دورہ بھارت میرے لیے بے پناہ خوشی کاباعث اس لیے تھا کہ میری زندگی کا یہ انمول اور اہم واقعہ تھاکہ مجھے اپنے پیارے دیس پاکستان سے بیرون ملک یعنی انڈیا جس سے ہماری مذہبی اور سرحدی وثقافتی حالات نہ صرف مختلف ہیں بلکہ ہروقت کشمیرہویا بابری مسجددونوں ملکوں کے لیے ہمیشہ سے متنازعہ چلے آرہے ہیں اور دونوں طرف کی حکومتوں کے لیے خودساختہ زندگی اورموت کامسئلہ دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پردہشت گردی کاالزام لگاکرپوری دُنیاکوباورکرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے بلکہ بھارت میں جب بھی کوئی واقعہ رونماہوتا ہے تواُس کی ذمہ داری پاکستان پرڈال دی جاتی ہے ۔
میراخارجی اُمور یاتاریخ سے دُوردُورکاواسطہ نہیں ہے لیکن (میری ہوم منسٹر) کاتانابانا بھارت کے شہرالہ آباد اورلکھنو کی شائستہ تہذہب وتمدن سے جڑا ہواہے۔ اسی ناتے سے مجھے بھارت جانے کااتفاق ستمبر2010میں ہواتھا۔اور یہ بھارت سرکارکی مہربانی تھی کہ مجھے بھارت کے اٹاری اسٹیشن سے لیکردہلی اسٹیشن اوردہلی سے بس کے ذریعے علی گڑھ براستہ کانپور الہ آباد میں پانچ روز قیام اور پھرٹرین کے ذریعے الہ آباد سے (اِندور)اور پھراندور سے دہلی اور دہلی ہی میں حضرت غالب کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی اور برصغیرکے ممتازصوفی حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مزار پرمیری حاضری، پھرجامع مسجددہلی اور تھوڑی سی دیرچاندنی چوک میں حلیم والے کی دُکان اور پھرواپس دہلی اسٹیشن پر امیگریشن کے تمام امتحانات کاآخری پڑاؤ واپسی پریعنی اٹاری اسٹیشن پر اس وقت ہوا جب میرے دورہ بھارت کا طلسماتی سحرالٹارنگ دکھانے لگا جب اٹاری اسٹیشن پر امیگریشن والوں نے بھارت سے شائع ہونے والے چنداخبار جودوران سفرمیرے زیرمطالعہ تھے اور دہلی میں چلنے والی میٹروٹرین کابک لٹ امیگریشن والوں نے میرے مسلسل اصرار کے باوجود اپنے قبضے میں لے لیا۔ میرے اخباروجرائد میں دلچسپی کاپہلو اس حدتک تھا کیونکہ میں اخبارسے وابستہ ہونے کے حوالے سے اسے ٹیکنیکل اندازمیں موازانہ کرناتھا بظاہرکوئی عوامل کارفرمانہ تھے لیکن شایدیہ بھارت سرکارکے احکامات جس کی بجاآوری امیگریشن والوں کے ذمہ تھی۔
اپنے دورہ بھارت کی کہانی کسی دبستان سے کم نہ تھی جسے لکھنے لگوں توشایدایک سفرنامے کی شکل اختیارکرجائے۔مگرآج پھر ماضی کی طرح ایک ایسے ایشوپرجس کاتعلق دوطرفہ ملکوں کے خوشگوارتعلقات کی طرف تھا جسے (امن کی آشا) کانام دیاجارہا ہے، سے وابستہ میرے ماضی کے لحاظ سے وہ تاریخ سازلمحے جو مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے۔وہ اس لیے کہ جب پراگ اِن ہوٹل کے منتظمین کی نشست میں صدرِ محفل جناب سعود عثمانی جو طیبہ کالج کے پرنسپل تھے اور دیگرشرکاء نے مجھے بطورشاعرنہ صرف مجھے گلدستہ پیش کیابلکہ مجھے پوشاک پہناکرمجھ سے اورمیرے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ یکجہتی ومحبت کااظہارکرتے ہوئے امن کی آشاکی طرف ایک قدم بڑھایا باجو اس لیے کہ یہ میرے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ تھا میں نے بھی شرکامحفل کاسٹیج پر کھڑے ہوکرنہ صرف شکریہ اداکیابلکہ نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ پاکستان کی طرف سے شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میراجس طرح خلوص دل کے ساتھ سواگت کیا ہے اب میں بھی ایک وطن پرست کی حیثیت سے اپنے ملک کے نمائندہ یعنی خیرسگالی سفیرکے طورپر آپ کوپیغام محبت دیتاہوں جہاں جہاں پہنچے، مجھے ان کویہ بتانا تھا کہ پاکستان کی عوام بھی اسی طرح بھارت کی عوام کے ساتھ محبت کے رشتوں میں بندھی ہوئی ہے۔اور پاکستان ایک خودمختارذمہ دار ایٹمی قوت کے طورپرپوری دُنیا میں جانا جاتا ہے۔
ہم دونوں ملکوں میں نہ صرف امن قائم کرسکتے ہیں بلکہ دونوں ملکوں کی عوام محبت کے نئے رشتوں میں نئے عہدوپیما کے ساتھ جنم لے سکتے ہیں۔ میری ان باتوں کوہا ل میں موجود شرکاء نے نہ صرف بڑی دلچسپی کے ساتھ سنا بلکہ تالیوں کا ایک سماں باندھ دیا۔ ہمیں سب سے پہلے دونوں ملکوں میں بڑھتی ہوئی غربت اور مسائل کے پُرامن حل صرف اور صرف مذاکرات سے ہی وابستہ رہنا ہے لہٰذا دونوں ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی عوام کو قریب لانے کے لیے کھلے دل اورعزم مسلسل کے طورپر سب سے پہلے کم سے کم شرائط پر ویزہ پالیسی اور غیرضروری رکاوٹوں کوختم کرکے ویزے کاطریقہ کارنہایت آسان اور موزوں اختیارکیاجائے۔ ثقافت اور معیشت کی ترقی کے لیے بھرپور سودمنداقدامات اُٹھانے چاہیے تاکہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی فضاکو بحال کرکے محبت کے رشتوں کی نئی تاریخ رقم کی جائے۔ یہ دونوں ملکوں کے لیے اورعوام کے لیے فائدہ مند اور دُوررس نتائج سے ہم آہنگ تاریخ رقم ہوگئی۔ سماجی سطح پر میل ملاقات میں الہ آباد کے مختلف مکاتب فکرکے اہل نظراوراہل قلم سے جب گفتگوہوئی توان کانقطہ نظربھی کچھ یوں تھا کہ پاکستان اور بھارت سماجی سطح پر خیرسگالی جذبات سماجی رویوں کو عام کریں مگرحکومتی سطح پر اداروں کےڈپلومیٹک رویے بالکل برعکس نظرآتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں کنٹرول لائن پرجھڑپیں اور دونوں ملکوں کی سرحدوں پر رُونماہونے والے واقعات اورچند انتہا پسندافراد اور اداروں کارویہ قابل مذمت ہے۔ اور ان کوخاطرخواہ اثرمیں نہیں لیناچاہیے۔ میرے مشاہدے کی حقیقت میں دونوں ملکوں کے معاشرتی ڈھانچے میں پُروئے ہوئے لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں بلکہ یوں کہاجائے کہ جوانوں کی سرحدپر بلااشتعال فائرنگ سے ہونے والی شہادتیں بھارت کے اہل علم اور اہل فکرکے لیے لمحہ فکریہ بھی ہیں۔ انسان کی قدروقیمت اور بلندمرتبہ کووہ بھی یقناً فوقیت دیں گے۔ پاکستان کی نئی حکومت آنے سے قبل میاں نوازشریف کو بھارتی وزیراعظم کا ناصرف مبارکبادی پیغام بلکہ میاں نوازشریف کو دورہ بھارت کی دعوت بھی دے دی۔ اسی طرح کاپیغام محبت ڈاکٹرمن موہن سنگھ اپنی ہونے والی حلف برادری میں شرکت کے لیے آئندہ منتخب ہونے والے وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے بھارت کے وزیراعظم کو دعوت نامہ دیاجوانہوں نے نئے عہدوپیماں کے ساتھ چھوڑدیالیکن ہمارے سفارت کارکے ساتھ بدسلوکی ہمارے دونوں ملکوں کی بالعموم بالخصوص بھارت کی بظاہرشائستہ تہذیب وتمدن وبہترسفارت کاری کے برعکس ہے اس سے ناصرف بھارت کواجتناب برتناہوگا بلکہ آنے والے دنوں میں پاکستان سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے اپنی طرف سے کھلے دل کے ساتھ پاکستان سے دوستی (یاجسے ہم امن کی آشاکانام دے سکتے ہیں) کے لیے اپنا کردار اداکرناہوگا جس سے پوری دنیا کے لیے قابل قبول ترقی یافتہ قوموں اور ملکوں کے لیے ایک روشن نویدکے طورپر دیکھا، سمجھا اورپرکھاجائے۔ شکریہ

