پاکستان میں آتی اور جاتی ہوئی سردی کے موسم میں شادی بیاہ کی تقریبات کی بہتات بہار کا سماں باندھ دیتی ہے ۔۔ کبھی کبھار ایک ہی روز ایک سے زائد تقریبات کے دعوتی کارڈ موصول ہونے پر باہمی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے کہ کون کس تقریب میں شرکت کرے گا ۔۔ایسی ہی ایک تقریب میں شرکت کیلئے قرعہ میرے نام کا نکلا کہ مجھے والدہ اور بیٹی کے ساتھ شہر سے باہر شرکت کیلئے جانا ہے اس ذمہ داری کی ادائيگی کیلئے عرصہ بعد پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے کا تجربہ ہوا۔۔۔پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذاتی ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھے شاذونادر ہی ایسا سنہرا موقع ملتا ہے جب میں ذہنی تناؤ اور جھنجھٹ سے بے نیاز ہو کر بادل کے سرمئ آنچل سے جھانک کر پل دو پل اپنی چمک دکھا کر چھپاک سے چھپ جانے والے جاڑے کے نٹ کھٹ سورج کے ہمراہ سفر کرنے اور اس آنکھ مچولی کی دلفریبی کو محسوس کرنے کی آسائش سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔۔۔دھند کی وجہ سے پھیلی اداس سی تاریکی بس کے اندر کی گرماہٹ کے ساتھ مل کر مسافروں کو نیند کی چادر سے ڈھانپ رہی ہے۔۔۔ مسافروں کی اکثریت سر ٹکاۓ یا گردن لٹکاۓ نیند کے جھولے لے رہی ہے بعض اپنے موبائل فون میں سر دیے بیٹھے ہیں اور کچھ شیشے کے پار مناظر میں گم ہیں۔۔۔ چمکتے ہوۓ سورج کی کرنیں شیشے سے گزر کر میری گود میں ننھی فلزا نور کے چہرے پر پڑ رہی ہیں جو ماضی و حال سے بے نیاز میری گود میں سر رکھے اپنے لاتعداد سوالوں اور کہانیوں سمیت سو رہی ہے لیکن معلوم نہیں اس کے خيالی دوست اور نئی داستانوں کے کردار بھی سوۓ ہیں يا وہ ابھی بھی فلزا نور کے حکم پر ذہن کے سبز و شاداب اور زرخيز میدانوں میں ادھر ادھر بھاگے دوڑے چلے جا رہے ہیں تاکہ جب بڑے منصوبے بنانے والی چھوٹی داستان گو نیند سے بیدار ہوں تو نئی کہانیاں گوش گزار ہونے کیلئے بےتاب ہوں اور پرانے کردار اپنی منزلوں پر پہنچ چکے ہوں۔۔۔۔
فلزا نور کی کہانیاں اس کی گڑيا کے گھر سے شروع ہو کر سکول کے کھیل کے میدانوں سے ہوتی ہوئی شہزادی کے خوبصورت لباس کی تفصیلات کے تذ کرے تک جا پہنچتی ہیں۔۔يہ کہانیاں سناتے ہوۓ جب نور کی آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہاتھوں کی حرکات و سکنات اور آنکھوں کی تیز چمک مل جاتی ہیں تو زندگی پر چھاۓ واہموں کی دھند چھٹنے لگتی ہے غم کا بادل ہٹ جاتا ہے اور روشن مستقبل کے خيال سے حال بھی خوشگوار ہو جاتا ہے لگتا ہے تاریک رات میں چاند نکل آيا ہے۔۔۔سیپ چننے والے کے ہاتھ بیش بہا موتی لگ گيا ہے اور کوئی پری بھیس دھار کے میری دنیا میں چلی آئی ہے اور تتلی بن کر مجھے گلزار راہوں کی طرف لیے جا رہی ہے ۔۔
میرے لیے سورہ نور ہمیشہ دل کے پاس اور بہت خاص رہی ہے شاید اسی لیے میں نے اس سورہ کی نسبت سے اپنی بیٹی کا نام بھی فلزا نور رکھا اور اس طرح میری زندگی میں ننھی نور کے آنے سے امید کی خوشی آئی زندگی میں جان مال ذات ہر شے کو قربان کرنے کا حوصلہ ملا اور پھر نور کی خاطر ایسی طاقت ملی کہ آنسوؤ ں سے رونے اور ہچکیوں سے تڑپنے کے باوجود طوفان کا سامنا کرنے کی ہمت آگئی۔۔۔اندھیرے میں اپنی باتوں کے جگنوؤں سے مستقبل کے روشن خواب دکھاتی ہے۔۔۔مسکراتی ہے تو لگتا ہے غم کے سارے کالے بادل اچانک چمکدار سورج کے نکل آنے سے چھٹ گئے ہیں۔۔جب ہنسی چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو کھلکھلاہٹ کی آواز جلترنگ کا احساس پیدا کرتی ہے اور لگتا ہے کانچ کے نازک برتن کسی کی بے دھیانی سے ہاتھوں کے درمیان لرزے مگر سنبھل گئے ہیں ۔۔۔اور جب کھل کر ہنستی ہے تو لگتا ہے پھول پر تتلی منڈلا رہی ہے ۔۔ہوا کی پھونک سے بھرے جانے والے غبارے کسی کاغذ کی پتنگ کی مانند ہوا کی دوش پر آزادانہ رقص کر رہے ہیں اور جب نور خوشی سے اپنے شہزادی نما پوشاک میں ملبوس گول گھومتی ہے تو گمان ہوتا ہے atom کے ذرے nucleus کے گرد گھومتے ہیں اور لگتا ہے میری دنیا کا Nucleus خود اپنے ہی گرد چکر کاٹ رہا ہے اور یہ چکر میرے وجود سے آکر لپٹ جاتا ہے ۔۔دل چاہتا ہے نور کو بتاؤ ں کہ جب مقناطیسی کشش کی مانند تم میری طرف لپکتی ہو اور مجھے اپنی بازوؤں کے ہار پہنا کر اپنے وجود کے انمول خزانے سے مالا مال کر دیتی ہو تو میرا وجود مکمل ہونے لگتا ہے ۔۔دل جہاں جہاں سے ٹوٹا تھا جڑنے لگتا ہے۔۔۔
کل کی بات محسوس ہوتی ہے تم چھوٹی سی تھی اتنی چھوٹی کہ میرے وجود میں چھپی تھی اور نظر نہیں آتی تھی اور آج دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی ہو گئی ہو کہ مجھے دونوں بانہیں پھیلا کر تمہیں خود میں سمانا پڑتا ہے ۔۔ایسے ہی تم اک روز زندگی کی راہ میں بہت آگے نکل جاؤ گی اور میں پیچھے رہ جاؤ ں گی۔۔اس سے پہلے کہ تم آگے بڑھ جاؤ میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ تم میرے لیے کیا ہو اور تم میرے لیے ارادی اور غیر ارادی طور پر کیا کیا کر جاتی ہو ۔۔۔
چھوٹی چھوٹی باتوں کی کہانیاں بناتی ہو ۔۔چلتا پھرتا خبرنامہ ہو معمولی سی باتوں کو اپنے لہجے کے اتار چڑھاؤ سے سنسنی خيز بنا دیتی ہو۔۔اپنے سوالوں سے حیران کرتی ہو اور جواب سے خود حیران ہوتی ہو میری سچی جھوٹی تعریفیں کرتی ہو ..جب میرے گھر لوٹ کر آنے پر تم دوڑتی ہوئی آتی ہو ایسے لگتا ہے جیسے بچھڑی ہوئی کونج اپنی ڈار سے آملی ہو ۔۔جب گھر میں اٹھلاتی پھرتی ہو ایسے لگتا ہے کوئی ہنس اپنی راج نیتی میں اتراتا پھرتا ہو۔۔۔۔تم کہیں بھی چلی جاؤ تم میرے وجود کا حصہ ہو تمہارا خمیر مجھ سے اٹھا ہے۔۔۔
نور کے چہرے پر پڑنے والی روشنی تیز ہو رہی ہے سفر بھی ختم ہوا چاہتا ہے اور یہ سنہرا موقع سنہرے احساسات کی تجدید کراتا ہوا اختتام پذ ير ہوا چاہتا ہے لیکن زندگی کا سفر جاری ہے اس سفر میں اجنبی ہمسفر بن جاتے ہیں اور پرانے ساتھی بچھڑ جاتےہیں نہیں معلوم کب کہاں کس کے سفر کا اختتام ہو جاۓ دل میں رکھی محبتيں غلط فہمیوں کی گرد سے مرجھا جاتی ہیں اس خوف کی بابت رابطوں کے نئے پرانے ضابطوں کے ذریعے محبتوں کے اقرار اور اظہار کو خود پر قرض سمجھتی ہوں ۔۔ہمارے عزيز ہمیں کس قدر عزيز ہیں اس کا اعتراف برملا اور بارہا کردینا چاہیے۔۔نفرتوں کی بھیڑ میں کوئی اپنا بھی تو چاہیے تاکہ سفر زندگی کٹ سکے۔۔
فیس بک کمینٹ

