س : سب سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ لکھنے کا شوق کیسے ہوااور آپ نے کب سے لکھنا شروع کیا؟
ج : میرا خیال ہے کہ جب میں نے پہلی کہانی لکھی تو اس وقت میری عمر بارہ سال تھی ۔ میں نے بہت ہی چھوٹی عمر میں لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ تیرہ سال کی عمر میں میرا افسانہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک نیم ادبی پرچے میں شائع ہو چکا تھا ۔

س :اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ابتداءافسانے سے ہی کی ؟
ج : جی ہاں! لیکن اس سے پہلے میں نے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کی کوشش کی ۔ بہاولپور سے ایک اخبار نکلتا تھا ” راہبر“ ۔ اس میں بچوں کا صفحہ سنبھالا اور اس میں باجی جی کی طرف سے سوال و جواب ، لطائف، پہیلیاں، نظمیں ، کہانیاں سب کچھ میں لکھا کرتی تھی۔
س : یہ کب کی بات ہے ؟
ج :یہ غالباً 1954 ءیا 1955ءکی بات ہے ۔ میں نے تقریباً ایک سال یا چھ ماہ یہ کام نبھانے کی کوشش کی لیکن میں جب کوئی بچوں کی کہانی لکھنے کی کوشش کرتی تو وہ افسانے کی صورت اختیار کر جاتی ۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ افسانہ کسی رسالے کو بھجواتی ہوں اوردیکھتی ہوں کہ شائع ہوتا ہے یا نہیں ۔ افسانہ جلدی شائع ہو گیا بس اس روز سے افسانے لکھنے شروع کر دیے۔
س : عام طور پر والدین لکھنے لکھانے کو پسند نہیں کرتے ۔ لڑکوں کو بھی اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ آپ تو لڑکی تھیں آپ کے اس شوق پر آپ کے والدین کو کوئی اعتراض ہوا؟
ج : نہیں میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ آج میں اس مقام پر ہوں۔ میرے گھر کا ماحول ادبی تھا۔ میری والدہ شاعرہ تھیں ۔ میرے والد مبلغ اسلام تھے، عالم تھے ۔ فقہ اور حدیث کی بہت سی کتابوں کے انہوں نے تراجم کیے تھے ۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے تھے ۔وہ اس زمانے میں بڑے بڑے مشاعرے کراتے تھے ۔ بہاولپور میں بہت بڑے بڑے سالانہ مشاعرے ہوتے تھے جنہیں یاد گار مشاعرے کہتے تھے۔ پاکستان کے شاعر اور شاعرات ہمارے گھر آ کر ٹھہرتی تھیں ۔ جس سے میری بڑی بہن فرحت رشید بچپن ہی سے شعر کہنے لگ گئیں ۔ پھر تمام ادبی رسالے ہمارے گھر آتے تھے ۔ ایسے ادبی ماحول میں میں نے آنکھ کھولی ۔
س : آپ نے شعر کہنے کی کوشش بھی کی ؟
ج : میں نے ابتداءمیں شعر کہنے کی کوشش کی اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ گھر میں سارے ہی شعر کہتے ہیں میری کوئی پراوہ ہی نہیں کرتا تو میں نے سوچا کہ الگ سے اپنی شناخت بناﺅں ۔
س :لیکن آپ شعر میں اپنی شناخت کراتیں تو کیسا ہوتا؟ یعنی شعر ان سے اچھے کہتیں یا اپنا ایک الگ انداز اپناتیں ؟
ج :ہاں ایسا بھی ہو سکتا تھا ۔ میں مزاح میں شاعری کرتی تھی ۔ میں سوچتی ہوں کہ مجھے اپنی مزاحیہ شاعری جاری رکھنی چاہیے تھی ۔ ہمارے ابا جان ہمیں گھر میں مصرعہ طرح دے دیتے تھے یا کوئی عنوان دے دیتے تھے کہ اس پر مضمون لکھیں ۔ سب لوگ سنجیدہ نظمیں اور مضمون لکھتے تھے لیکن میں مزاحیہ مضامین اور نظمیں لکھ کر لایا کرتی تھی ۔ اس پر وہ مجھے اکبر الہ آبادی کہتے تھے۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر میں اپنی وہ مزاحیہ شاعری جاری رکھتی تو شاید میں مزاحیہ شاعری کے حوالے سے پہچانی جاتی ۔
س : ” براہ راست “ کے نام سے جو آپ کا سفر نامہ شائع ہوا ہے اس میں تو آپ کا مزاحیہ ہی انداز ہے جوآپ کے افسانوں سے یکسرمختلف ہے؟
ج : ہاں میرا خیال ہے کہ سفرنامہ افسانے ، ناول سے مختلف ہونا چاہیے ۔ بنیادی طور پر میں افسانہ نگار اور ناول نگار ہوں لیکن اگر میں سفرنامے میں افسانہ نگاری یا ناول نگاری کروں تو اس سے تو کوئی فرق واضح نہ ہو گا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ دوسرے ممالک میں جا کر وہاں بہت سی عجیب و غریب چیزیں دیکھتے ہیں اور پھر ان کا اپنے ملک سے موازنہ کرتے ہیں تو آپ کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یہ اذیتیں اور تکلیفیں ہمیشہ طنزومزاح کو جنم دیتی ہیں ۔
س : آج کل ہمارے ہاں جو افسانے لکھے جا رہے ہیں ان کے بارے میں قاری کو یہ شکایت ہے کہ ان میں مکالمہ کم ہو گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے افسانہ اپنی مقبولیت کھو رہا ہے ۔ آپ نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں جو مکالمہ قائم رکھا ہے ایسا آپ نے شعوری طور پر کیا ہے یا غیر ارادی طور پر ہو گیا ؟
ج : آپ اس کو شعوری بھی کہہ سکتے ہیں اور غیر ارادی بھی ۔ کیونکہ جس بات پر میں یقین رکھتی ہوں وہ کرتی رہتی ہوں ۔ میرا خیال ہے افسانے یا ناول سے نہ مکالمہ نکلنا چاہیے اور نہ ہی انسان نکلنا چاہیے۔ آپ جب اس میں سے انسان نکالتے ہیں تو جذبات نکال دیتے ہیں ۔ اگر مکالمہ نکال دیتے ہیں تو پھر خیالات نکل جاتے ہیں اس کے بعد کہانی میں کچھ نہیں بچتا۔
س : آج کل جو علامتی اور تجریدی افسانے کی روش ہے ۔۔۔۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں یا آپ نے کوئی علامتی افسانہ لکھا؟
ج : میں نے ابھی تک کوئی علامتی افسانہ نہیں لکھا اور نہ ہی تجریدی افسانے کا تجربہ کیا ہے ۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ افسانہ ہو یا شاعری اس میں تجربات تو ضرور کرنے چاہیں ۔ لیکن اس وقت جب صنف پر آپ کو پوری گرفت حاصل ہو ۔ صرف تجربہ کرنے کے لیے آپ ڈھیلا ڈھالا افسانہ لکھ لیں تو یہ غلط ہو گا ۔ مجھے کہیں ایسا پلاٹ نظر آئے یا ایسی سوچ میرے ذہن میں آئے کہ اسے مجھے علامت کے انداز میں کہنا پڑے تو میں کہہ دوں لیکن جان بوجھ کر زور لگا کر علامتی یا تجریدی افسانہ میں نے نہیں لکھا۔
س : لیکن کسی علامتی یا تجریدی افسانے نے آپ کو متاثر کیا ؟
ج : ابھی تک تو نہیں کیا ۔
س : اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ علامتی افسانے کو ابھی تک قبول نہیں کر سکیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں ۔
ج : یہ تو آپ نے خود فیصلہ کیا ہے میں نے تو نہیں کیا۔ میری بات یہ ہے کہ میں کسی بات سے بھی کبھی نا امید نہیں ہوئی لیکن اپنی منفرد سوچ رکھنے والا ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ دوسرا ٓدمی اسے قائل کرے ۔ ابھی تجریدی اور علامتی افسانہ نگاروں نے مجھے قائل نہیں کیا جب وہ مجھے قائل کر لیں گے تو میں اس کا اظہار کروں گی ۔
س : لیکن ایسا تو نہیں ہو گا کہ آپ کی اس یکسانیت سے لوگ اکتانے لگیں کیونکہ قاری ہمیشہ تبدیلی کو پسند کرتا ہے ؟
ج : آپ ٹھیک کہتے ہیں لوگ اکتا سکتے ہیں اور اکتا جاتے ہیں ممکن ہے ان کی اکتاہٹ سے پہلے کوئی اور صنف دریافت کر لوں جو علامتی بھی نہ ہو تجریدی بھی نہ ہومگر کوئی اور ہو۔
س : ہر چند آپ کے ناولوں اور افسانوں کو دلچسپی کے ساتھ پڑھا جا رہا ہے لیکن آج کا دور اتنا مصروف ہے کہ لوگوں کے پاس اتنے طویل ناولوں اور افسانوں کو پڑھنے کی فرصت نہیں ۔ کیا آپ اس شکایت کو دور کردیں گی ؟
ج : یہ جو میرے طویل ناول اور افسانے لکھے گئے یہ گزشتہ دس پندرہ برس کے دوران لکھے گئے ۔ میں خود سوچتی ہوں کہ شاید اب کبھی اتنے طویل ناول یا افسانے نہ لکھ سکوں ۔ نہ میری وہ فرصتیں ہیں اورنہ وہ کام ہیں ۔ یہ زندگی کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے ۔ اب مجھے بھی تعجب ہوتا ہے کہ میں نے ” لازوال “ اور ” پیاسی “ جیسے طویل اور خوبصورت ناول کیسے لکھ لیے۔
س : آپ اپنے ناولوں میں سے کس ناول کو زیادہ پسند کرتی ہیں ؟
ج : میں سمجھتی ہوں کہ اوائل جوانی میں جو چیزیں لکھی جاتی ہیں وہ بہت خوبصورت ہوتی ہیں ۔ ان میں حقائق کی تلخیاں ہم اس طرح نہیں شامل کرتے ۔ ان میں خوابوں کی آمیزش ہوتی ہے اس لیے وہ خوبصورت لگتی ہیں ۔ اس لحاظ سے مجھے اپنی کتاب ” پیاسی “ بہت پسند ہے۔
س : اب ہم آپ کے ایک ناول ” لازوال“ کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ جس کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی اور عام تاثر یہ سامنے آیا کہ ڈرامہ فلاپ ہوا ۔ اس سلسلے میں قصوروار بھی اصغر ندیم سید کو گردانا گیا کہ انہوں نے کہانی بالکل ہی تبدیل کر دی ۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟
ج : میں تو صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ کہانی کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو اس میں کچھ بھی نہ ہو لیکن ایک اچھا سکرپٹ رائٹر اسے کہاں تک پہنچا سکتا ہے ۔ ” ساحل “ کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ سکرپٹ رائٹر کے بعد اداکاروں کا انتخاب ضروری ہے ۔ اسی طرح تین چار چیزیں مل کر ایک کہانی کو کامیاب بناتی ہیں ۔ اگر میرا ناول ٹھیک نہیں تھا کمزور تھا تو اس پر محنت کس نے کی تھی ۔ اس کے پیچھے کس کا کمال کام کر رہا تھا ۔ اس ڈرامے میں جوہوا وہ یہ تھا کہ اس میں ایک فقرہ بھی میرا نہیں تھا ۔ ایک ہزار صفحے کی کتاب میں ایک فقرہ بھی ایسا نہیں تھا کہ سکرین پر آ سکتا ۔کیا یہ سوچنے کی بات نہیں؟اور اس ناول پر مجھے ایوارڈ ملا تھا ۔ کراچی کی ایک اکیڈمی کی طرف سے ۔ آپ پچھلے سال کے اخبارات دیکھ لیں ان میں اس بات پر اعتراض کیا گیا ہے ۔ حتی کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ بشری رحمن چپ کیوں ہے ۔ میں شکایت کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائی کیونکہ میرے قارئین چلا رہے تھے ، شور مچا رہے تھے ۔ لوگوں نے کہا کہ آپ چپ کیوں ہیں ۔ جب ہم برداشت نہیں کر رہے کہ آپ کے ناول کا ستیاناس کیا جا رہا ہے آپ کیسے برداشت کر رہی ہیں ۔ میں نے کہا جب احتجاج کرنے والے اتنے قارئین موجود ہیں تو میرے بولنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
س : ” لازوال“ کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہر چوتھے گھر میں ”لگن“ ناول زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔تو کیا آپ کو وہ ناول پسند نہیں؟
ج : پسند ہے وہ بھی۔ وہ تین چار زبانوں میں ترجمہ ہوا ۔ ہندوستان میں بھی شائع ہوا۔ اس پر بھی مجھے ایوارڈ ملا۔ اپنی تو کوئی تخلیق کسی کو بری نہیں لگتی ۔ وہ ناول میں نے بطور خاص نئی نسل کے جوانوں اور لڑکیوں کے لیے لکھا تھا۔ ٹیلی ویژن والوں نے وہ بھی مانگا تھا لیکن وہ میں نے نہیں دیا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اگر وہ خراب ہو گیا تو پھر تو میں برداشت نہیں کر سکوں گی ۔
س : ایک ناقد نے یہ اعتراض کیا کہ آپ نے اس ناول میں آفاق کو تو ایک نمونے کے طور پر پیش کیا اور اس کی بیوی کی ہر موڑ پر اصلاح کرتی رہیں تو کیا ہمارے معاشرے میں مرد ایک مثالی کردار ادا کر رہا ہے؟
ج : اتنے بے تحاشا ناول جو لکھے جا رہے ہیں تو کیا وہ مثالی کرداروں پر لکھے جا رہے ہیں ۔ ہم نے معاشرے سے کچھ لینا ہوتا ہے اور کچھ اسے پیش کرنا ہوتا ہے ۔ اس میں میرا مقصد یہ تھا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ فلمیں عورت پر بنتی ہیں ۔ تنقید ہوتی ہے تو عورت پر ہوتی ہے۔ ڈرامے بنتے ہیں تو عورت پر بنتے ہیں۔ ہمیشہ عورت کو مرکز بنایا جاتا تھا ۔ کسی نے کبھی بھی مرد کو مرکزی شخصیت بنا کر کچھ بھی نہیں لکھا تھا ۔ معاشرے میں آئیڈیل مرد بھی تو ہوتے ہیں ۔ میں نے آئیڈیل مرد کا خاکہ پیش کرنا چاہا کہ مرد بھی آئیڈیل ہوتے ہیں اور اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا جہان کی نیکیاں عورت میں ہیں ایسا نہیں ہوتا ۔ دنیا جہان کی نیکیاں مردوں میں بھی ہوتی ہیں۔ ہم نے بہت اچھے اچھے مرد دیکھے جو بہت بری عورتوں کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔
س : آپ کے بہت سے ناول منظر عام پر آ چکے ہیں لیکن سب ہی یہ جانتے ہیں کہ آپ نے بے تحاشا افسانے بھی لکھے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ اب تک مارکیٹ میں آپ کے افسانوں کی ایک ہی کتاب آئی ہے؟
ج : وجہ بہت سادہ سی ہے ۔ میں تقریباً ڈیڑھ سو افسانے لکھ چکی ہوں اور ناول میں نے لکھنا بھی بعد میں شروع کیا اور اسے شائع بھی پہلے کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں افسانے پہلے لانا چاہتی تھی ۔ لیکن پبلشر کے رویے کے پیش نظر میرا ارادہ تھا کہ اپنی کتابیں میں خود چھاپوں گی ۔ اس سلسلے میں میرا ادارہ قائم ہوا ۔ انہی دنوں میرا ناول ”لگن“ قسط وار شائع ہو رہا تھا اور لوگ اسے کتابی صورت میں پڑھنا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش کے پیش نظر میں نے پہلے ناول شائع کرایا ۔انہی دنوں ”لازوال“ بھی شائع ہوا تھا ۔ لوگ اسے بھی پڑھنا چاہتے تھے تو میں نے سوچا کہ ان دو ناولوں سے اپنے ادارے کی ابتداءکروں لیکن جونہی دو ناول سامنے آئے لوگوں نے باقی دو ناولوں کا تقاضا شروع کر دیا ۔ میں نے پانچ ناول لکھے اور یکے بعد دیگرے پانچوں سامنے آ گئے۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ پانچ ہی میرے افسانوی مجموعے ہیں جو یکے بعد دیگرے شائع ہو رہے ہیں ۔ ”عشق عشق “ شائع ہو گیا اب ”پشیمان“ آئے گا اور ”لالہ صحرائی“ یہ سب تیار ہیں جب کہ سامنے آنے والے ہیں ۔
س : آپ کے ادارے نے صرف آپ کی کتابیں شائع کی ہیں؟
ج : جی ہاں! ابھی تو صرف اس نے میری ہی کتابیں شائع کی ہیں جب وہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو جائے گا تو ہم اوروں کی کتابیں بھی شائع کریں گے ۔ کیونکہ کوئی بھی ادارہ جب تو دوسروں کی بھی چیزیں شائع نہ کرے تو قائم نہیں رہ سکتا ۔
س : میں ایک بار پھر ٹی وی کی طرف آﺅں گا ۔ آپ ناول بھی لکھتی ہیں ، افسانے بھی لکھتی ہیں تو آپ ڈرامے کی طرف کیوں نہیں آتیں یا کسی کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے آپ نے اپنے ناول کی ڈرامائی تشکیل خود کیوں نہ کی؟
ج : ایک وجہ تو میری گھریلو مصروف زندگی ہے ۔ میں اٹھتے بیٹھتے ہوئے ناول لکھ تو لیتی تھی لیکن میں سمجھتی تھی شایدمیں سکرپٹ باقاعدگی سے نہ لکھ سکوں گی ۔ ٹی وی والوں کو بہت جلدی تھی اور جب بھی میرا ناول چھپتا تھا وہ مجھ سے مانگنے آ جاتے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ”پیاسی“ دے دیجیے ۔ مگر ”پیاسی“ اور ”لگن“ میرے پسندیدہ ناول ہیں ۔ میں چاہتی نہیں تھی کہ ان پر تجربہ ہو۔ میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ ہمارے ہاں مصنف کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے کہ اسے ڈرامے سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں انہیں ناول ہرگز نہ دیتی ۔
س : آپ اچھے افسانے اور ناول لکھتی ہیں لیکن آپ یکدم سفرنامے کی طرف کیسے آ گئیں ؟
ج : وہ اس لیے کہ مجھے یکدم سفر کرنا پڑ گیا تھا ۔ آپ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں افسانہ نگار اور ناول نگار ہوں اسی لیے میں نے سفرنامہ بھی لکھ ڈالا۔ نہیں ایسا نہیں۔ سفر نامہ ہمارے ملک میں بہت خوبصورت لکھا جا رہا ہے ۔ میرا انداز گفتگو ہے جسے آپ پسند کریں یا نہ کریں لیکن آپ اسے بدل نہیں سکتے ۔ اسی طرح سفرنامہ نگاری بھی ایک انداز گفتگو ہے ۔
س : ہمارے ہاں خواتین کے رسائل کافی تعداد میں شائع ہوتے ہیں اور ان میں لکھنے والی بھی خواتین ہوتی ہیں ، چھاپنے والی بھی خواتین ہوتی ہیں ۔ آپ یہ بتائیں کہ اس وقت جو خواتین ادب تخلیق کر رہی ہیں ان میں سے کسی نے آپ کو متاثر کیا ؟
ج : پہلے تو میں یہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے فرمایا کہ خواتین کے رسالے سامنے آئے اور ان میں سب کام خواتین ہی کرتی ہیں یہ غلط ہے ۔ بہت سے خواتین کے رسالے ایسے ہیں جن پر صرف نام خواتین کا ہے سارے کام مرد کرتے ہیں ۔ وہ خواتین کا نام بیچتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ اداریہ بھی وہ خود لکھتے ہیں اور اس کے نیچے کسی خاتون کا نام لکھ دیتے ہیں ۔ ویسے خواتین بھی ہیں جو اداریہ بھی خود لکھتی ہیں اور اچھی رائٹر بھی ہیں اس وقت کوئی خاص نام نہیں لوں گی کہ یہ اچھی اچھی کہانیاں لکھتی ہیں ۔ نئی ٹیکنیک ہوتی ہے ۔ ہر موضوع پر وہ اظہار خیال کرتی ہیں ۔
س : اب ہم علاقائی ادب کی طرف آتے ہیں ۔ آپ کا تعلق بہاولپور سے رہا ہے ۔ اس حوالے سے کیا آپ نے سرائیکی افسانے بھی لکھے ہیں ؟
ج : جی ہاں میں نے ایک افسانہ لکھا تھا جو سرائیکی ادب میں شائع ہوا ۔ اس کے علاوہ ایک دو نظمیں سرائیکی میں لکھیں ۔ میں نے محسوس کیا اگر میں سرائیکی میں لکھنا شروع کر دوں تو میں لکھ لیتی ہوں لیکن اردو پڑھنے والے اتنے زیادہ ہیں اور اردو رسالوں کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ سرائیکی یا پنجابی کے لیے وقت نہیں بچتا ۔
س : سرائیکی آپ کی مادری زبان ہے اور اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ سرائیکی میں اب تک کوئی سفر نامہ نہیں لکھا گیا ۔ کیا آپ نے اس کو محسوس کیا؟
بشری رحمن : ہاں میں نے محسوس کیا ہے لیکن سرائیکی میں تو تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ کام شروع ہوا ہے اس سے پہلے تو نہیں ہوا تھا ۔ پھر اب جو ایک آدھ پرچہ شائع ہو رہا ہے اس میں بھی باقاعدگی نہیں ہے ۔ بنیادی طور پر میں سرائیکی رائٹر نہیں ۔ میں نے ابتداءاس میں نہیں کی تھی تو میرے پڑھنے والے اتنے زیادہ ہیں اس کینوس پر کہ مجھے فرصت ہی نہیں ملتی ۔
س : ممکن ہے کہ ایسے خوبصورت لکھاری کو پڑھنے کے لیے سرائیکی قارئین بھی بے تاب ہوں ۔
ج : وہ میں سمجھتی ہوں لیکن عورت ہونے کے ناطے میری اتنی ذمہ داریاں ہیں (گھریلو) کہ میں نہیں چاہتی کہ میں تمام تر وقت اس طرف صرف کر دوں ۔ میں کوشش ضرور کروں گی کہ سرائیکی میں بھی لکھوں ۔
س : مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی جگہ اچھا ادب تخلیق کر رہے ہیں ۔ کیا آپ نے ”مردانہ“ اور ”زنانہ“ ادب میں فرق محسوس کیا ہے ؟
ج : میں تو مردانہ اور زنانہ ادب کو الگ الگ نہیں کرتی ۔ صرف مردانہ اور زنانہ تحریروں میں تجربے اور مشاہدے کا فرق ہے ۔ کسی واقعہ کا مرد اور طرح سے مشاہدہ کرتا ہے عورت اور انداز سے مشاہدہ کرتی ہے ۔ پھر ان کے انداز بیان کا فرق ہے ۔ مرد کا انداز بیان مختلف ہوتا ہے ۔ عورت کا انداز دھیما ہوتا ہے ۔
س : آپ نئی نسل سے کس حد تک پرامید ہیں؟
ج : آپ نئی نسل کے لیے راستہ بنا سکتے ہیں تا کہ وہ اس پر چل سکیں لیکن نئی نسل ہمیشہ اپنے تجربوں کی بنیاد پر اوپر آتی ہے ۔ وہ اکتساب تو کرتی ہے ، ہمیں پڑھتی ہے مگر پرانی کی نفی کر کے آگے آتی ہے ۔ کوئی نئی چیز پیش کرتی ہے۔ میں صرف ایک بات اپنے نئے ادیبوں سے کہنا چاہوں گی کہ اپنے کسی بھی رویے یا اثاثے میں ہمیں کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس اتنے خیالات اور نظریے اور اتنے فلسفے ہیں کہ ہم اوروں کی طرف دیکھنے کی ضرور ت بھی محسوس نہیں کرسکتے ۔ تمام تر صوفیانہ ادب فلسفوں اور نظریوں سے بھرا ہوا ہے ۔ اتنا کچھ ہے ہمارے پاس لیکن ہم پھر بھی غیر ملکی نظریات کی طرف توجہ دیتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ آنے والی نسلوں کو کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ کبھی یہ کہتے رہنا چاہیے کہ ادب میں جمود طاری ہے ہمارے پاس کچھ نہیں بچاوغیرہ وغیرہ۔
س : جو آپ نے صوفیانہ ادب کا تذکرہ کیا ہے تو کیا آپ نے کبھی سوچا کہ صوفیاءکے کلام کو اردو میں منتقل کیا جائے ؟
ج : نہیں ابھی تک میں نے ایسی کوشش نہیں کی اور میرا خیال ہے ہ جب انسان کے پاس سوچ کے سارے مخزن ختم ہو جاتے ہیں اور جب اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں رہتا اور اس کے کنویں خالی ہو جاتے ہیں تو پھر وہ تراجم پر اتر آتا ہے ۔ اب جب تک میرے پاس خود کہنے کے لیے خیالات بھی ہیں ، نظریات بھی ہیں۔ کہانیاں لکھنے کے لیے موضوعات ہیں اور ہمارے اپنے معاشرے میں بے پناہ کہانیاں ہیں ۔ اگر میں انہیں اردو میں قاری تک پہنچالوں تو میں اپنے آپ کو سرخرو سمجھوں گی ۔ پھر میں ترجمے کی طرف دیکھوں گی ۔ میری خواہش ہے کہ میں صوفیانہ کلام کے ترجمے کروں ۔ میں ایسا کر سکتی ہوں ۔ ترجموں کا عمل جاری رہنا چاہیے کہ اس سے بھی ایک خاص ادب تخلیق ہوتا ہے ۔
س : ابھی آپ نے کہا کہ ہمیں غیر ملکی ادب سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ وہاں سے اکتساب نہیں کرنا چاہیے تو کیا آپ یہ چاہیں گی کہ ہمارا ادب غیر ممالک میں جائے ؟
ج : یقینا ایسا ہونا چاہیے۔
س : یہ تو یکطرفہ ٹریفک والا معاملہ ہو گیا ۔
ج : یکطرفہ ٹریفک تو کبھی نہیں ہو گی ۔ اب تک تو انہی کا ادب آ رہا ہے ۔ اب اگر ہمارا ادب جانا شروع کر دے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ میں نہیں کہتی کہ آپ اسے یکسر ختم کر دیں میں کہتی ہوں کہ آپ کام کی ابتدا تو کریں ۔
( روزنامہ نوائے ملتان ، منگل 5 فروری 1985 ء )

