سال 2021ءکے آخری ہفتے میں اپنے گاؤں مقصود پور میں پہنچا تو اچانک خیال آیا کہ وہ کیسے دن ہو ں گے کہ جب 70ءکی دہائی کے اواخر میں میرے والدمحترم ممتاز حسین خان مرحوم نے تلاش روزگار کے حصول کے لئے مقصود پور کو خیربادکہہ کر ملتان شہر کا رخ کیا اوراسی شہر میں روزگار بھی سرکاری ادارے میں مل گیا۔ پھر وہ یہیں کے ہی مکین بن گئے اور زندگی کی آخری سانس تک اسی شہر میں رہے البتہ ان کی تدفین گاﺅں میں ہی کی گئی۔
ہم جب بچپن میں اپنے ابو کے ساتھ گاﺅں جایا کر تے تھے ۔اس وقت گاﺅں میں تین ماسٹر صاحبان ہوا کر تے تھے۔ماسٹر احمد خان اور ماسٹرمحمد نواز خان جو ریٹائر ہو چکے تھے ، ماسٹر ظفر علی خان آج بھی ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ نصف صدی سے اس گاﺅں کے تقریبا ہر گھر کاکوئی نہ کوئی فرد پاک فوج میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے خود میرے پھوپھا غلام علی خان مرحوم صوبیدار پاک فوج سے ریٹائر ہوئے اور پھر ان کے چھ میں سے پانچ بیٹے پاک فوج میں تعینات ہوئے مگر ان کا سب سے چھوٹا بیٹا ضیاءحسین بیماری کے باعث فوج میں شمولیت اختیارنہ کرسکا اور عین جوانی میں ہی اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔اب تو ان کی تیسری نسل یعنی ان کا پوتا بھی حال ہی میں پاک فوج میں بھرتی ہوا ہے۔
اس وقت میرے گاﺅں کے تمام گھر کچی مٹی سے بنے ہوئے تھے اور کسی بھی گھر کا بیرونی دروازہ نہیں تھا بلکہ آج بھی ایسے گھر انگلیوں پر ہی گنے جا سکتے ہیں کہ جن کا بیرونی دروازہ لگ چکا ہے مگر باقی کی پوری بستی کے تقریبا 90فیصد گھروں کا بیرونی دروازہ اب بھی نہیں ہے بلکہ خود ہمارے گھر کا بھی بیرونی دروازہ نہیں ہے اور بستی میں گارے یعنی مٹی کے گھر آج بھی موجود ہیں۔البتہ فرق یہ آیا ہے کہ بچپن میں ہم 5چک عیسائیوں والابس سٹاپ پر اترتے جہاں سڑک کے ساتھ ہی عیسائیوں کی ایک بستی بھی ہے اسی وجہ سے اس سٹاپ کو5چک عیسائیوں والا کہا جاتا ہے ۔ بس سٹاپ سے اتر کر گھر تک کچے پکے راستوں، کھیتوں اور پگڈنڈیوں سے گزر کر پیدل جاتے تھے حالانکہ یہ سفرپانچ سے چھ کلومیٹر پر محیط تھا اور راستے میں جہاں بھی ٹیوب ویل چل رہی ہوتی وہاں سے تازہ پانی پیتے اور کسی گھنے درخت کے نیچے بیٹھ کر کچھ دیر آرام کر لیتے تھے۔ وہاں اب سڑک بھی بن گئی ہے اور تقریبا ہر گھر میں موٹر سائیکل موجود ہے اور کچھ لوگوں نے اپنی ذاتی گاڑیاں خرید لی ہیں اور بیل گاڑی کی جگہ ٹریکٹر اور کنویں کی جگہ اب پیٹر انجن نے لے لی ہے۔ان دنوں صبح سویرے ہی بزرگ خواتین نماز و قرآن مجید کی تلاوت کے بعد مٹی کے گھڑے میں خالص دودھ کی لسی اور مکھن بناتی تھیں اور بعد میں دیسی گھی کے پراٹھے پکائے جاتے اور ان پر مکھن ، شکر یا پھر چینی اورتازہ چاٹی کی لسی کے ساتھ ناشتہ کیا جاتاتھا۔ جس گھر میں مکھن نہ ہوتا وہ غریب کہلاتے مگر اب مہنگائی نے دیہات میں بھی ایسا اثر دکھایا ہے کہ کسان گوالے سے ایڈوانس میں ہی قیمت وصول کر لیتے ہیں کہ وہاں بھی دودھ 90روپے لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے۔اس دور میں موبائل فون کا تصور بھی نہیں تھا بلکہ اس دور میں گاﺅں میں جس گھرکی دیوار پر کوا بیٹھ کر” کائیں کائیں “ کی صدا لگاتا تو یہ اس بات کی علامت سمجھا جاتا کہ آج اس گھر میں ضرور کوئی نہ کوئی مہمان آنے والا ہے۔
میرے گاﺅں کی آج کی نئی نسل نے بلکہ ان کے بزرگوں نے بھی سمجھ لیا ہے کہ ترقی کا راز صرف تعلیم کے حصول میں ہی ہے۔اسی وجہ سے اس گاﺅں کے بچے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی اداروں میں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ محمد تقی خان نے چائنہ سے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی اور اب وہ کراچی میں ایک پرائیویٹ ادارے میں باعزت روزگار کما رہے ہیں بلکہ اب تو سنا ہے کہ انہوں نے اپنی ایک پرائیویٹ کمپنی بنا لی ہے ۔حال ہی میں جوہر عباس خان کے بیٹے کا ایم بی بی ایس میں پنجاب میں میرٹ پر داخلہ ہو ا ہے ۔ اسی طرح محمد عباس خان نے جن مشکل حالات میں تعلیم مکمل کی اور اب ضلع جھنگ میں سرکاری تعلیمی ادارے میں استاد جیسے با عزت بلکہ پیغمبری پیشے سے منسلک ہو گئے ہیں۔ ایسی ہی مثال غیور عباس خان کی بھی ہے وہ بھی بچپن سے مشکلات جھیل جھیل کر آج اپنے ہی ضلع میں سکول ٹیچر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے ان دو افراد نے جس ہمت سے مشکلات جھیلیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ محمد عباس خان کے پاس شہر میں رہائش کی جگہ نہ تھی تو ایک جاننے والے سبزی منڈی میں آڑھت پر ان کی رہائش کا بندوبست کروا دیا کہ تعلیم نہیں چھوڑنی وہاں ہر وقت شور اور لوگوں کی آمدو رفت کی وجہ سے جب تنگی ہوتی تو وہ نزدیکی پارک میں جا بیٹھتے نہ صرف خود پڑھتے رہتے بلکہ انہوں نے اپنے تعلیمی اخراجات و زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا بھی شروع کر دی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ ٹیوشن سنٹر کہاں بنایا جائے بہت سوچ بچار کے بعد جب کوئی چھت میسر نہ آئی تو وہ اسی پارک میں بچوں کو کھلے آسمان تلے بٹھا کر پڑھاتے تھے اور بالکل یہی حال غیور حسین کا بھی تھا ۔
فیس بک کمینٹ

