اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ ) دو بن بلائے مہمان بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پون گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی
نمبر ون کوعمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی انکے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے عمران کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران ہیلی کاپٹر کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔
عمران توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں انکے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔
شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور نئی تعیناتی کے لیے جو نوٹیفیکیشن وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ’انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔
اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا
بتایا گیا کہ ہائیکورٹ میں ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال نے عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ’ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی۔
فیس بک کمینٹ

