میں بچپن سے مستقل بےچینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوں. ان مسائل کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں، وہ میں پھر کسی دن بتاؤں گا۔ میرے ان نفسیاتی مسائل کی تشخیص 2007 میں ہوئی۔ اس کے بعد میری زندگی میں بہت بہتری آئی اور اس معاشرے میں میں نے پہلے کی نسبت بہت مثبت کردار ادا کرنا شروع کر دیا ۔میرے ان مسائل کو میرے کسی عزیز یا دوست نے شناخت نہیں کیا۔ اس کا سہرا صرف اور صرف میری شریک حیات کے سر ہے۔ میرے یہ مسائل دواؤں کے باقاعدہ استعمال کے باوجود تین سال قبل شدت اختیار کر گئے تھے۔ اس دوران میں لندن چلا گیا جہاں میری تکالیف میں مزید شدت آ گئی۔ میں بہت افسوس سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ لندن کے ماہر امراض نفسیات میری مناسب تشخیص اور علاج کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔اس سے بھی بڑھ کر افسوس مجھے اس بات کا ہے کہ لندن میں میرے ہسپتال نے اور پھر لندن سے واپسی پر لاہور میں میرے ہسپتال نے ان عارضی مسائل کا بہانہ بنا کر مجھے نوکری سے نکال دیا۔ میں نے اپنے نئے ہسپتال کو انٹرویو دیا تو انہیں بتایا کہ میں دوائیں لے رہا ہوں اور کافی حد تک صحتمند ہوں۔ میں اس ہسپتال کے عہدیداروں خاص طور پر ڈاکٹر شیمول اشرف کا بےحد ممنون ہوں جنہوں نے میری صلاحیتوں پر بھروسہ کیا اور مجھے اس نئی نوکری کے لیے منتخب کر لیا۔ مجھے نئی نوکری شروع کیے ہوئے دو ماہ ہو چکے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میری کارکردگی ٹھیک ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں بھی ٹھیک رہے گی۔ میں لاہور کے ماہر امراض نفسیات ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی، جو فیض احمد فیض کے نواسے ہیں، کا بھی بےحد شکرگزار ہوں جن کے علاج سے میں دوبارہ شفایاب ہوا۔
انزائٹی یا ڈیپریشن ہمارے ملک بلکہ دنیا بھر میں مختلف وجوہات کی بنا پر بہت عام نفسیاتی امراض ہیں۔ ہم ان امراض کو سوشل اسٹگما سمجھتے ہیں اس لیے انہیں ظاہر کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ مثلاً میری ایک کولیگ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں لیکن وہ ماہر نفسیات کے پاس صرف اس وجہ سے جانے سے کتراتی تھیں کہ اگر ایک دفعہ ان پر نفسیاتی مریضہ کا لیبل لگ گیا تو ان کا شوہر عمر بھر انہیں پاگل سمجھے گا۔ اسی نوعیت کی اور بھی بہت سی وجوہات مختلف معاشروں میں ان مریضوں کو طبی نفسیاتی مدد حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ میں ان امراض میں مبتلا رہا ہوں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف طریقہ ہائے علاج استعمال کر رہا ہوں۔
جن دنوں میں لاہور میں کام کرتا تھا، ہمارے ایک بہت قابل اور محنتی کنسلٹنٹ ڈاکٹر نے ذہنی دباؤ کی وجہ سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ چند ماہ پہلے ملتان میں ایک ماہر امراض نفسیات نے اپنی شادی شدہ ڈاکٹر بیٹی اور دو بچوں کی ماں کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ اس کی وجوہات جو بھی تھیں لیکن اس سانحے کے پیچھے یقیناً کوئی نفسیاتی مسئلہ کارفرما تھا۔ اس سانحے کے ایک ہفتے بعد انہی ڈاکٹر صاحب کے بھائی نے بھی مبینہ طور پر خودسوزی کر لی تھی۔
تین دن پہلے لاہور کے ایک مشہور ہسپتال کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر اور دو بچوں کی والدہ نے مبینہ طور پر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھریلو مسائل کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں جس کا اظہار ان کے آخری فیس بک اسٹیٹس سے بھی ہوتا ہے۔ ان ڈاکٹر صاحبہ نے بھی شاید کوئی نفسیاتی مدد حاصل نہیں کی ہو گی جس کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا اور ہم ایک قیمتی جان سے محروم ہو گئے۔
دورحاضر میں دنیا کے بہت سے افراد نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عمومی طور پر ان کی سب سے بڑی وجہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ نچلا طبقہ محرومی اور استحصال کا شکار ہے۔ آئے روز نچلے طبقے کے افراد مہنگائی اور بےروزگاری سے تنگ آ کر اپنے بچوں کو مار کر خودکشیاں کر رہے ہیں لیکن ہم ان خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نفسیاتی امراض کو سنجیدگی سے لیا جائے، ان کی وجوہات تک پہنچا جائے، یہ امراض بہت آگے بڑھنے سے پہلے ان کی تشخیص کی جائے اور ان کا بروقت علاج شروع کیا جائے۔
بدقسمتی سے نفسیاتی علاج بہت مہنگا ہے۔ جس شخص کو کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے وہ یہ علاج کروانے کے لیے پیسے کہاں سے لائے۔ اس لیے ان مسائل کا مستقل حل مقابلے، منافع، بھوک، بےروزگاری، بیماری، مہنگائی، استحصال، جبر اور سرمایہ دارانہ حاکمیت کے موجودہ نظام کا خاتمہ ہے۔اس نظام کے خاتمے تک ضروری ہے کہ ہم اپنی اور اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کی ذہنی صحت کا خیال رکھیں تاکہ وہ موجودہ سرمایہ دارانہ جبر اور ظلم کا مقابلہ کرنے کے قابل رہ سکیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ صحت کی سہولت کو مکمل طور پر فری کیا جائے، ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر پابندی لگائی جائے اور نجی ہسپتالوں کو قومی تحویل میں لے کر وہاں معیاری علاج ہر شخص کو سو فیصد مفت فراہم کیا جائے۔
فیس بک کمینٹ

