امریکہ کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت نے کہا ہے کہ اُنھوں نے صدر جو بائیڈن کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکہ کے کم از کم 2500 فوجی برقرار رکھیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے اور امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینیتھ مکینزی نے کہا کہ اُنھوں نے ذاتی طور پر افغانستان میں 2500 امریکی فوجی برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔
واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن نے 19 اگست کو اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہویے اصرار کیا تھا کہ اُنھیں یاد نہیں کہ کسی نے اُنھیں ایسا مشورہ دیا ہو۔
جنرل ملے، جنرل مکینزی اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن سے سینیٹ کی کمیٹی برائے مسلح افواج نے چھ گھنٹے تک افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر افراتفری سے انخلا کے بارے میں سوالات کیے۔
امریکی پارلیمان میں گذشتہ ماہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر اعلیٰ ترین امریکی حکومتی عہدیداروں اور فوجی قیادت کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کابل میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کے باعث وہاں حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی جانب سے اس سماعت کا انعقاد کابل ایئرپورٹ پر ہنگامی انخلا کے چند ہفتوں بعد کیا گیا جہاں غیر ملکی طاقتیں اپنے شہریوں کو گھر واپس لانے کی کوشش کرتی رہیں اور ہزاروں مایوس افغان خود کو ریسکیو کیے جانے کی اپیلیں کرتے رہے۔
انخلا کے اس آپریشن کے دوران 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں 169 افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔
منگل کو کمیٹی کی کارروائی کا آغاز ہوا تو پہلے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور پھر اس کے بعد جنرل مارک ملے نے اپنے بیانات دیے۔
جنرل ملے کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اس سفارش سے اتفاق کیا تھا مگر جب رپبلکن نمائندے ڈین سلیوان نے اُن سے پوچھا کہ کیا صدر بائیڈن کا بیان ‘جھوٹا’ تھا تو اُنھوں نے براہِ راست جواب دینے سے احتراز کیا۔
کچھ رپبلکن نمائندوں نے جنرل ملے سے مطالبہ کیا کہ وہ استعفیٰ دے دیں تاہم اُنھوں نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا ہے کہ صدر کو افغانستان سے متعلق ‘تقسیم’ رائے ملی تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ ‘بالآخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے۔ اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔’
اُنھوں نے کہا کہ اگر اگست میں انخلا کی ڈیڈلائن کے بعد بھی فوجی افعانستان میں رہتے تو اس کا مطلب طالبان سے امریکہ کی جنگ ہوتا۔
‘صدر بائیڈن جوائنٹ چیفس اور فوج کے مخلصانہ مشوروں کی قدر کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔’
جنرل مارک ملے نے کہا: ‘مجھے لگتا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے اتحادی، شراکت دار اور مخالفین ہماری ساکھ کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کریں گے، اور میرا خیال ہے کہ ‘نقصان’ وہ لفظ ہے جو بالکل استعمال کیا جا سکتا ہے۔’
اُنھوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں موجود القاعدہ کے دہشتگرد 12 ماہ کے اندر اندر امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
جنرل ملے کا کہنا ہے کہ اب افغانستان سے ہونے والے شدت پسند حملوں سے امریکیوں کو بچانا مشکل ہوگا۔
انھوں نے کہا ’طالبان ایک شدت پسند تنظیم تھی اور ہیں اور انھوں نے القاعدہ سے روابط ختم نہیں کیے ہیں۔‘
سینیٹر اور کمیٹی لیڈر جیک ریڈ کا کہنا تھا کہ امریکی قانون ساز یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کیا امریکہ کابل میں حکومت گرنے سے متعلق ’اشاروں سے بے خبر‘ رہا۔
جنرل ملے نے کہا کہ وہ 2020 کے اواخر میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ افغانستان سے فوجیوں کے تیز تر انخلا سے افغانستان کی حکومت منہدم ہو سکتی ہے۔
مگر اُنھوں نے اور وزیرِ دفاع آسٹن دونوں نے کہا کہ افغان حکومت جتنی تیزی سے ختم ہوئی، اس سے امریکی فوج ہکا بکا رہ گئی۔
آسٹن نے کہا: ‘ہم نے ریاست کی تعمیر میں مدد کی مگر ہم ایک قوم نہیں بنا سکے۔’
‘ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے جس افغان فوج کی تربیت کی تھی اس کے کئی جگہوں پر ایک گولی بھی چلائے بغیر ختم ہوجانے سے ہم سب حیران رہ گئے۔’
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ امریکہ نے افغان فوج کو ‘ساز و سامان، طیارے اور انھیں استعمال کرنے کی تربیت’ فراہم کی تھی مگر ‘ہم اُنھیں جیتنے کا ارادہ نہیں دے سکے۔’
جنرل مارک ملے اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے پہنچ رہے ہیں
گیارہ ستمبر کے حملوں کے فوراً بعد امریکی افواج 2001 کے اواخر میں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ جب امریکی افواج افغانستان سے نکلیں تو اس وقت تک امریکہ افغان جنگ پر تقریباً 985 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ جنگ کے دوران وہاں دسیوں ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور سنہ 2011 میں امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد ایک لاکھ دس ہزار افغانستان میں تعینات تھی۔
طالبان کے کابل پر قبضے اور 31 اگست کی انخلا کی ڈیڈلائن کے درمیان چند ہفتوں میں امریکہ نے افغانستان سے اپنے چار ہزار فوجی واپس بلائے۔ اس دوران امریکہ نے فضائی آپریشن کے دوران 50 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں کا بھی کابل سے انخلا یقینی بنایا۔
جنرل مارک ملے کون ہیں؟
جنرل مارک ملے امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلیٰ فوجی مشیر بھی ہیں۔ وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ہیں۔ اس کمیٹی میں امریکہ کے آٹھ سینیئر ترین فوجی افسران شامل ہوتے ہیں۔
جنرل مارک ملے فوج کی ’چین آف کمانڈ‘ کا حصہ نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ افواج کو براہ راست کوئی حکم نہیں دیتے۔
تاہم وہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے درمیان رابطہ کار ہیں۔
سنہ 2019 میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف بننے سے قبل جنرل مارک ملے فور سٹار جنرل تھے اور آرمی چیف آف سٹاف کے عہدے پر تعینات تھے۔
وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن اور جنرل مارک ملے کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے
غداری کا الزام
خیال رہے کہ حال ہی میں جنرل مارک ملے نے ایک کتاب میں یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد اپنا دفاع کیا تھا کہ انھوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خدشات سے متعلق چین کو ‘خفیہ’ ٹیلی فون کالیں کی تھیں۔
جنرل ملے نے کہا تھا کہ گذشتہ جنوری اور اکتوبر میں کی جانے والی کالیں چینی فوج کو یقین دہانی کے لیے تھیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ دعوے من گھڑت ہیں جبکہ ریپبلکنز نے جنرل کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ انہیں جنرل ملے پر ‘بھر پور اعتماد’ ہے۔
جنرل ملے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کالیں ان کے ‘فرائض اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھیں تاکہ سٹریٹجک استحکام برقرار رکھا جا سکے۔’
ریپبلکنز سے تلعق رکھنے والے سینیٹر مارکو روبیو نے اسے ‘غداری’ قرار دیا تھا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

