عجب تماشا سا ہے جو صبح شام ہماری آنکھوں کے سامنے برپا ہے،ہوش ربا مناظر ہیں جنہیں دیکھ کر کبھی دل ڈوبتا ہے ،کبھی
آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں ۔ایک حشر برپا کیا ہوا ہے ہر طرف کے یارانِ سر پل نے ،جیسے سبھی کو جمہوریت کے ماحول میں جینے کے قرینے بھول گئے ہوں ،جیسے سبھی نے آنکھوں پر اپنے اپنے مفادات کی پٹیاں چڑھا لی ہوں ۔سارے سرپٹ دوڑ رہے ہیں کوئی اقتدار بچانے ،کوئی حصول ِ اقتدار کی ہوس میں حکومت کو تخت و تاراج کرنے اور کوئی رات دن لہو کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے لہو کا خراج وصول کرنے کی تگ و دو میں ہے۔
عوام پھٹی آنکھوں سے سب دیکھ رہے ہیں اور اس سوچ میں گم ہیں کہ جیتنے والوں کی ہار ہوگی یا ہارنے والوں کی جیت۔ ایک وہ ہیں جن کے رابطوں کو ان کے اپنوں نے سبوتاژ کیا ،دوسرے وہ ہیں جو رابطوں کی راہ ہموار ہونے پر بغلیں بجاتے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ دونوں ایک ہوکر بھی الگ الگ ہیں دونوں پورا پورا حصہ لینے پر تلے ہیں ،مگر بانٹنے والے اتنے بھی نا آسودہ ذہن نہیں کہ ہوس کاروں کو اپنے کندھوں پر سوار کرلیں اور جو آسانی سے مل رہا ہے وہ گنوا بیٹھیں۔
آج فیض احمد فیض زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ کسی انقلاب کے بغیر دھرتی تھر تھر کیسے کانپتی ہے،پھر تاج اچھالے جانے اور تخت گرائے جانے کے خواب ہی سے دست کش ہوجاتے کہ یہ ہم جیسی قوم کے بس کی بات نہیں ،جس کے لیڈر الیکشن میں ہار جانے کے غم میں ملکی سلامتی داﺅ پر لگانے پر تل جاتے ہیں ،جس کے رہبر اقتدار میں ہوں تو لوٹ مار کرتے ہیں ،زمام اقتدار چھن جائے تو بیماری کے بہانے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے نہ صرف نظریاتی سرحدوں کی پامالی کا فریضہ
سر انجام دیتے ہیں بلکہ جغرافیائی سر حدوں کو بھی متنازع بنادینے کا بیانیہ پیش کرنے سے نہیں چوکتے۔وہ جن کے پالنوں میں انہوں نے پرورش پائی انہی کو قوم و ملک کا دشمن ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ۔
مصحفِ تاریخ میں لکھے حقائق کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا،اپنی حاکمیت کا سورج ڈوبنے کے بعد مگر سچ کا راگ الاپنا اپنی نالائقی پرمہر تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہے،یہ اپنا اور اپنی جمہوریت پسندی کا دفاع کرنا نہیں بلکہ جمہور کے دیئے حق حکمرانی کو اپنے مفادات پر قربان کرنے کا واضح ثبوت ہے اور معروضی حقائق پر ملمع سازی کا شاخسانہ ہے ۔آخر کب تک ہمارے سیاستدان جمہوریت کے چیمپیئن کا سوانگ رچا کر اپنی حرص و ہوس کا کھیل جاری رکھیں گے اور آخر کب تک خاکیوں کی روش یہ رہے گی کہ انہیں پال پوس کر پتلیوں کاروپ دیکر دھاگے اپنی انگلیوں سے باندھے انہیں نچاتے رہیں گے۔نظریاتی سرحدیں مضبوط کرنے کے لئے پتلیاں نچانے کا یہ کھیل ختم کرنا ہوگا،بصورت دیگر نہ جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنے گا نہ جمہوری اقداروروایات کی آبیاری و پاسداری ہو سکے گی ۔انس نورانی جیسے بزرجمہروں کی زبانیں لڑکھڑاتی رہیں گی،میاں نواز شریف کا بغض وعناد پروان چڑھتا رہے گا،مولانا کا غصہ فروترہوتارہے گا ،قوم پرستوں کے نعرے وطن کی فضاﺅں کو یونہی مکدر کرتے رہیں گے۔جمہوریت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے حوصلوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے ۔آج حاکم غلطیوں پر غلطیاں کرتے جارہے ہیں کل ووٹ کی پرچی سے ان سے حساب چکانے کے لئے محنت کی جانی چاہیئے نا کہ اچھی یابری جمہوری حکومت کو اوندھ منہ گرا کر غیر دانشمندانہ طریقے سے ،غیر جمہوری انداز میں جاں خلاصی کے اسباب پیدا کئے جائیں۔ جہاں تک عسکری قیادت کو نشانہ بنانے کا تعلق ہے یہ بھی غیر صحتمندانہ رویہ ہے ۔اس پر اندرون ملک بیٹھ کر فکرو نظر کی بنیاد پر نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے ناکہ بیرون ملک بیٹھ کر چیخ وپکار کرنے کی ضرورت ہے ،جو ایک اہم ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش تو ہوسکتی ہے کہ جس پردشمن کامیڈیا بھی بھد اڑاتا ہے۔اس قسم کے غیر سنجیدہ سوقیانہ بیانات کو کسی سیاسی بیانیئےکا نام ہر گز نہیں دیا جا سکتا کہ جس سکے ردعمل میں غداری کے فتووں کے رواج کوفروغ ملے۔ حزب اختلاف سے اس کے اختلاف کاحق چھیننا بھی اخلاقی گراوٹ ہے ،جس پر عمران حکومت کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ فقط جمہوریت ہی کے لئے نہیں قومی سلامتی کے لئے بھی خطرے کا سبب بن سکتا ہے کہ سیاستدانوں کا یہ سلوگن رہا ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کہ یہ معذور جمہوری حکومت
آمریت کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے ،اسلئے اسے معزول ہوجانا چاہیئے تو یہ اس کی سوچ کا مثبت پہلو نہیں ہے۔
فیس بک کمینٹ

