عمرکے آخری حصے میں بہت سی باتیں، بہت سی حکایتیں، مظاہرے، وسوسے، اندیشے، اور ڈر کی وحشتیں واضح ہونے لگتی ہیں۔ اس بیانیے، اس عرض داشت کے ساتھ اگر مگر کی شرط لاحق ہے۔ عمر کے آخری حصہ میں، بڑھاپے میں ایسی کیفیتیں تب واضح ہونے لگتی ہیں جب ہمارا دماغBrainصحت مند ہوتا ہے، دماغ ٹھیک سے کام کررہا ہوتا ہے اور ابہام کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گیا ہوتا ہے۔ ورنہ جسم کے دیگر بقائے حیات اعضا جیسے دل،گردے، جگر وغیرہ کی طرح مغز، دماغ،بھیجا بھی بڑھتی عمر کے ساتھ کمزور پڑجاتا ہے۔ یادیں منتشر ہوجاتی ہیں، غائب ہوجاتی ہیں۔ بھولی بسری حکایتیں، قصے، کہا نیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ پل بھرپہلے سنی ہوئی بات ، پل بھر بعد بھول جاتے ہیں۔ یہاں ہوتے ہوئے بھی اکثر لگتا ہے، ہم یہاں نہیں ہوتے۔ لیکن جب دماغ اپنی توانائی کے ساتھ کام کررہا ہوتا ہے تب اسرارو رموز سےپردے اٹھنے لگتےہیں۔ پر اسرار اوراق میں لپٹی ہوئی کہانیاں اورقصے سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ سیاسی واقعات کی گتھیاں سلجھنے لگتی ہیں۔ صدیوں سے مخفی رکھی ہوئی حکایتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ہم چھوٹے ہوں، بڑے ہوں، جوان ہوں یا پھر بوڑھے ہوں، زندگی میں کچھ ایسے غیر معمولی واقعات کے عینی یعنی چشم دید گواہ بن جاتے ہیں جن واقعات کو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے،ایسے واقعات ہمیں آخری دم تک یاد رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ تب ممکن ہوتا ہے جب دماغ یعنی برین اپنی توانائی سے کام کرنے کے قابل ہو۔ عام طور پر دماغ آخری عمر تک تب کام کرنے کے قابل رہتا ہے، جب دماغ کو لگاتار مصروف رکھا جائے۔یہ دماغ کے معالج Neurologistکی رائے ہے۔ مجھے درست لگتی ہے۔ مجھے میرے دماغ نے اب تک کوئی بڑا دھوکا ، کوئی فریب، کوئی بڑا د غا نہیں دیا ہے۔ میں کوئی سائنسی ایجادات نہیں کرتا۔ میں اپنے کمپیوٹر سے شطرنج کھیلتا رہتا ہوں۔ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے کھلونوں سے کھیلتا ہوں۔ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ گتھیاں سلجھاتا ہوں، سنی سنائی باتوں کی تہہ تک پہنچ جاتا ہوں۔
تاریخ میں سطروں کے درمیان نظر نہ آنے والی، پوشیدہ سطریں تلاش کرتا ہوں۔پاکستان کی مکمل تاریخ میں دوایسے سیاستدان دیکھے ہیں جن کے آباؤاجداد اور ان کی اولاد کو سیاست سے کسی قسم کا لینا دینا نہیں تھا۔ میں کسی قسم کی گستاخی نہیں کررہا۔یہ محض اتفاق ہے۔ موازنہ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ دونوں کی سیاست میں آنے سے پہلے سیاست سے کسی قسم کی نسبت نہیں تھی۔ وہ سیاستدان تھے ہی نہیں۔ ایک تھے قائد اعظم محمد علی جناح۔ ان کے والدین سیاستدان نہیں تھے۔ ان کے بعد ان کی اولاد نے کبھی سیاست سے کسی قسم کا واسطہ نہیں رکھا۔ اب تک کراچی میں قائد اعظم کے رشتہ دار بستے ہیں مگر انہوں نے کبھی سیاست کی بھول بھلیوں میں قدم نہیں رکھا۔ یہ کہتے ہوئے معافی کا طلبگار ہوں کہ قائد اعظم سیاستدان نہیں تھے۔ وہ اصول پرستStatesman تھے،مدبر تھے۔ لیڈر تھے۔ اپنے اصولوں پر ٹس سے مس نہیں ہوتے تھے۔ سنگین سے سنگین حالات میں بھی لچک نہیں دکھاتے تھے۔ سودے بازی نہیں کرتے تھے۔اپنے اصولوں اور کہی ہوئی بات پر اٹل رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کیلئے برصغیر کی سیاست میں گنجائش نہیں ہوتی۔ پاکستان بن جانے کے بعد ان کے ساتھ اچھا برتاؤنہیں ہوا۔آپ تصور نہیں کرسکتے کہ ملک کے سربراہ، ملک کے بانی کو اسقدر بے رحمی سے ٹوٹی پھوٹی ایمبولینس میں، ستمبر کی چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں ماہیِ بے آب کی طرح چھوڑ دیاگیا ہو۔ اس ہولناک واردات کے چند گھنٹوں بعد قائد اعظم یہ دنیا چھوڑ کرچلے گئے تھے۔قائد اعظم امن وآشتی اور بھائی چارے کے داعی تھے۔ وہ پاکستان کو ایک بڑی اکثریت اور چھوٹی چھوٹی اقلیتوں میں بانٹنانہیں چاہتے تھے۔ وہ پاکستان کو ایک ایسا ملک دیکھنا چاہتے تھے کہ جس میں مسلمان، ہندو، عیسائی ، پارسی اوردیگر عقیدوں سے وابستہ لوگ ایک قوم بن کر رہیں ۔ مگر ان کو ایسا کرنے نہیں دیا گیا ۔اگر وہ کائیاں قسم کے سیاستدان ہوتے تو آستین کے سانپوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد پہچان لیتے۔ آج آستین کے سانپوں کی باقیات اس ملک پرچھائی ہوئی ہے۔ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں اقلیتوں کو دوسرے اور تیسرے درجے کے شہری بناکر چھوڑ دیا ہے۔ اب اقلیتوں سے واسطہ رکھنے والے،چاہے کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں،وہ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور منصفِ اعلیٰ نہیں بن سکتے۔ حساس عہدوں پر فائز نہیں ہوسکتے۔ آستین کے سانپوں نے قائد اعظم کے خوابوں کو چکنا چور کردیا۔
موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ میری بات سن کر غصے سے آگ بگولا ہونے سے پہلے انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کو ذہن میں رکھیں۔ قائد اعظم کے پاکستان سے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کے بعد قائد اعظم کا پاکستان اپنا تاریخی وجود کھو بیٹھا ہے۔ موجودہ پاکستان آپ کا ہوسکتا ہے۔ میرا ہوسکتا ہے،مگر موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ فقیر کی بات پر غور کیجئے۔ نصاب میں بچوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔ غلط بیانی سے کام مت لیں کہ دیرینہ د شمن نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنادیا تھا۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔عمران خان کے خاندان میں ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی فرد نے سیاست کی دہلیز پرقدم نہیں رکھا۔ اگر آپ کسی نامور شخص کو زبردستی سیاست کے جنگل میں درندوں کے درمیان چھوڑ دینا چاہتے ہیں، تو پھر سب سے پہلے تصدیق کرلیجئے کہ نامور شخص کی شخصیت میں سیاست کے جراثیم ہیں بھی ، یا کہ نہیں ہیں۔کھلاڑی اور پھر بطور کپتان کے عمران خان سینکڑوں کو منہ پرکھری کھری سنانے والا شخص تھا۔ ناقابل قبول کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ ٹور پر لیجانے سےبغیر کسی رکھ رکھاؤ کے انکار کردیتا تھا۔ کبھی بھی چکنی چپڑی باتیں نہیں کرتا تھا۔ عمران خان کی بے پناہ شہرت اپنی جگہ مگر وہ اپنی سوچ ، اپنے رویوں میں، اپنے مزاج میں، اپنی وضع میں سیاستدان نہیں تھا اور نہ اب تک سیاستدان بن سکا ہے۔ ستر برس کی عمر میں کوئی ہنر سیکھنا مشکل ہوتا ہے بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

