میرا آج کا موضوع بہت حساس اور عام طالب علم کے ہمت و حوصلے سے باہر کی چیز ہے گویا اس موضوع پر قلم اٹھانا اپنے آپ کو "آ بیل مجھے مار” کے مصداق اس نظام کے خلاف اعلان جنگ ہے جس میں نقصان سراسر طالب علم کا ہی ہے لیکن ہمیں اپنے ہونے والے نقصان کو بالائے طاق رکھ کر اب یہ حقائق تمام لوگوں کے سامنے لانا ہوں گے ورنہ ہم یونہی اس نظام کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے اور ظالم کو مزید شہہ ملتی رہے گی اس کے مذموم مقاصد پورے ہوتے رہیں گے اور اس نظام میں آگے بھی ایسے ہی لوگ "استاد” بن کر آتے رہیں گے کہ اگر آپ ان کا اصل چہرہ دیکھ لیں تو آپ کو استاد کے نام سے ہی نفرت ہو جائے۔
ایک بچہ جو شروع سے ہی استاد کو دیوتا سمجھتا ہے جسے لگتا ہے استاد ایک عظیم ہستی ہے استاد ایک طالب علم کو زمین سے آسمان کی وسعتوں اور بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے وہ جب ہمارے آج کے استاد کا اصل روپ دیکھے گا تو اسے اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ جہاں استاد زمین سے آسمان تک پہنچاتا ہے وہیں چند اساتذہ آپ کو اوج ثریا سے زمین کی گہرائیوں میں دفن بھی کر دیتے ہیں
ہماری یونیورسٹیوں میں اگر ہم آج کے استاد کو دیکھیں تو یقین کریں دکھ ، ملال اور تاسف کے سوا ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا میرا مشاہدہ و تجربہ ہے کہ ایسا استاد ، استاد کہلانے کا حقدار ہی نہیں ہے ۔
ضروری نہیں ہر یونیورسٹی میں تمام اساتذہ ایسے ہوں مگر کثیر تعداد ایسے اساتذہ کی ہے جو رہبر نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی کامیابیوں کے قاتل ہیں شاذ و نادر ہی اساتذہ ایسے ہیں جو میرٹ اور اصولوں کی پیروی کرتے ہیں مگر زیادہ تر اساتذہ نے اپنے قوانین بنائے ہوئے ہیں اور ان قوانین کی بنا پر طالب علموں کی قابلیت کی جانچ پڑتال ہوتی ہے ۔
ان کے بنائے گئے ان ذاتی قوانین میں یہ بات سر فہرست ہے کہ پسندیدہ اور نا پسندیدہ طالب علموں کے گروہ بنا دیے جاتے ہیں پسندیدہ طالب علموں کو اچھے گریڈز دیے جاتے ہیں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ قابل ہیں یا نہیں بلکہ ان کی کامیابی کی ضمانت صرف استاد سے اچھا تعلق ہوتا ہے ان کی نصابی نہیں بلکہ غیر نصابی محنت کی بنا پر ان کے نتائج بنتے ہیں استاد کی جی حضوری کرنا ، اس کے غلط یا صحیح ہر بیانے کو آگے لے کر چلنے والا طالب علم یونیورسٹی میں اول آنے کا حقدار ٹھہرتا ہے پھر وہ چاہے پڑھے یا نا پڑھے اس بات سے اس کو کوئی لینا دینا نہیں اس کی کامیابیوں کی ضمانت وہ استاد ہے جس کی جی حضوری وہ دل و جان سے کرتا ہے ۔
دوسرا گروہ جو نا پسندیدہ طالب علموں کا گروہ ہے وہ نا پسندیدہ اس لیے ہیں کہ وہ سوچ سمجھ کر آگے بڑھنے والے طلباء ہیں وہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو کہ ان اساتذہ کو ناگوار گزرتا ہے جس سے ایسے طالب علم نقصان اٹھاتے ہیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں فیل کر دیے جاتے ہیں استاد کے سامنے حقائق بیان کرنے کے جرم میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بہت قابل طالب علم بھی نکما بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ وہ استاد کا جاسوس یا خوشامدی طالب علم نہیں ہے لہذا اپنی محنت اور قابلیت کی بنا پر آگے بڑھنے والے طالب علم کے لیے ایسے اساتذہ رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں
طالب علم ہمیشہ اپنے اساتذہ سے کچھ سیکھتے ہیں لیکن ہماری یونیورسٹیوں کے آج کل کے اساتذہ کی سرگرمیوں سے یہی سیکھنے کو ملتا ہے کہ میرٹ کی دھجیاں کیسے بکھیرنی ہیں ؟ کسی کو نشانہ بنا کر کیسے فیل کرنا ہے ؟ اپنے کولیگ اساتذہ کو کس طرح سازشوں اور سیاسی ہتھکنڈوں سے نیچا دکھانا ہے ؟ کس طرح بچوں کے دلوں میں ایک استاد کی شخصیت کو ڈریکولا بنا کر پیش کرنا ہے گویا نفرتوں کے بیج کس طرح سے بونے ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے اس چکر میں طالب علموں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا جاتا ہے وہ ناقابلِ برداشت حرکت ہے تقریباً ہر یونیورسٹی اور ہر شعبے کے اساتذہ دو دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں اور غلطی سے اگر کوئی طالب علم مخالف گروہ کے استاد کے پاس پڑھ لے یا اس کی حمایت میں ایک لفظ بول دے تو وہ دوسرے گروہ کے اساتذہ کا اگلا ہدف ہوتا ہے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے بعض دفعہ تنبیہہ کی جاتی ہے اور بعض دفعہ سنگین نتائج بھگتنا پڑتے ہیں
ہماری یونیورسٹیوں میں تعلیمی نظام ان اساتذہ کے رحم و کرم پر ہے میرٹ کا کوئی نام و نشان نہیں ہے بلکہ ہمیشہ آگے وہ لوگ آتے ہیں جو ان لوگوں کو پیارے ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں جن سے اساتذہ کو کچھ فائدہ حاصل ہو نرگسیت کے مارے ان نام نہاد تعلیم یافتہ افراد کے ہاں کامیابی کا معیار بہت الگ ہے ان کے قابلیت کو جانچنے کے پیمانے الگ ہیں ۔
طالب علم خاص طور پر خوبصورت طالبہ ایسے اساتذہ کی نظر میں بہت ذہین و فطین ہوتی ہے پھر چاہے وہ پڑھے یا نا پڑھے ان کی منظور نظر ہوتی ہے تبھی سر فہرست ٹھہرتی ہے اسی طرح اساتذہ کی خوشامد کرنے والا طالب علم بھی اسی فہرست میں شامل ہوتا ہے ۔
آپ سب جانتے ہیں کہ یونیورسٹیوں میں آخری سمسٹر میں ریسرچ کا ایک پرچہ ہوتا ہے یہ ریسرچ بی-ایس، ایم-اے، ایم-فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر کروائی جاتی ہے مختلف موضوعات منتخب کیے جاتے ہیں اور طلباء کو ان پر ریسرچ کرنے کو کہا جاتا ہے طلباء کا یہ استحقاق ہے کہ وہ اپنے مرضی سے موضوع اور نگران کا انتخاب کر سکتے ہیں مگر ہماری یونیورسٹیوں میں یہ حق چھین لیا گیا ہے اساتذہ اپنی مرضی کا موضوع اور اپنی مرضی کا طالب علم خود چن لیتے ہیں گویا یہ ان کا ذاتی استحقاق ہو عموماً پھر ہوتا یہ ہے کہ صاحب صدر خوبصورت (یہ صنف نازک کی بات ہو رہی ہے) اور پسندیدہ طالب علم اپنی نگرانی میں لے لیتا ہے اس کا ہم نشیں بھی کچھ یونہی کرتا ہے اور بچے کھچے طالب علم باقی مخالف اساتذہ میں یوں تقسیم کیے جاتے ہیں جیسے قربانی کے گوشت کی تقسیم ہوتی ہے بوٹیاں اور ران اپنے پاس ، ہڈیاں چربی اور چھیچھڑے دوسری طرف ۔
ریسرچ کرواتے ہوئے بھی اساتذہ کی خصوصی شفقت مذکورہ بالا طالب علموں پر ہوتی ہے دوسرے طالب علموں پر خصوصی توجہ نہیں دی جاتی جیسے تیسے کر کے زبانی امتحان کا مرحلہ آتا ہے وہاں بھی ان اساتذہ کی اپنی من مانیاں ہوتی ہیں بیرونی ممتحن ایسے بلائے جاتے ہیں جو عموماً ان کے دوست ہوتے ہیں جن کو ریسرچ کی الف ب کا بھی علم نہیں ہوتا وہ آتے ہیں محض ادھر ادھر کی ہانکتے ہیں اور زبانی امتحان لے کر چلے جاتے ہیں اور جب نتیجہ آتا ہے تو قابل طالب علم بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور پیارے اور منظور نظر طالب علم سر فہرست ہوتے ہیں گولڈ میڈلسٹ بننتے ہیں۔
اور بھی بہت سی مذموم حرکات ہیں جن کا ذکر کیا جانا بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے معاشرے میں ہونے والے اس چوہے بلی کے کھیل کو بے نقاب کیا جا سکے استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے مگر ہم اگر اب کبھی استاد اور طالب علم کے درمیان ہونے والی گفتگو سن لیں تو شرمندگی کے مارے زمین میں گڑنے کو دل کرے ایک باپ کبھی اپنی بیٹی سے وہ باتیں نہیں کرتا جو آج کل کے اساتذہ اپنی طالبات سے کرتے ہیں ذ ومعنی باتیں اور غیر اخلاقی گفتگو اب عام سی بات ہے اسی بنا پر ہی پھر آپ کی تعلیمی قابلیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ آپ اس گفتگو کا حصہ کیسے بنتے ہیں اور استاد کا من چاہا مقصد پورا کر پاتے ہیں یا نہیں جس کو میری باتوں سے اختلاف ہو وہ کچھ عرصہ اس سسٹم کا حصہ بن کر مشاہدہ کر سکتا ہے۔
ان سب حالات کا ذ مہ دار صرف استاد نہیں ہے اس کی ذ مہ داری طالب علم ، انتظامیہ اور والدین پر بھی عائد ہوتی ہے انتظامیہ ان کالی بھیڑوں کو جانتے بوجھتے بھی نہیں پوچھتی اور نشانہ بننے والے طالب علم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور بہت کم والدین اپنے بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کی باز پرس کرتے ہیں تبھی اس مقدس پیشے کو ان لوگوں نے بدنام کر رکھا ہے دراصل انتظامیہ خود ملوث ہوتی ہے اس لیے ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اور طالب علم ان کے خوف اور نقصان کی وجہ سے گونگے بہرے بن جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس نظام کی خرابی میں روز بروز اضافی ہو رہا ہے اور ان ظالم و جابر اساتذہ اور خوشامدی طالب علموں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے ہمارے محنتی اور قابل طلباء دل برداشتہ ہو رہے ہیں۔
میری حکام بالا سے خصوصی استدعا ہے کہ اس مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس نظام کی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے ہمارے تعلیمی نظام کو ان شر پسند عناصر سے پاک کیا جائے اور ہمارے قابل اور محنتی طالب علموں کو بلا خوف و جھجک آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں
فیس بک کمینٹ

