اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے جمعہ کی نماز کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ۔ لاہور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور جلاؤ گھیراؤ کی اطلاعات ہیں۔وزیر آباد میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں مشتعل کارکنان سڑکوں پر آگئے، مظاہرین نے ٹائر جلائے اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی قیادت میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر حملہ کے خلاف کوئٹہ کے منان چوک پر احتجاج کیا گیا جہاں مظاہرین نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔دوران احتجاج سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ ’مظاہرین اپنی جانیں قربان کر دیں گے مگر حقیقی آزادی مارچ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘قاسم سوری نے کہا کہ عمران خان پر حملے سے مارچ کے شرکا کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عمران خان پر حملے کے خلاف شٹر بند ہڑتال جاری ہے جہاں قلعہ عبداللہ، نوشکی، پشین، سنجواری اور دیگر اضلاع میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔
انصاف لائیر فورم کی جانب سے پشاور میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔انصاف لائیر فورم کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت پشاور بار ایسوسی کے صدر علی زمان نے کی جہاں تحریک انصاف کے وکلاء نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے عمران خان اور لانگ مارچ کے شرکا پر حملے کی مذمت کی۔دوران احتجاج مظاہرین نے کہا کہ آئین پاکستان ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، عمران خان اس وقت ملک کے سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ عمران خان 7 نشستوں پر بغیر مہم کے جیت گئے اس وجہ سے سب خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

