سویڈن : ترکی نے سویڈن میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کے نسخے کو نذرآتش کرنے کے واقعے پر سخت تنقید کی ہے اور اسے ’قابل نفرت فعل‘ قرار دیا ہے۔
ترکی نے کہا کہ سویڈش حکومت کا احتجاج کی اجازت دینے کا فیصلہ ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔
دراصل ترکی اور سویڈن کے درمیان سفارتی سطح پر تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
ترکی نے سویڈن سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے سویڈن کے وزیر دفاع پال جانسن کا دورہ ترکی منسوخ کر دیا ہے۔ جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اب ’اپنی اہمیت اور معنی کھو چکا ہے۔‘
دوسری طرف پال جانسن کا کہنا ہے کہ ’کل میں نے ترک وزیر دفاع ہولوسی آکار سے جرمنی کے شہر رامسٹین میں امریکی فوجی اڈے پر ملاقات کی۔ ہم نے انقرہ میں ہونے والی ملاقات کو فی الحال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
قرآن پاک نذرِ آتش کرنے کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
سویڈن نیٹو کے فوجی اتحاد میں شامل ہونا چاہتا ہے اور نیٹو کا رکن ترکی اس کے خلاف ہے۔
نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے وہ کسی دوسرے ملک کے اس اتحاد میں شامل ہونے پر اعتراض کر سکتا ہے اور اسے روک سکتا ہے۔
روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ اسی وجہ سے سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں دائیں بازو کے کارکن ترکی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ان مظاہروں کے دوران انتہائی دائیں بازو کی سٹرام کرس پارٹی کے رہنما راسموس پالوڈان نے سنیچر کے روز سٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے باہر قرآن مجید کا ایک نسخہ نذر آتش کر دیا۔
پالوڈن نے گذشتہ سال بھی ریلیاں نکالی تھیں جس میں انھوں نے قرآن جلانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ سویڈن میں دائیں بازو کے انتہاپسند کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھناؤنے فعل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
پاکستان کی سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھناؤنے فعل کی شدید مذمت
انہوں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار کے لبادے کو دنیا بھر میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم پاکستان کا مزید کہنا تھا سویڈن میں دائیں بازو کے انتہا پسند کی جانب سے کیا گیا شرمناک فعل ناقابل قبول ہے۔

