پانی توکسی کی نہیں سنتا۔کوئی چیخیں مارے ،کوئی دھاڑیں مارے ،کوئی مدد کے لیے پکارے ،پانی بہت بے رحم ہوتا ہے۔اسے اپنا راستہ بنانا آتا ہے۔ پہاڑوں کوچیرتا ہوا نکلتا ہے اور اپنے رستے میں آنے والی رکاوٹیں توڑتا ہوا سب کچھ بھسم کرتاہوا آگے نکل جاتا ہے۔ جی ہاں پانی جب آگ بن جائے تو پھر یہ سب کچھ بھسم ہی کرتا ہے۔پہاڑوں کو چھوڑیں ،پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والے بھی اس کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں اور جب ان کے دل درد سے بھرجاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جاں کنی کا عالم ہے۔ کسی کی یاد ،کسی کا درد بھری آواز،کسی کی فریاد،کسی کی آہ وبکا جب دل میں نہیں سما پاتی تو پھر پانی آٓنکھوں کے ذریعے راستہ بناتا ہے اور اشکوں کا سیل رواں کہلاتا ہے۔ آنسوؤں کے سیلاب میں بھی تو بہت کچھ بہہ جاتا ہے۔ بہت سی یادیں ،بہت سے ماضی کے منظر ، بہت سی آوازیں، سب کچھ آنسوؤں کے راستے بہانے کے بعد رونے والا اپنے دل کوہلکا کرلیتا ہے تاکہ نئے دکھ وہاں جگہ بناسکیں اور خانہ دل میں آباد ہوسکیں۔
ہم گزشتہ کئی روز سے لوگوں کو ڈوبتا دیکھ رہے ہیں اور ہم میں سے بہت سے صرف دیکھ رہے ہیں۔ اور اس لیے دیکھ رہے ہیں کہ ہم اس سے زیادہ کچھ کربھی نہیں سکتے۔حوصلہ تو ان کا ہوتا ہے جو اپنے گھروں کو اپنے سامنے ڈوبتا دیکھتے ہیں اور ایک مرتبہ نہیں وقفے وقفے سے کئی مرتبہ دیکھتے ہیں اور جن کے بچے ان کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں اور جو پانی کے زور میں بہہ جانے والی لاشوں کو زندہ سمجھ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھرکہیں دفنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ گیلی زمین مرنے والوں کوپناہ بھی نہیں دیتی۔
2010ءمیں بھی ہم نے یہ سب کچھ دیکھا۔ ملتان سے مظفرگڑھ اور علی پور تک اوردوسری جانب کوٹ ادو سے چوک قریشی اورڈیرہ غازی خان تک حفاظتی بند پر لوگوں کا ہجوم تھا جو امداد لانے والوں کی جانب لپکتا تھا ۔وہ سب مفلوک الحال تھے اور یہ مفلوک الحالی یہاں کے وڈیروں ،مخدوموں اور سرداروں نے صدیوں سے ان کے نصیب میں لکھ دی ہے لیکن انہوں نے بتایاگیا ہے کہ ہرمرتبہ ڈوب جانا خدا نے تمہارے نصیبوں میں لکھا ہے۔ سو وہ ہر دکھ کو خدا کی آزمائش سمجھ کر چپ ہوجاتے ہیں ۔اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں ۔دونوں ہاتھ آسمان کی جانب کرتے ہیں اور” اچھا مالکا تیری مرضی“ کہہ کر خاموش ہوجاتے ہیں۔انہیں کوئی یہ نہیںبتاتا کہ تمہیں اس حال کو اللہ نے نہیں ان مخدوموں نے، وڈیروں نے اور طاقت ور لوگوں نے پہنچایا ہے جوتمہارے حصے کی امداد بھی ہڑپ کرجاتے ہیں۔جوکشتیوں پر تمہاری مدد کے لیے آتے ہیں ،زیادہ طاقت ور ہوں تو ہیلی کاپٹر پرتمہاری بے بسی کانظارہ کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔اوراگر ہیلی کاپٹر میں کوئی فوٹو گرافر بھی ساتھ ہوتو خوراک اور امداد کے پیکٹ تمہاری طرف پھینکتے ہیں۔ تم ہاتھ بلند کرکے امداد کی طرف لپکتے ہوتوان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھا ہوا فوٹو گرافر ایسی شاندار تصویر بناتاہے جوہزاروں ڈالروں میں فروخت ہوجاتی ہے۔اے سیلاب میں ڈوبنے والو، تم کتنے خوش قسمت ہو کہ خدا نے تمہیں بہت سے طاقت ورلوگوں کے رزق کا وسیلہ بنادیا۔اب یہ لوگ تمہارے نام پر امداد وصول کریں گے ا وراپنی این جی اوز کے ذریعے اس میں سے کچھ حصہ تمہیں امداد میں دیں گے اور باقی حصہ اپنی سیمنٹ یا سریا فیکٹری میں لگائیں گے تاکہ تم جب مکان بناﺅ تو انہی کی فیکٹریوں سے رجوع کرو۔
قارئین محترم، بلوچستان سے سندھ ،خیبرپختونخوا ،گلگت بلتستان اور سرائیکی وسیب تک سب کچھ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی ہیں اور پانی میں گم ہوتی ہیںتو ان کی ویڈیو ہماری توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ چاردوست جب ایک پتھر پر کئی گھنٹے اس واحد ہیلی کاپٹر کاانتظارکرتے ہیں جوانہیں اس سیلاب سے بچاسکتا تھا جو ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور جس کی سطح بلند ہوتی جارہی تھی تو ان نوجوانوں کی تصویر عمران خان کے ہیلی کاپٹر کے ساتھ وائرل ہوتی ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر ا س وقت سابق وزیراعظم کو ان کے ووٹ بینک کے ڈوبنے کامنظردکھانے کے لیے گیا ہوا تھا اورجب تک وہ ہیلی کاپٹرواپس آتا ہے ان نوجوانوں کی بھی اگلے جہان واپسی ہوچکی ہوتی ہے۔ اورپھر ہمیں سیاسی موضوع مل جاتا ہے۔کون مدد کررہاہے ،کون نہیں کررہا۔ کون سرکاری وسائل استعمال کررہاہے اورکون نہیں کررہا۔یہ ہمارے معمول کی الزام تراشیاں ہیں۔ ہم بہت حوصلے والے لوگ ہیں۔ آفات بھی ہمارے معمولات تبدیل نہیں کرتیں۔ کیا آپ نے کہیں دیکھا کہ لوگوں نے تعیشات سے گریز کیا ہو اور کہا ہو کہ ہم اپنے یہ معمولات ترک کرکے سیلاب زدگان کی مدد کردیتے ہیں۔ سینما گھروں اور تھیڑوں میں اسی طرح ہجوم ہے کہ ہم جومحفوظ علاقوں میں موجودہیں اپنی تفریح کا کوئی سامان ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس وقت ادب ،ثقافت، فنون لطیفہ، سب بے معنی ہوچکے ہیں۔ صرف انسانی زندگیاں اہم ہیں لیکن ہم انہیں اہمیت ہی نہیں دے رہے۔ ہمارے کتنے ہی دوست ہیں جو اس آفت کاشکارہوئے۔ وہ فاضل پور ، راجن پور،ڈیرہ غازی خان ،اندرون سندھ میں رہنے والے دوستوں کی ہمیں کہیں سے کوئی خبر ملتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں بھی بے گھرہوگیا۔ کسی ایک کا اسباب بہہ جانے کی خبر ملنے پرہم لرزتے ہاتھوں سے اسے فون کرتے ہیں تو اس کی زبانی کسی اورکا دکھ بھی معلوم ہوجاتا ہے۔ سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ آخر ان لوگوں کو ہمیشہ کے لیے دریاؤں اورپانیوں کے رحم وکرم پرکیوں چھوڑ دیاگیا۔ جن راستوں میں دریا بہتاتھا ،جہاں رودکوہیوں کی گزرگاہیں تھیں وہاں طاقت ور بلڈنگ مافیا نے کالونیاں بنادیں۔ہم نے دریا کی زمین پر قبضہ کرلیا۔دریاکسی کی اس لیے نہیں سنتا کہ وہ ہم سے قبضہ واگزار کرانے کے لیے آرہا ہوتا ہے۔ اور جب قبضہ واگزارکرائے جاتے ہیں تو پھر کوئی کسی کی نہیں سنتا۔پھر قابضین کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ پھر وہی دھاڑیں مارتے ہیں ۔پانی کسی کی نہیں سنتالیکن جب وہ بپھرتا ہے تواس کی آوازسب کوسنائی دیتی ہے جیسے آج سنائی دے رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

