بدقسمتی سے ملکی سیاسی جنگ اس وقت سپریم کورٹ میں لڑی جا رہی ہے۔ بظاہر چیف جسٹس عمر عطا بندیال اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں ناکام ہیں۔ اب چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سہ رکنی بنچ نے تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو منگل کو سنانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ تاہم اس دوران سامنے آنے والی پیش رفت سے سپریم کورٹ کی شہرت، وقار اور غیر جانبداری کے بارے میں شکوک کو تقویت مل رہی ہے۔
ان حالات میں اگر چیف جسٹس کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ یک طرفہ طور سے کوئی حکم جاری کرتا ہے تو اس پر عمل درآمد کا کوئی مناسب میکنزم موجود نہیں ہے۔ حکومتی اتحاد واضح کرچکا ہے کہ اسے تین رکنی بنچ پر اعتبار نہیں ہے گویا حکومت کسی یک طرفہ فیصلہ سے پہلے ہی بریت کا اظہار کرچکی ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کی وکالت کرتے ہوئے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’ایک تاثر یہ بھی ابھر رہا ہے کہ یہ بنچ جانب دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ‘ انہیں اس معاملے میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ تین ججوں کو اس درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے وقت اور حالات کو مد نظر رکھنا چاہیے ’۔
عرفان قادر کے دلائل کے علاوہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیے اور عدالت پر زور دیا کہ کہ فل کورٹ بنچ بنایا جائے۔ چیف جسٹس نے فل کورٹ بنچ بنانے سے ایک بار پھر انکار کیا تاہم کہا کہ لارجر بنچ کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ پہلے یہ معاملہ طے کرے کہ یکم مارچ کا فیصلہ چار تین کی اکثریت سے ہوا تھا جس میں سات میں سے چار ججوں نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے سوال پر سوموٹو نوٹس لینے کو مسترد کیا تھا۔
لیکن دو جج جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ اختلافی رائے لکھنے کے بعد بنچ کی کارروائی میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ یا باقی ماندہ پانچ رکنی بنچ نے تین دو کی اکثریت سے فوری طور سے انتخابات کروانے کا حکم جاری کیا۔ اسی بنچ میں شامل دو ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کا موقف ہے کہ چار جج سوموٹو نوٹس کو مسترد کرچکے تھے، اس لیے یکم مارچ کا حکم درحقیقت تین کے مقابلے میں چار کی اکثریت سے اس معاملہ کو مسترد کرتا ہے۔ اس رائے کے مطابق یکم مارچ کے جس حکم کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی ہے، وہ حکم تو موجود ہی نہیں ہے۔ اس لیے نہ تو الیکشن کمیشن نے کچھ غلط کیا ہے اور نہ ہی صدر کو پنجاب میں انتخاب کی تاریخ دینے کا اختیار حاصل تھا۔
اٹارنی جنرل نے اسی موقف کو حکومت کا نقطہ نظر بتایا اور عدالت پر واضح کیا کہ اس نکتہ کی وضاحت کے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اسی لیے حکومت مسلسل فل کورٹ بنچ کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ اس آئینی معاملہ پر کوئی ایسی رائے سامنے آ سکے جسے سب خوش دلی سے قبول کر لیں۔
چیف جسٹس نے موجودہ پٹیشن کی سماعت کے آغاز میں تو یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ٹیکنیکل معاملہ ہے جس پر عدالتی کارروائی کا رخ موڑا نہیں جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ میں توسیع کر سکتا ہے۔ البتہ آج جب ایک بار پھر اسی سوال پر اصرار کیا گیا تو چیف جسٹس نے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ایک عدالتی فیصلہ پر عمل ہو چکا ہے اس لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب حکومت اور اختلافی نوٹ لکھنے والے دو فاضل جج اس حکم کے برعکس رائے رکھتے ہوں جسے ایک رائے کے مطابق عدالت کا جائز حکم قرار دیا جا رہا ہے تو اس معاملہ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب عدالت جو چاہے فیصلہ دے لیکن اگر اس نکتہ کی وضاحت نہ کی گئی کہ یکم مارچ کا حکم واقعی اکثریتی ججوں کی رائے تھی اور اس کی کیا بنیاد تھی، اس وقت تک اس اہم سوال پر سپریم کورٹ کی پوزیشن مشکوک رہے گی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے آج اپنے دلائل میں چیف جسٹس پر یہ بھی واضح کیا کہ انتخابات کی تاریخوں کا تعین الیکشن کمیشن کا آئینی اختیار ہے، کوئی عدالت کمیشن کے اس اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ! آپ نے گزشتہ دو تین دنوں کا سوشل میڈیا دیکھا ہے؟ اس میں پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے حوالے سے آپ ہی ٹاپ ٹرینڈ کر رہے ہیں اور اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس تین رکنی بنچ کا جھکاؤ ایک جماعت کی طرف ہے‘ ۔
چیف جسٹس نے اس دلیل کو بھی یہ کہہ کر نظر انداز کرنا مناسب سمجھا کہ وہ سوشل میڈیا نہیں دیکھتے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کی توجہ اس نکتہ کی طرف بھی مبذول کروائی کہ ’ملک میں گزشتہ پچاس سال کے دوران قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز ہوتے رہے ہیں‘ ۔ دراصل یہی ایک نکتہ تنازعہ کی بنیاد بھی بنا ہوا ہے۔ گو کہ تحریک انصاف حکومت پر انتخابات سے بھاگنے کا الزام عائد کرتی ہے لیکن حکومت کے اس موقف کا کوئی صائب جواب سامنے نہیں آ سکا کہ اگر دو صوبوں کے انتخابات اب ہو گئے تو کیا چند ماہ بعد جب عام انتخابات ہوں گے تو کیا آئین کے مطابق نگران حکومتیں قائم کرنے کے لیے ان نومنتخب اسمبلیوں کو بھی توڑ دیا جائے گا؟ اسی لیے یہ اصرار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات ایک ہی وقت پر ہونے چاہئیں۔ تاہم اس وقت سیاسی تصادم کے ماحول میں سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر اتفاق رائے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ملک کی متعدد تنظیمیں اس وقت کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ انتخابات کا تنازعہ کسی طرح ختم ہو سکے۔ منگل کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کوششوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے لیکن دوسری طرف عمران خان نے ایسی کسی مشاورت میں تحریک انصاف کی شرکت کا اعلان کرنے کے باوجود اب یہ واضح کیا ہے کہ ان کی جانب سے پارٹی کے دوسرے لیڈر بات کریں گے، وہ خود ایسی کسی کانفرنس میں شامل نہیں ہوسکتے جس میں موجودہ حکمران جماعتیں شریک ہوں۔
کیوں کہ ان کے خیال میں یہ سب ’چور لٹیرے‘ ہیں اور وہ ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ عمران خان کا یہی غیر جمہوری طرز عمل اس وقت سپریم کورٹ کے گلے کی ہڈی اور ملک میں سیاسی و آئینی بحران کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ اگر سیاست میں مشاورت و مفاہمت کا دروازہ بند کر کے دشمنی و عناد کا رشتہ استوار کر لیا جائے تو صرف ایک ہی ایک طریقہ سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے کہ ایسا کوئی لیڈر یا تو بحران پیدا کرتا رہے یا کوئی غیبی قوت اسے اقتدار تک پہنچانے پر آمادہ ہو۔ تاہم ماضی قریب کے حالات دیکھتے ہوئے اب اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ملک کے کسی نئے انتخابات میں 2018 کے انتخابات جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں جاری سیاسی دنگل کی بنیاد اگرچہ پنجاب کے انتخابات کو قرار دیا جا رہا ہے لیکن درحقیقت اس تنازعہ کے ڈانڈے دفعہ 184 ( 3 ) کے تحت فروری کے آخر میں کیے گئے اقدام سے جا ملتے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے میں تو سپریم کورٹ نے آئینی شق 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے ملک میں موجودہ آئینی تنازعہ کو جنم دیا۔ متعدد قانون دان اس پانچ رکنی بنچ میں شامل دو ججوں کے اس اختلافی نوٹ سے متفق ہیں کہ یہ تشریح کرتے ہوئے آئین کو ازسر نو تحریر کیا گیا جو بہر صورت سپریم کورٹ کا اختیار نہیں تھا۔ وہ فیصلہ بھی محض تین ججوں کی رائے سے ملک پر ٹھونسا گیا تھا۔
پنجاب و خیبر پختون خوا میں انتخاب کے سوال پر سوموٹو نوٹس بھی جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ دونوں جج حکومتی پارٹیوں کے نزدیک متعصب اور جانبدار ہیں۔ لیکن تمام تر اعتراضات کے باوجود چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن کو موجودہ بنچ کا حصہ بھی بنایا ہوا ہے۔ آج کی سماعت میں الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس کی کچھ وجوہات ہیں لیکن ’میں وہ وجوہات آپ کو بتانے کا پابند نہیں ہوں‘ ۔ اس پر عرفان قادر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ’مجھے نہیں، قوم کو ہی بتا دیں‘ ۔ چیف جسٹس اس پر خاموش ہو گئے۔
تصادم و تنازعہ کی اسی صورت حال میں آج سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی ایک عدالتی حکم کے خلاف سرکلر جاری کرنے پر سرزنش کی ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ وہ سرکلر واپس لیا جائے اور رجسٹرار آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اپنے عہدے سے علیحدہ ہوجائیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ خط اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو بھی بھیجا تھا اور رجسٹرار عشرت علی کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کا مشورہ دیا تھا۔ اس خط کے بعد آج وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو فوری طور سے عہدے سے ہٹا کر اسٹبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رجسٹرار سپریم کورٹ درحقیقت سوموٹو اختیار کے استعمال کے حوالے سے ججوں کے دو گروہوں کی مختلف آرا کی وجہ سے اس مشکل میں گرفتار ہوئے ہیں۔ 29 مارچ کو ایک سہ رکنی بنچ کی قیادت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے سوموٹو اختیار کے تحت زیر غور تمام مقدمات کو اس وقت تک مؤخر کرنے کا حکم دیا تھا جب تک اس حوالے سے قواعد تشکیل نہ دے لیے جائیں۔ اسی دوران پارلیمنٹ نے سوموٹو نوٹس لینے کا اختیار چیف جسٹس کی بجائے سینئر ججوں کی تین رکنی کمیٹی کے حوالے کرنے کا قانون پاس کیا تھا جو اب منظوری کے لیے صدر مملکت کے پاس گیا ہوا ہے۔
چیف جسٹس کے اصرار، حکومت کی مستعدی اور عدالت عظمی کے ججوں میں شدید تقسیم نے ملک میں سیاسی بحران کو شدید آئینی بحران میں تبدیل کر دیا ہے جس میں اصول قانون کی بجائے گروہ بندی اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ منگل کو اگر سہ رکنی بنچ نے اس صورت حال کو سمجھے بغیر یک طرفہ فیصلہ صادر کیا تو مستقبل قریب میں سپریم کورٹ کے اختلافات سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خیال ہے کہ ایسی صورت حال مارشل لا یا ایمرجنسی کے نفاذ کی طرف جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے جب ملک کے تمام اداروں اور پارٹیوں کو مل کر ملکی معیشت بحال کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے تھا، ایسے وقت میں تمام ادارے اور پارٹیاں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو کر حالات کو خراب کرنے پر مصر ہیں۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

