لندن : ( ترجمہ رضی الدین رضی ) توشہ خانہ تحائف کی آمدن سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کی سب سے بڑی کمائی تھی فیکٹ فوکس ویب سائٹ نے پاکستانی صحافی عمران منظور کی تحقیقاتی خبر شائع کی ہے جس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ انہوں نے توشہ خانہ کےتمام تحائف ڈیکلیئرکیے۔ تاہم ٹیکس ریکارڈسےثابت ہواکہ یہ غلط بیانی تھی۔
فیکٹ فوکس نےاس حوالے سے عمران خان کےزندگی بھرکےریٹرن جاری کردیے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے عہدے کے پہلے دو مہینوں میں توشہ خانہ کی اشیاء کو فروخت کرکے زندگی بھر کے پیشہ ور یا کاروباری لین دین سے زیادہ آمدنی حاصل کی۔
سابق وزیر اعظم اور ان کے ترجمانوں کے دعووں کے برعکس، انہوں نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف یا ان تحائف سے ہونے والے مالی فوائد کو اپنے سالانہ ٹیکس گوشواروں میں مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا۔
یہ سب کچھ فیکٹ فوکس تحقیقات کے دوران کیبنٹ ڈویژن کی سرکاری دستاویزات اور عمران خان کے 41 سال کے تاحیات ٹیکس گوشواروں سے ثابت ہوا ہے۔ فیکٹ فوکس نے ویب سائٹ پر سابق وزیراعظم عمران خان کا تاحیات ٹیکس ریکارڈ جاری کر دیا ہے تاکہ قارئین خود ہی حقائق کی صداقت کا اندازہ لگا سکیں۔
سابق عمران خان کو توشہ خانہ گفٹ آئٹمز سے حاصل ہونے والے مالی فوائد ان کی پوری زندگی میں ان کے پاس رکھے گئے کسی بھی اثاثے کی اعلان کردہ مالیت سے زیادہ ہیں۔ عمران خان کی جانب سے اب تک ظاہر کیے گئے اثاثے کی زیادہ سے زیادہ مالیت 48,660,000 روپے ہے جو کہ لاہور میں ان کے زمان پارک والے گھر کی مالیت ہے۔ لیکن انہوں نے توشہ خانہ کی صرف ایک چیز بیچ کر اس سے کہیں زیادہ رقم کمائی۔
درحقیقت، عمران کے پاس رکھے گئے ان تحائف کی کل مالیت 142,042,100 روپے ہے ، جس کا تخمینہ ان کی اپنی پی ٹی آئی حکومت نے لگایا ہے، ان کی کل دولت 141,084,948 روپے سے زیادہ ہے جو انہوں نے سال 2021 میں اپنے تازہ ترین ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کی تھی۔ کل دولت تمام جائیدادوں، بینک کھاتوں، اور تمام غیر منقولہ یا منقولہ اثاثوں کی اعلان کردہ قیمتوں کا مجموعہ ہے۔
خان نے اکثر مڈاس ٹچ کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنے سنہری لمس کے ذریعے، وہ وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور کو اپنے کیریئر کا سب سے زیادہ مالی طور پر منافع بخش بنانے میں کامیاب رہے۔خان صاحب اپنی زندگی کے پہلے چھیاسٹھ برسوں میں جو کما نہیں سکے، وہ اس کے بعد کے پہلے دو ماہ میں کما چکے ہیں۔ اکتوبر 2018 کے دوسرے ہفتے میں اپنی 66 ویں سالگرہ سے پہلے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے دو ماہ کے دوران انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی لین دین کی۔
عمران خان نے 18 اگست 2018 کو پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ انہوں نے بطور وزیراعظم 18 ستمبر 2018 کو سعودی عرب کا پہلا دورہ کیا۔
اپنے شاندار کرکٹ کیرئیر سے لے کر اشتہارات میں اسٹار بننے تک، برطانیہ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے سے لے کر کرکٹ میچوں کی کمنٹری تک، عمران خان وہ رقم کبھی نہیں کما سکے جو انہوں نے اپنے عہدے کے ابتدائی چند دنوں میں کمائی تھی۔ ان کے ٹیکس گوشواروں سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے انہوں نے 2011 میں کمنٹری سے تقریباً 21.5 ملین روپے (دو کروڑ روپے سے کچھ زیادہ) کمائے۔ بطور وزیر اعظم اپنے پہلے دو ماہ کے دوران توشہ خانہ نے صرف 21.32 ملین روپے دے کر 106.383 ملین روپے کے تحائف دیئے اور اس طرح ان 60 دنوں میں 85.05 ملین روپے (آٹھ کروڑ اور پچاس لاکھ سے زائد) کمائے۔ انہوں نے ان ابتدائی دو مہینوں کے دوران 163,000 روپے کے مفت تحائف بھی اپنے پاس رکھے۔ مجموعی طور پر، عمران نے 38.1 ملین روپے ادا کر کے 142 ملین روپے کے تحائف اپنے پاس رکھے اور 800,200 روپے کے تحائف بھی اپنے پاس رکھے۔ انہوں نے بطور وزیراعظم اپنے دور حکومت میں محض توشہ خانہ کے تحائف سے 103.865 ملین روپے کا منافع کمایا۔
اپنے کاروبار اور پیشہ ورانہ منصوبوں کے علاوہ، وہ اپنی جائیداد بیچ کر بھی اتنی رقم نہیں کما سکتے تھے ۔ انہوں نے 2019 میں فیروز والا میں (لاہور کے قریب) اپنی پراپرٹی بیچ کر 69 ملین روپے کمائے اور انہیں یہ رقم بھی تین سالوں میں 23 ملین روپے (2017)، 27 ملین (2018) اور 20 ملین روپے (2019) کی اقساط میں ملی۔
مالی سال 2018-19 کے اپنے ٹیکس گوشواروں میں، عمران نے 39.58 ملین روپے (39,586,836 روپے) کو "دیگر ذرائع” سے آمدنی کے طور پر ظاہر کیا۔ ان کے مطابق یہ رقم وہ رقم تھی جو انہوں نے اس مالی سال میں توشہ خانہ کے تحائف سے کمائی تھی۔ تاہم، اس عرصے میں ان کے پاس رکھے گئے تحائف کی مالیت جیسا کہ ان کی اپنی حکومت نےتخمینہ لگایا تھا 109 ملین روپے (109007500 روپے) ہے ۔ انہوں نے اس مالی سال میں توشہ خانہ کی کسی بھی چیز کا اعلان نہیں کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ان سب کو بیچ دیا ہے۔ لہذا، یہ واضح غلط بیانی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے صرف ایک آئٹم یعنی رولیکس گھڑی کی قیمت کا تخمینہ 85 ملین روپے لگایا تھا۔
فیس بک کمینٹ

