اسلام آباد : سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم عمران خان پر حراست کے دوران تشدد کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں یہ خبریں اور عمران خان کی ایک تصویر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس سے شئیر کی جا رہی ہے جس میں ان کے چہرے پر آنکھ کے نیچے نشان ہیں۔
کچھ حلقے اس تصویر کو ٍفوٹو شاپ اور کچھ اصلی کہہ رہے ہیں ، معروف صحافی احمد نورانی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ
”عمران خان کوخود اپنےاعلان کردہ اسلام آباد کے آج کےاحتجاج میں ضرورشرکت کرنی چاہیے۔میراخیال میں دوگھنٹےکی حراست کےدوران ان پر فوج کےتشددکی خبردرست نہیں۔
ان کےدوساتھیوں نےرات بارہ بجےوزیراعظم ہائوس سےانکی روانگی کےبارےمیں ٹویٹس بھی کیے۔آج سامنےنہ آنےسےان پرتشددکی خبرکوتقویت ملےگی“۔
سینیئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے لکھا ہے کہ
”ایک جمہوریت پسند شہری کے لئے یہ خبر ہرگز خوشگوار نہیں کہ عمران خان کچھ دن کے لئے منظر عام پر نہیں آ سکیں گے کیونکہ انہیں تحریک عدم اعتماد کا مطلب سمجھانے کے لئے جو دباؤ ڈالا گیا، نادانستہ طور پر اس کے کچھ نشان ان کے چہرے پر نمودار ہو گئے ہیں۔۔ یہ آج کی تصویر ہے“
فیس بک کمینٹ

