یہ 2016 کی بات ہے. ان دنوں میں شوکت خانم ہسپتال لاہور میں کام کرتا تھا اور میری رہائش ماڈل ٹاؤن میں تھی ۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والے لاہور میں مقیم ایک شاعر سے اس دور میں میری دوستی ہو گئی۔ وہ مجھے اکثر ہفتے کے روز فون کر کے اپنے حلقہ احباب میں شرکت کی دعوت دیتے تھے ۔ ان کا کم و بیش تمام حلقہ شدید یوتھیا اور فوج پرست تھا ۔ مجھ سے دوستی بڑھانے کی بھی غالباً یہی وجہ ہو گی کہ میں ان کے عظیم رہنما عمران خان کے ہسپتال میں ملازم تھا ۔ لیکن فوج کے بارے میں میرے خیالات، میرے اشتراکی نظریات اور شوکت خانم ہسپتال کی اندرونی کہانیاں سن کر انہیں مجھ سے سخت مایوسی ہوئی ۔
اس ادبی گروہ میں ایک ڈاکٹر صاحب بھی ہوا کرتے تھے۔ وہ ڈاکٹری کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری بھی کرتے تھے. ان کا سیاسی نظریہ یہ تھا کہ فوج ایک مضبوط اور منظم ادارہ ہے۔ ہمیں اس ادارے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور اس کی ترقی سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فوج کے خلاف بولنے کی بجائے اپنے تمام ادارے اس کی طرح مضبوط کریں ۔ یہی پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ ان دنوں ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا بھی یہی بیانیہ ہوا کرتا تھا۔ اس بیانیے کے دفاع میں وہ اپنے شعبے کی مثال دیتے تھے کہ جب سے وہاں ایک نئے سربراہ نے باگ ڈور سنبھالی ہے وہ شعبہ ترقی کی راہ پر چل نکلا ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد غالباً یہ تھا کہ عمران خان جونہی ملک کا وزیراعظم بنے گا وہ ملک کے سب اداروں کو فوج کے برابر لا کھڑا کرے گا اور یوں ملک خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔ ان کے ان خیالات اور فوج پرستی کی وجہ سے ایک دفعہ میری ان سے شدید تلخ کلامی بھی ہوئی۔
ایک صبح مجھے ہسپتال کے لیے نکلنا تھا اور بیگم کو گاڑی چاہیے تھی تو انہوں نے میرے لیے کریم بک کروا دی۔ میں کریم میں بیٹھا تو یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ کریم کے ڈرائیور وہی یوتھیے ڈاکٹر صاحب تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ شرمندہ ہو گئے ۔ ان کی شرمندگی دیکھ کر میں نے ان کی تعریف کی کہ ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے وہ روزی کمانے کے لیے ٹیکسی چلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ وہ کہنے لگے کہ وہ شوقیہ کریم چلاتے ہیں کیونکہ انہیں طرح طرح کے لوگوں سے ملنا اچھا لگتا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی گاڑی کے پیٹرول کا خرچ بھی نکل آتا ہے۔
یہ سب پوسٹ کرنے کا مقصد یہاں ان ڈاکٹر صاحب کی تضحیک کرنا ہرگز نہیں ہے. میں یہاں یہ سب صرف یہ بتانے کے لیے لکھ رہا ہوں کہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں ایک تعلیم یافتہ مڈل کلاسیے کے لیے اپنا گھر چلانا کس قدر مشکل ہے۔ وہ ڈاکٹر صاحب اس وقت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے دن میں سرکاری نوکری کرتے تھے، شام کو کلینک میں بیٹھتے تھے اور اس کے بعد ٹیکسی بھی چلاتے تھے۔ اس کے باوجود وہ اس نظام کو واحد قابل عمل نظام سمجھتے ہوئے محض اصلاحات کے قائل تھے. آج پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لوگوں کے معاشی حالات بد سے بدتر ہو گئے ہیں۔ مہنگائی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ مزدور کی تنخواہ دو لاکھ مقرر کرنے کا وعدہ کرنے والے عمران نے اس کی تنخواہ صرف 20000 روپے ماہانہ مقرر کی ہے۔ صحت اور تعلیم کا نظام نجی ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، لوگ بھوک اور قابل علاج بیماریوں سے مر رہے ہیں۔ لیکن وہ ڈاکٹر صاحب اور ان جیسے ہزاروں مڈل کلاسیے آج بھی اس استحصالی نظام کے حامی ہیں۔ اسے نفسیات کی زبان میں اسٹاک ہوم سنڈروم کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں سے محبت کرنا جو ان کے ابتر حالات کے ذمہ دار ہیں۔
فیس بک کمینٹ

