یہ میرے بچپن کی ایک ٹھنڈی سرد شام تھی۔ دن کی ملجگی سی روشنی کچھ باقی تھی لیکن ابھی سے دُھند پڑنا شروع ہو چکی تھی۔ حسبِ معمول اتوار کا سارا دن گاؤں کے ہم عمر دوستوں کے ساتھ کھیل کود کر شام کو سردی سے کانپتا ہوا گھر پہنچا تو میری بہنیں آگ جلانے والی کوٹھی (کمرے) میں توے پر روٹیاں پکا رہی تھیں ۔آگ کے دھوئیں سے کالی ہوئی چھت والی اس کوٹھی میں مٹی سے بنے بڑے چولہے کے اطراف میں چٹائیاں بچھی ہوتی تھیں جن پر بیٹھ کر ہم سارے گھر والے کھانا کھاتے تھے اور نیشنل کے چاپانی ریڈیو پر سرائیکی نشریات بھی سنتے تھے ۔
بہنوں نے مجھے دیکھا تو بلا کر جلدی سے اپنے پیچھے چھپا لیا اور تاکید کی کہ ابو جان کے سامنے مت جانا آج وہ تیری کسی بات سے بہت غصے میں ہیں۔ چنانچہ ابو کی مار سے بچنے کیلئے میں وہیں دبکا رہا لیکن ابو کی تیز نظر آخرکار مجھ پر پڑ ہی گئی اور انہوں نے مجھے بلا لیا۔ چنانچہ ڈرا سہما سا ابو کی طرف چل پڑا جو ایک کجھور کے بان والی چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ امی جان نے لپک کر مجھے بچانا چاہا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی. میرا ایک بازو ابو جان کے داہنے ہاتھ کے شکنجے میں تھا پھر بازپرس ہونے لگی کہ سارا دن کہاں تھا۔ بس یہی بتانے کی دیر تھی کہ دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک ابو جان کا بایاں ہاتھ گھوما اور چٹاخ کی آواز کے ساتھ میری گال پر لال نشان پڑ گیا اور پھر یکے بعد دیگرے سات آٹھ بار چٹاخ چٹاخ کی آواز آئی اور ابو جان کے بھاری بھر کم ہاتھ سے تھپڑ کھا کر میرے دونوں گال سُن ہو چکے تھے۔ ابھی انہوں نے اپنے پاؤں میں سے کُھسّہ نکالا ہی تھا تاکہ میری کمر اور تشریف مزید تواضع کر کے لال کریں لیکن امی جان کے روپ میں ایک مسیحا آیا انہوں نے زبردستی مجھے ابو جان سے چھڑا لیا۔ امی جان نے دُکھ سے رُندھی آواز میں ابو جان سے کہا کہ بس کر دو اتنا تو مار لیا ہے اور پھر انہوں نے مجھ روتے ہوۓ کو سینے سے لگا لیا۔ میں حیران پریشان تھا کہ سارا سارا دن کھیلنا تو میرا معمول ہے تو آخر میرا قصور کیا ہے جس پر مجھے اتنی ساری مار پڑ گئی ہے۔
چنانچہ میرے پوچھنے پر امی جان نے بتایا کہ آج ہمارے محلے دار چاچا شفیع بھٹی صاحب ہمارے گھر آۓ تھے جو ریڑھی بان تھے اور اجرت پر کسی کی اینٹیں ،کسی کی کپاس کی لکڑیاں تو کسی کا سامان لاد کر گزر بسر کرتے تھے ۔ ان کے بیٹے کالے اور نورے کے ساتھ ہم کرکٹ، کبڈی، گلی ڈنڈا، آم کے درختوں پر ہِل کانگڑہ وغیرہ بھی کھیلتے رہتے تھے ۔ انہوں نے ابو جان کو کہا کہ میرا ایک من گندم کا گٹو گھر سے چوری ہو گیا ہے اور مجھے پتا ہے کہ آپ کا بیٹا قطعی طور پر چور نہیں لیکن یہ دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے تو شاید اس کے ساتھ کھیلنے والے کسی دوسرے لڑکے نے اٹھاۓ ہوں اور باتوں باتوں میں اس کو بتا دیا ہو تو ذرا سعید سے تو پوچھنا ۔ اگر کچھ پتا چلے تو مجھے بتا دینا، ابو جان کو پوری تسلی تھی کہ میرا سعید چوری جیسی گھٹیا حرکت کر سکتا ہے اور نہ ہی ایسے کسی منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے گندم کے حوالے سے کوئی بات بھی مجھ سے نہ پوچھی ۔بس وہ اس بات پر مجھ سے غصہ ہو رہے تھے کہ ایسے آوارہ لڑکوں کے ساتھ میں کھیلتا ہی کیوں ہوں جن پر چوری کا شک کیا جا سکتا ہو اور جن کی وجہ سے آج ہمارے دروازے پر کوئی پوچھ گچھ کرنے آیا ہے۔
اس دن سے میں نے تہیہ کر لیا کہ لفنگے لڑکوں کے ساتھ کبھی دوستی نہیں رکھوں گا اور آج بھی میں اسی اصول پر قائم ہوں۔ مجھے ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ ابو جان بہت سخت گیر طبیعت کے مالک ہیں لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو ہر قدم پر ابو جان مرحوم کی تربیت میرے کام آئی اور آج بھلے ہی میں بچوں کو جسمانی طور پر نہیں مارتا پھر بھی تربیت کے معاملے میں میرے بچوں کو میرے سخت گیر ہونے کا شکوہ رہتا ہے لیکن میری طرح وہ بھی ابھی نہیں جانتے کہ ان کیلئے باپ کا سخت گیر ہونا نرم دل ہونے سے کہیں زیادہ بہتر اور ضروری ہے۔

