’’آواز‘‘ ایک عالمی ماحولیاتی ادارہ ہے جو گزشتہ برس سے ساری دنیا کو وارننگ دے رہا ہے کہ2023ء بہت گرم گزرے گا۔ حتیٰ کہ سمندری مخلوق بھی اس کی حدت سے مر سکتی ہے۔ اس وارننگ کے ساتھ مثالیں دے رہا ہے کہ جن علاقوں میں کبھی گلیشیر پگھلے نہیں تھے، وہاں ابھی سے گلیشیر کے علاوہ مرغابیوں کی نسل تک متاثر ہورہی ہے۔ یوں زبانی کلامی، خاص طور پر شیری رحمان کوبھی پلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنے کے علاوہ اس خوف کا احساس بھی ہے کہ ابھی تو ہم پچھلے سال کے سیلاب سے برباد آبادیوں کی پوری طرح مدد نہیں کرسکے کہ پھر گرمی ہمیں انتباہ کررہی ہے کہ برسات کے پانی کو محفوظ کرنے اور بلوچستان کی وہ آبادیاں جو گزشتہ پندرہ دنوں کی بارشوں میں گھروں اور فصلوں، دونوں کو تباہ کرنا شروع ہوگئی ہیں۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان تو اس وقت صبح و شام آئین کی تکمیل کے پچاس سال منانے کی تقریبات میں مصروف ہے اور دوسری طرف کسی کا استخارہ یا جلالی عمل یہ نہیں بتاسکتا کہ انتخاب کے نام پر قوم کو مفت آٹے کی تقسیم کیلئے تو فنڈز خرچ کررہے ہیں مگر الیکشن کے نام پر صوبے ہوں کہ وفاق، خالی جیبیں دکھاتے ہوئے، دانت نکوستے آمنے سامنے ہیں اور گندم کی تازہ فصل کو بحفاظت رکھنے کیلئے سامان نہیں کررہے جبکہ ہر روز خبر ہے کہ چینی، گندم اور چاول کے گوداموں میں رکھے اسٹاک، بارشوں اور نمی کے باعث، ناقابل استعمال ہوگئے ہیں۔ اس کو آپ ملی بھگت بھی کہہ سکتے ہیں کہ کسی طرح بھی روٹی سستی نہ ہوسکے اور ادرک800روپے کلو سے نیچے نہ آسکے جبکہ انڈیا میں سبزیوں کی فصلوں کو کسان جلا رہے ہیں کہ ڈیڑھ روپے کلو آلو فروخت نہیں کرسکتے۔ ادھر پاکستان میں ہم آئین کی ڈگڈگی بجاکے دنیا کو بہکا رہے ہیں کہ ہم گزشتہ75برس سے آئینی حکومتیں، دل و جان سے چلاتے رہے ہیں۔ اس دور میں ساری سیاسی جماعتیں مسلسل جھوٹ بول رہی ہیں اور آئین میں من مانی تبدیلیاں جاری ہیں۔ جہاں تک عدالت عالیہ کا منظرنامہ ہے وہ تو مولوی تمیزالدین خان کے زمانے اور خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمیٰ سے اتارنے کی عبرتناک تصویروں کے ساتھ موجود ہے۔
اب تاریخ کو ہم آئین کے مطابق صرف اور صرف گزشتہ50سال تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ ہم سقوط مشرقی پاکستان کے المیے سے اپنی گزشتہ نسلوں کو آگاہ ہی نہیں کررہے ۔ اس لئے جب میں پروفیسر خواتین و حضرات سے پوچھتی ہوں کہ بتائیے بنگلہ دیش کا پہلا نام کیا تھا۔ ایک فیصد بھی واپس جواب میں مشرقی پاکستان نہیں کہا جاتا ہے بلکہ بس اک خامشی ترے سب کے جواب میں۔
میں نے یہ حوالہ اس لئے دیا کہ پارلیمنٹ کنونشن میں کہاگیا ہے کہ اب آئین کو نصاب میں پڑھایا جائے گا۔ اس کا انجام کہیں شفقت محمود کے بنائے ہوئے سلیبس جیسا نہ ہوکہ ادھر انڈیا میں پورے مغل دور کو نصاب سے خارج کررہے ہیں۔ اب ہر روز ہزاروں لوگ تاج محل دیکھنے آتے ہیں۔ ان کو کیا بتائیں گے کہ تاج محل کس بی جے پی کے نمائندے نے بنایا تھا۔ تاریخ کے ساتھ عملی مذاق ہم دو ملکوں میں جس رفتار سے جاری ہے،اس کا انجام کیا ہوگا کہ انگریزوں کے علاوہ خود ہندو اسکالرز نے بھی مسلمان بادشاہوں کے ادوار اور تعمیرات کا بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اب واپس پاکستان آجائیں، یہاں ایک کام کمپیوٹرز ٹیبل کے ذریعہ کرنے کیلئے ہمارے بہت سے پروفیسرز کو بھی کام پر لگایا گیا ہے۔ کافی علاقوں سے اطلاعات ہیں کہ گھروں کے اندر جانے سے گریز کرتے ہوئے وہ صرف مردوں کا اندراج کررہے ہیں۔ پہلے ہم عورتوں کے ووٹ ڈلوانے سے گریزاں رہے ہیں۔ اب ایسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے کہ خود مردم شماری کتنی مدت بعد ہورہی ہے۔ ہم مسلمان آبادی بڑھانے میں سب سے تیز ہیں۔ زمانہ بے شک قیامت کی چال چلے۔ ہماری وہی بے ڈھنگی چال کب تک دنیا میں ذلیل کروائے گی۔
جب سے اعلان ہوا ہے کہ18ممالک اپنی کرنسی کو یورو کی طرح ایک بنانے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ مجھے یہ بھی پڑھنے کو ملا کہ اس فہرست میں اول تو ہمارا روپیہ سب سے نیچے آچکا ہے تو پھر معاشی طور پر تین سو روپے کا ایک ڈالر کا چکر کب تک چلے گا۔ کب تک ہم لوگ اتنا مہنگا حج کرسکیں گے۔ کب تک اخبار، دستر خوانوں کے گرد بیٹھے مردوں اور بچوں کی تصویریں شائع کرتے رہیں گے کہ خواتین کےلئے کہیں ایک بھی دسترخوان نہیں سجایا جاتا۔ گورنر سندھ اپنے ہاؤس میں پکوڑے تل رہے ہیں مگر خواتین کا حصہ یہاں بھی نہیں دکھایا جاتا۔
یہاں مجھے اپنی دوست جمیلہ ہاشمی کا گھرانہ یاد آگیا۔ ان کی شادی پیر صاحب سے ہوئی تھی۔ گھر میں ہر طرح کے سرمائے کی ریل پیل تھی۔ لاکھوں نوکر تھے، باورچی خانے میں طرح طرح کے کھانے بنوائے جاتے۔ کھائے بھی خوب جاتے مگر جب نوکروں کی باری آتی تو ان سے کہا جاتا کہ جاؤ تنور پہ کھانا کھا آؤ۔ اس زمانے میں 4آنے کی روٹی اور دال مفت کھانے کو ملتی تھی۔ ایسے تنور، عام طور پر خواتین چلاتی تھیں۔ اب تنوروں کی جگہ بڑی بڑی دکانوں نے لے لی ہے اور وہ سارے تنور جو دوپہر کو روٹیاں، شام کو مکئی بھونتے اور رات کو پھر سات بجے، روٹیاں لگاتی عورتیں تھیں۔ اب وہاں منظر بدل گیا ہے۔ البتہ خواتین کا گھروں سے آرام پسند خواتین کیلئے ان کی پسند کے کھانے فروخت کرنے کا کاروبار خوب پھیل رہا ہے۔ مجھے یہاں ملتان اور اس کے سارے دیہات میں عورتوں کے جوتے کاڑھنے کا کام یاد آرہا ہے۔ وہ سب بچے کو لے کر ایک تنور پر اکٹھی ہوکر باری باری روٹی لگاتی جاتیں اور پھر کڑھائی والے سلیم شاہی جوتے بنانے میں جت جاتیں۔ کیا کیا یاد کروں، مٹر کی پھلیاں چنتی اور گول مرچ کی بوریاں بناتی عورت کی تقدیر ابھی وہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

