ہاتھوں میں کچھ پھول بھی ہوسکتے ہیں جاناں
ہم اس راہ میں دھول بھی ہوسکتے ہیں جاناں
ہر لمحے سے بچ کے نکل آئے ہیں لیکن
اک لمحے کی بھول بھی ہوسکتے ہیں جاناں
بیٹھے بیٹھے کھو جانا اور جاگتے رہنا
جیون کا معمول بھی ہوسکتے ہیں جاناں
شاخوں سے جو پھول ترے دامن میں آئے
ان میں چند ببول بھی ہوسکتے ہیں جاناں
ایک ہی مصرعے میں ڈھل سکتے ہیں ہم دونوں
لوگوں میں مقبول بھی ہوسکتے ہیں جاناں
( الگ ۔۔ مطبوعہ جولائی 2010 ء )
فیس بک کمینٹ

