لاہور : وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ آپ سوچ کر چلیں، آپ اور آپ کے دوستوں کے لیے عمران خان والا راستہ بہتر ہے۔
بول نیوز کے پروگرام ’تجزیہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ انہوں (شریفوں) نے 5 بار دھوکا کیا، مجھے انہوں نے چلنے نہیں دینا تھا تو مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، مجھے پتا ہے کہ عمران خان مجھے چلنے دیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مونس الہیٰ کا بھی ذہن تھا کہ ہم نے عمران خان کے ساتھ جانا ہے، (اس وقت کی اپوزیشن کے ساتھ) جاتے جاتے اللہ تعالیٰ نے ہمارا راستہ تبدیل کرا دیا، ہمیں راستہ دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھیج دیا، میں نے جب ان سے بات کی کہ شریفوں سے یہ خطرات ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ آپ سوچ کر چلیں، آپ اور آپ کے دوستوں کے لیے عمران خان والا راستہ بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی ہمت دی ہے کہ انہوں نے شریفوں کے لیے خوف پیدا کر دیا ہے، ان کی زبان اور سوچ پر ہر وقت عمران خان کا نام رہتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے متعلق سوال کے جواب میں پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ وہ پوری طرح بے نقاب (ایکسپوز) ہو گئے ہیں، یہ (حکومت) سمجھتے ہیں کہ لوگ بھول گئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے عمران خان کی شکل میں ایک بندہ بھیجا ہے، جو ان کے سارے برے کاموں کو یاد کراتا رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ انہوں (شریفوں) نے اور ان کی فیملی نے 5 بار دھوکا کیا ہے، مجھے انہوں نے چلنے نہیں دینا تو مجھے کوئی فائدہ نہیں ہونا، مجھے پتا ہے کہ عمران خان مجھے چلنے دیں گے، انہیں یہ بھی پتا ہے کہ میں نے ڈیلیور کیا ہے، میں نے 1122 جیسے بے شمار ادارے بنائے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مونس الہیٰ کا بھی ذہن تھا کہ ہم نے عمران خان کے ساتھ جانا ہے، جاتے جاتے اللہ تعالیٰ نے ہمارا راستہ تبدیل کر دیا، ہمیں راستہ دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھیج دیا، میں نے جب ان سے بات کی کہ شریفوں سے یہ خطرات ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ آپ سوچ کر چلیں، آپ اور آپ کے دوستوں کے لیے عمران خان والا راستہ بہتر ہے۔
چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ اورنج لائن تباہی ہے، ہر مہینے 14 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے، ہم نے آتے کے ساتھ ہی یہ کیا ہے کہ جتنا سفر ہے، اتنا ٹکٹ کر دیا ہے، اس سے کم از کم آمدن بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پراپرٹی پر پہلے رجسٹری کی فیس 3 فیصد تھی، جسے کم کرکے میں نے ایک فیصد کر دیا، جس سے پراپرٹی بوم کر گئی ہے اور ہمارا ٹیکس بڑھ گیا ہے، ہمارے پاس کافی پیسے آگئے ہیں وہ ہم سڑکوں اور اضلاع پر لگا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ہم نے سارے ہسپتالوں پر لازم قرار دے دیا ہے کہ ان کی چھتوں پر سولر سسٹم لگے، اسی طرح نجی شعبے کے لیے نظام لارہے ہیں کہ وہ پورے پنجاب 100 سے 300 ایکٹر تک بنجر زمین کو لے سکیں گے، اس سے ہم سسٹم میں 5، 6 ہزار میگا واٹ بجلی شامل کرسکیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف کی وفاقی حکومت ہمیں 170 ارب روپے نہیں دے رہی، ہم نے ان کو کہا ہے کہ وہ ہمارے اپنے پیسے ہیں، ہمیں اس میں سے پیسے دیں۔
ایک سوال کے جواب میں پرویز الہٰی نے کہا کہ ویسے تو وفاقی حکومت کی مدت اگست 2023 تک ہے، اب دیکھیں کہ یہ کتنی سمجھداری سے چلتے ہیں، ہمارے پاس اس طرح نظام نہیں ہے کہ کہیں تو الیکشن ہو جائیں، الیکشن ہو جائے تو بہت اچھی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پر رضا مند ہونا، پھر چیف الیکشن کمشنر عمران خان کے خلاف ہے، شریف کہتے ہیں کہ نااہل کرادیں گے، انشا اللہ تعالیٰ عمران خان اس طرح نہیں جائیں گے، پہلے ان کو ڈبوئیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ جو نیا سیٹ اپ آیا ہے، یہ کہتے ہیں کہ ہم نے صاف اور شفاف انتخابات کروانے ہیں، اور انصاف کے مطابق کروانے ہیں، اس صورت میں ہمیں خود بخود ایج مل جائے گا، کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہمارا کام ٹھیک ہے۔ان سے سوال پوچھا گیا کہ نیا سیٹ اپ خود کو ماضی کی لگیسی سے علیحدہ رکھے گا، جس کے جواب میں پرویز الہٰی نے کہا کہ اس سے علحیدہ رکھے گا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

