لکیریں کھینچ کر مبہم سا اک پیکر بنانا ہے
پھر اُس میں رنگ بھرنے ہیں اُسے بہتر بنانا ہے
ابھی تو اس محبت میں بہت سے کام باقی ہیں
کہ ہم نے اُس پری رخ کو بتِ کافر بنانا ہے
مجھے کرنا ہے ذکر اس کی شباہت اور طبیعت کا
کہیں پر پھول رکھنا ہے ، کہیں پتھر بنانا ہے
یہ بستی تو بسا لی ہے اور اب ہم نے مکاں اپنا
بنانا ہے مگر اس سے ذرا ہٹ کر بنانا ہے
رضی جس کو محبت میں بنا بیٹھے ہیں دیوی ہم
اب اس کو پوجنے کے واسطے مندر بنانا ہے
( ستارے مل نہیں سکتے ۔۔ مطبوعہ نومبر 1999 ء )
فیس بک کمینٹ

