ہم نے کورونا ویکسین لگوانے سے پہلے اپنے ” خبط عظمت“ سے سو بار پوچھاکہ کیا ہم سائنو فارم جیسی بے ضرور ویکسین لگواکر امیروں کے سامنے شرمندہ تو نہیں ہوجائیں گے ۔۔۔غریبوں سے کیا کہیں گے کہ ہم روسی سپوٹنک نہیں ۔۔چینیوں کی سائنو فارم لگوا لائے ہیں ۔۔ایک ملگجا بدنما غریبانہ سا کارل مارکس کے نظریات جیسا خیال ہمیں ویکسین سے پہلے ہی چکرائے دینے لگا ۔۔۔” کہوں کس سے میں کہ کیا ہے ۔۔یہی خبط اک بلا ہے“ ۔۔۔
سچ پوچھئیے یہ خبط عظمت بھی کورونا وائرس کی طرح کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی انسانی جسم میں داخل ہوکر سب سے پہلے اس کی مت مارتا ہے اور بعد میں امت ۔۔۔اور سب پوچھتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کیا ہوا ؟؟؟کیسے ہوا ؟؟؟کب ہوا ؟؟؟؟کیوں ہوا ؟؟؟کوئی نہ جانے ۔۔۔کورونا کی طرح یہ ”جینڈر لیس “ حملہ آور صرف قوت مدافعت کمزور نہیں کرتا بلکہ ذہانت شرافت اور فراست کو بھی ملیامیٹ کرڈالتا ہے یہ دنیاکی ہر عورت اور ہر مرد میں اپنی اپنی کم ظرفی کے مطابق زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے اور یہ عشق ہائےجنت دکھائے ہاں ہو راما کے راگ الاپ کر نار سیسس کی طرح صرف اپنی ذات سے محبت کی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے۔۔۔ بر صغیر کے اساطیری خطے میں یہ” خبط عظمت “اپنی پوری شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے میں نہ مانو ں۔۔۔میں کسی سے کم نہیں ۔۔۔میں ہوں نا ۔۔۔میں ہی تو ہوں ۔۔جیسے نعرے ہر وقت اس میں مبتلا رہنے والوں کےمن میں کوفتوں کی طرف پکتے رہتے ہیں ۔۔خبط عظمت والے دو نفلی عبادت ذرا زیادہ فرمالیں تو یہی خبط عظمت انہیں عام مسلمان سے مفتی کے درجے پر فائز کرکے ہر لاچار مجبور پر فتوی صادر کرنے پر اکساتا رہتا ہے ۔۔۔اور ان کے سامنے مزاحمتی بندہ بشر کافر اور اگر کوئی حسین ہو تو کافر ادا نظر آنا شروع ہوجاتا ہے ۔۔۔”خبط عظمت “ایک بیماری ہے۔۔ ایک کیفیت ہے یا ایک علت ثابت ہے کہ اس کا گذا را باشعور ہم زاد یا زندہ ضمیر سے ہرگز نہیں ہوتا کیوں کہ اس کی سب بڑی خصوصیت یہی ہے کہ
ناکامئ عشاق کے افسانوں کو سن کر
دم مار کے سنتا ہے تاسف نہیں کرتا
بھرے بازار میں اے سی والی گاڑی میں بیٹھ کر روزہ بہلائیے یا پھر روزہ نہ بہلاتے ہوئے بھرے بازار میں ”اے سی“ پر اپنی گرمی نکالیے یہ خبط عظمت ہمیں اندر سے چین نہیں لینے دیتا ۔۔۔۔یہ جانتا ہی نہیں کہ
”خبط میں گرفتار نہیں بھی ہوتے…. لوگ کچھ باعث آزار نہیں بھی ہوتے۔۔۔۔“
مگر خبط عظمت کے شاہکار یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ
مجھ سے کیا بےزار ہوں گے وقت کے یہ راہبر
میں تو ان بہروپیوں سے آپ ہی بے زار ہوں
۔۔۔۔خبط عظمت کا جرثومہ کسی عفریت کی مانند جس دل میں داخل ہوجائے تو کسی دو کی لڑائی میں ثالث کو ہی جوتے کھلواتا ہوا سکھ سانس لیتا ہے۔۔سچ پوچھیے تو خبط عظمت ۔۔۔۔ یہ کورونا سے بہت پہلے ہم میں بدرجہ اتم موجود تھا مگر کورونا کے بعد تو جیسے اس نے جینا حرام کردیا ۔۔ایک طرف کورونا اس پر خبط عظمت کی داستان کھوسٹ و ڈھٹائی۔۔ کچھ فتنے قسم کے بزرگ فرما گئے ایسی رائی کا کیا فائدہ جو کبھی پہاڑ نہ بن سکے مگر وااااہ خبط عظمت ۔ہمیں ہر طرف تنہا مسائل کا پہاڑ دکھلانے اور خود کو نطشے کا سپر مین ثابت کرتے ہوئے کہتا ہے ۔۔۔۔عیش ہی عیش ہورہا ہے میاں ۔۔۔۔۔
ہر کوئی کیش ہورہا ہے میاں ۔۔۔۔۔اور دوسری طرف نادار غریب آواز بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
جناب
برف جمنے لگی ہے زخموں پر
۔۔سرد سب طیش ہورہا ہے میاں ۔۔۔فوٹو سیشن پہ زور ہے اپنا
کام بس ڈیش ہورہا ہے میاں ۔۔۔۔۔۔
اور کوئی ذرا سا بھی شاعر وادیب ہوجائے تو خبط عظمت اسے صدارت کے چکنے گھڑے پر بٹھا کر ہی دم لیتا ہے ۔۔اور ایک سچا فن کار بھول جاتا ہے کہ بے نتیجہ چاپلوسی اور بلا کام خوشامد کا دنیا میں وجود نہیں ۔۔۔یہ کرسی کی خواہش عمر بھر جھوٹوں کا عادی بنا کر چھوڑتی ہے ۔۔ایسا فن کار بھی کیا فن کار ہوا کرتا ہے ۔۔۔مگر ہائے ہائے یہ خبط عظمت ۔تو ہم بات کررہے تھے کورونا ایس او پیز کی جو ہماری خبط عظمت کی شکار عوام سمجھتی ہے کہ یہ ایس او پیز بھی چینی کی طرح کلو کے حساب سے ملتے ہیں تو ہم کیوں خریدیں ۔۔۔؟۔بھئی ماسک پہن لیجیے ۔باہر کی دنیا چیختی ہے ۔۔۔تو خبط عظمت کے مارے اور ماریاں کہتے ہیں کہ کیوں بھئی چین کی سازش میں ہم کیوں شریک ہوں ۔اتنی صاف ستھری کھانسی ہے ہماری اب ہم چھنیکیں بھی نا ؟؟؟؟اچھا تو ہاتھ تو دھو لیجیے؟؟؟؟؟ نہیں ہم تو ویسے ہی پاک صاف پیدا ہوئے ہیں ۔اچھا سینیٹائٹزر ہی لگالیجیے ۔۔ نہیں یہ کفار کی سازش ہے ۔۔۔۔اچھا باہر مت گھومئیے بے وجہ ۔۔۔۔کیوں بھئی۔۔۔؟؟؟؟ کسی کے باپ کی سٹرک ہے ۔۔۔۔اچھا ایک مریض اور ایک تیمادار ہوں تو ہسپتال میں عملہ مریض کے ساتھ اچھا رہتا ہے ۔۔۔سمجھیے حالات کو ۔۔۔اب کورونا مان لیا چینیوں کی سازش ہے ۔دنیا کی معشیتوں کو کنڑول کرنے کی اور اس میں بل گیٹس بھی ملوث ہے ۔۔چلو مان لیا مگر اب یہ پھیل تو گئی ہے نا ۔۔۔۔ یہ پھوپھو خالہ چاچے تائے سب کورونا میں مبتلا ہوگئے تو کوئی ایک سنبھالنے والا تو ہو بقایا نفری کو ۔۔اس لیے ایک دو بندے جائیں اسپتال ۔۔۔
۔۔۔۔بھئی اچھی کہی واہ اپنے مریض کو اکیلا کیوں چھوڑیں ؟؟؟بل گیٹس کی چپ فٹ ہورہی ہے ۔۔کم بخت کو اس کی اپنی بیوی نے اسی وجہ سے چھوڑ دیا۔۔۔آنے جانے پر نظر رکھو ا رہا تھا چپ کے ذریعے ۔پتہ نہیں گردے دل میں ایسی چپ مفت میں لگوادیں ابا میاں کو۔۔۔۔۔ارے ۔۔۔بتائیے ذرا ۔مرنے سے پہلے مرنے کوچھوڑ دیں ۔۔۔ چھوڑ دیں اس کورونا کی خاطر ۔۔۔ہم نہ سوجائیں کہیں داستاں کہتے کہتے ۔۔۔۔۔بھئی ذرا ٹفن بنا لو اور ہمارا بستر بھی ۔۔۔۔۔۔اور تو اور ویکسینشن سنٹر میں
خبط عظمت والی خالہ نے سب سے کہا اگرویکسین لگوانے کے بعدبھی آپکا کرونا ٹیسٹ مثبت آجاۓ توسمجھ لیں آپ انسان نہیں گدھے ہیں کیونکہ ویکسین انسانوں کے لیے ہے جانوروں کے لیے نہیں۔۔۔۔۔
چلو سیدھی چالیں چلو کہ الو ہوں ٹیڑھا
بڑے ناسمجھ ہیں یہ کیا چاہتے ہیں ۔۔ رند کے رند رہیں اور جنت بھی ہاتھ سے نہ جائے ۔۔ایسے خبط عظمت سے چھٹکارا پائے اس آئینے کو توڑ ڈالیے جو آپ کو عاجز نہیں بلکہ اپنے تقابل میں اجارہ دار دکھلاتا ہے ۔۔۔اگر خبط عظمت کا یہ آئینہ آپ کے اپنے ضمیر نے توڑ ڈالا تو ”کسے دیکھ کر آپ شرمائے گا .“…..“صائمہ نورین بخاری
فیس بک کمینٹ

