ماہ جنوری کی آخری شب جمعہ کو برادرم محمد حسین سومرو کے بیٹے اور اپنے بچوں کے استاد محمد جمیل سومرو کی بارات کے ساتھ جب لڑکی والوں کے گھرپہنچے تو اس وقت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا کہ جب لڑکی والوں نے بارات کے بیٹھنے کی جگہ گھر کے قریب مسجد میں بنا رکھی تھی ۔ پہلے تو سوچا کہ شاید مسجد میں دعا کرانے کے لئے جا رہے ہیں کہ اکثر دیکھاگیا ہے کہ جب دولہا تیار ہو کر بارات لینے کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو نزدیکی مسجد میں جا کرخصوصی دعا کرائی جاتی ہے اور باقاعدہ اس دعا منگوانے والے مولوی صاحب کوہدیہ کے طور پر کچھ رقم بھی دی جاتی ہے البتہ ایک دو جگہ پر مسجد کے متولی کو کم رقم ملنے پر ناراض ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے ۔ بہر حال جب جمیل سومرو کے چچا آصف نے کہا کہ چلو یوسف بھائی رک کیوں گئے ہو تو ہم بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جب مسجد کے احاطے میں پہنچے توسامنے مسجد کے صحن اور برآمدے میں نیچے فرش پر دستر خوان لگے ہوئے تھے اور لڑکی کے والد و دیگر قریبی عزیز آنے والے مہمانوں کو دستر خوان پر بیٹھنے کی دعوت دے رہے تھے ۔ جب سب لوگ دستر خوان پر بیٹھ گئے تو لڑکی کے والد نے مولوی صاحب سے کہا کہ دعا کروادیجئے کہ نکاح کی تقریب تو پہلے ہی سادگی سے ہو چکی تھی جب دعا ہو چکی تو انہوں نے نہایت تہذیب کے ساتھ ہرباراتی کے سامنے پلیٹ میں سالن اور دستر خوان پر روٹی رکھ دی اور کچھ نوجوانوں نے پانی کے جگ پکڑ رکھے تھے کہ جو بھی پانی یا روٹی کی آواز لگاتا دوڑ کر پہنچ جاتے ۔
بہت سی شادیوں میں شرکت کا موقع ملا ہے کئی نامور مذہبی گھرانوں کے بچوں کی شادیوں میں بھی شرکت کی ہے لیکن وہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل نہ ہو نے کے برابر نظرآیا ہے ملتان جیسے شہر میں سادگی سے انجام پانے والی پہلی شادی دیکھی ہے البتہ دیہاتوں میں تو اب بھی کئی جگہ پر سادگی سے شادی کرنے کا رواج موجود ہے کہ دیہات میں سادگی سے شادی کرنے کو ”ددھ گھٹی“ کہتے ہیں اور جو شادی دھوم دھام سے رچائی جائے اسے ”وڈی شادی “ کا نام دیاجاتا ہے ۔ ہاں یاد آیا کہ کافی عرصہ پہلے ملک کے نامور اداکار قوی خان کی جانب سے ملتان آرٹس کونسل میں کرائی جانے والی اجتماعی شادیوں کی تقریب میں بھی شرکت کا موقع ملا تھااور حقیقت میں سادگی سے انجام پانے والی غریب بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا منظر شاید زندگی بھر نہیں بھول سکوں گا۔ لیکن انفرادی طور پر اور پھر صاحب حیثیت بلکہ شہر میں قائم” دی مکتب سکول“ کے نام سے دو پرائیویٹ سکول کی برانچوں کے مالک برادرم محمد حسین کے بیٹے اور سکول کے پرنسپل جمیل سومرو کی شادی کی تقریب بہر حال خوشگوار یادوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ جب سے اس شادی کی تقریب سے واپس آیا ہو ں تو اسی وقت سے سوچ رہا ہو ں کہ اگر ہم سب لوگ جو کہ مسلمان ہو نے کا دعوی بھی کرتے ہیں اگر اپنی زندگی میں اسی طرح سادگی کو اپنا لیں تو بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے بچوں کی شادی دھوم دھام سے کر نے کے لئے قرضہ لے کر بڑی بڑی تقریبات تو منعقد کر لیتے ہیں لیکن پھر شادی کے پانچ سال بعدبھی کمیٹی کی صورت میں قرضہ اتارتے پھر تے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

