی سڑک تھی۔ شاہ صاحب ؒ کی صاحبزادیوں سے بہنوں کی دوستی تھی چنانچہ وہ ایک دوسرے کے گھر آتی جاتی تھیں بلکہ ایک یادکی جھلک سی میرے ذہن میں بھی موجود ہے کہ میں شاہ صاحب ؒ کے گھر گیا ہوں وہ بان کی چارپائی پر صرف دھوتی پہنے لیٹے ہیں، انہوں نے مجھے اپنے پیٹ پر بٹھایا ہوا ہے اور پیٹ اوپر نیچے اچھال کر خود بھی ہنس رہے ہیں اور ظاہر ہے میں بھی ہنس رہا ہوں، تاہم آپی نے مجھے ایک عجیب بات بتائی، ظاہر ہے ابا جی ؒمذہب کے پرچار ک ہی نہیں اس پر عمل پیرا بھی تھے مگر وہ تنگ نظر نہیں تھے اور انسانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایک دفعہ محلے میں ایک شودر ہندو کی بیوی وفات پا گئی اس کی بیٹیوں اور دیگر اہلخانہ کا رو رو کر برا حال تھا، عورت کا شوہر بھی گھر پر نہیں تھا اور وہ بے یارومددگار چیخ وپکار کر رہی تھیں مگر ’’اعلیٰ خاندان‘‘ کے ہندو ایک شودر کے گھر پُرسہ دینے کے لئے کیسے جا سکتے تھے؟ ابا جی ؒ کو پتا چلا تو انہوں نے بیٹیوں سے کہا کہ ان کے گھر جائو انہیں دلاسا دو اور انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتو ان سے پوچھ کر مجھے بتائو چنانچہ ان کے گھر کھانا بھیجا گیا اور جب تک اس عورت کا شوہر گھر واپس نہیں آیا، میری بہنیں وہاں موجود رہیں۔
آپی نے مجھے ایک اور عجیب بات بتائی تھی، جب 47میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوئے اور مسلمان بہو بیٹیاں درندوں کی ہوس کا نشانہ بننے لگیں تو ابا جی اپنی بیٹیوں کو ایک قریبی کنوئیں کے قریب لے گئے اور کہا ’’بچو ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے اگر تم کبھی محسوس کرو کہ عزت کی موت کا وقت آ گیا ہے تو یہ کنواں تمہاری عزت کی حفاظت کرے گا۔ذلت پر عزت کو ترجیح دینا، ﷲ تعالیٰ میری پیاری آپی کی قبرکو نورسے بھر دے۔
پس نوشت: مجھے جنازے میں شرکت کے لئے ایمرجنسی میں کراچی جانا پڑا، جہاز کی ٹکٹ نہیں مل رہی تھی۔ میرے دیرینہ دوست اور سینئر موسٹ کالم نگار عبدالقادر حسن کے صاحبزادے اطہر عبدالقادر حسن نے کسی نہ کسی طرح تین ٹکٹوں کا بندوبست کر دیا۔ عذیر احمد کا بھی شکریہ کہ میری بہن کی تعزیت کے لئے وہ بھی میرے ساتھ کراچی گئے اور اپنے یونیورسٹی فیلو اور لاجواب دوست اشرف شاہین نے مجھے کراچی ایئرپورٹ پر ریسیو کیا اور دو دن کے لئے اپنی کار اور ڈرائیور میرے ڈسپوزل پر دے دیے !
( بشکریہ : روزنامہ جنگ)

