تحریکِ انصاف نے اپنا سیاسی بیانیہ بالکل انہی خطوط پر مرتب کیا جیسا کہ ہمارے سیاسی کلچر کا چلن ہے یعنیHigh Moral Grounds …
عمران خان بھی اسی کر و فر سے یہاں آئے تھے جیسے کبھی نواز شریف آئے تھے ایک ایسا لیڈر جو اس فرسودہ نظام کو تہس نہس کر دے گا، جس کے آتے ہی تمام مسائل کافور ہو جائیں گے، وہی گھسا پٹا بیانیہ کہ تم لوگ عظیم ہو لیکن تمہارے لیڈروں کی وجہ سے تم پاتال میں گرے ہوئے ہو ورنہ یہ تو وہ ملک تھا کہ جہاں ملایشیا کے شہزادے خود عمران خان کے ساتھ پڑھا کرتے تھے، اس ملک کو اللّٰہ نے خزانوں سے نوازا ہے لیکن یہ لیڈر ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم مفلس ہیں کیونکہ یہ سب پیسا لوٹ کر باہر ملک لے جاتے ہیں، 1995-96 کی اگر آپ میاں نواز شریف کی تقاریر سنیں تو بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف یہی باتیں ہوتی تھیں اس وقت تقریباً یہی کچھ میاں صاحب فرمایا کرتے تھے، کہ اللّٰہ ہم پر بڑا مہربان ہے کہ اس نے اس ملک کی جان ذوالفقار علی بھٹو سے چھڑائی ایک بار انہوں نے ضیاء الحق کے مزار کے چبوترے پر کھڑے ہوکر اعجاز الحق (جو کہ اب پی ٹی آئی میں ہیں) کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ
"میں ضیاء الحق شہید کا مشن پورا کروں گا نہ جانے کہاں سے آ گئی ہے یہ عورت اس نے آپ سے آپ کی پیلی ٹیکسی چھین لی ہے اور اب یہ آپ کے گھر کا چولہا بھی نہیں جلنے دے گی، اس کے باپ نے ملک توڑا تھا یہ انگریزوں کے کتے نہلانے والے لوگ ہیں انگریزوں کے کتے”
اگر آپ یاد کریں تو 2011 کے آس پاس کی عمران خان کی تقاریر میں اسی طرح کی باتیں ہو رہی تھیں، لیکن اس میں جہاں ایک طرف نواز شریف کی حجامت ہوتی تھی وہیں کہیں نہ کہیں ایجنڈہ بھی ہوتا تھا جو کہ تھا تو نرا جھوٹ مثلاً ہمارے پاس دو سو لوگوں کی معاشی ٹیم ہے جو بس اس انتظار میں ہے کہ کب ہماری حکومت بنے اور وہ پالیسیاں جو تیار ہو چکی ہیں وہ نافذ کر کے اس ملک کی تقدیر بدلی جائے وغیرہ وغیرہ… یہاں تک کہ 2018 کے الیکشن کا اگر آپ منشور پڑھیں تو اس میں نوے دن میں جنوبی صوبہ، بڑی کرپشن کا خاتمہ شامل تھا، ایک سال میں معیشت کی بحالی پانچ سال میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں وغیرہ وغیرہ ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ بھی نہیں ہوتا اب صرف گالم گلوچ ہے، نفرین ہے اور تقیسم کا ایجنڈہ ہے اب عمران خان نے مدت سے یہ نہیں بتایا کہ اگر اب حکومت ملی تو وہ کون کون سے ارسطو ہیں کہ جو تقدیر بدلنے کو کہیں بے تاب بیٹھے ہیں، عمران خان اب نہیں بتاتے کہ اس بار حکومت کے ملنے پر وہ نیا منشور جاری کریں گے یا وہی منشور جاری رہے گا کیونکہ اس کا ایک فیصد بھی وہ اپنی چار سالہ حکومت میں نافذ نہ کر سکے۔
کیا عمران خان بتا سکتے ہیں کہ اس بار پنجاب کا ان کا تین چوتھائی اکثریت کا حامل وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟؟ کل تک کے پنجاب کے سب سے ڈاکو جو کہ اب تحریکِ انصاف کے صدر ہیں ان میں اور تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین کے درمیان اس وقت اقتدار کے لیے جو گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے کیا عمران خان اس کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟؟
کیا عمران خان میں یہ ہمت ہے کہ وہ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ بننے کی دوسری ٹرم کا اعلان ہی کر سکیں؟؟
کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اسد عمر اب کیا کریں گے کیونکہ اب تو کرونا بھی نہیں کہ وہ NCOC میں ہی ایکٹنگ کے جوہر دکھا سکیں؟؟
وزیرِ خزانہ کون ہوگا؟؟
اور وہ ایسا کیا مختلف کرے گا کہ جو اس نے پہلے نہیں کیا؟؟ کس طرح اس ونٹیلیٹر پر پڑی معیشت کو بحال کیا جائے گا؟؟ اب جبکہ نہ جہانگیر ترین ہیں، نہ علیم خان ہے، نہ فیصل واڈا ہے اور سب بڑھ کر نہ باجوہ صاحب ہیں نہ ثاقب نثار…..
بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا فوج کو گالیاں دینا شعور کی علامت ہے؟؟
اگر ہے تو بھائی پیپلز پارٹی کے جیالے 1977 سے گالی دے رہے ہیں اور جینوئن گالی دے رہے ہیں، آج تک کسی تحریکِ انصاف کے کارکن تو چھوڑیں کیا کسی لیڈر نے بھی کال کوٹھری کا منہ دیکھا ہے؟؟
پھانسی گھاٹ کہاں لگتا تھا یہ ایڈر یس بھی ان میں سے کسی کو نہیں معلوم ؟؟
فوج پر تنقید ہونی چاہئے لیکن اس کی سمت کیا ہو یہ ایک سوال ہے؟؟
کیا کبھی کسی نے عمران خان سے سنا کہ "DHA” کیسے بنا؟؟ NLC کی پیدائش کس DHQ میں ہوئی؟؟ کیا فوجی فوڈز، عسکر پیٹرولیم ، عسکری بینک، ہر بڑے شہر میں عسکری …1,2,3,4,5 کیسے بنتے گئے، اشفاق پرویز کیانی کے بھائی اور لاہور کے DHA فیز سیون کی کیا کہانی ہے؟؟
شاہین ائیرلائن کیسے بنی تھی اور کیوں بند ہوگئی ؟؟
لگ بھگ چالیس ہزار نیٹو کنٹینرز بابر غوری کیسے کھا گیا ؟؟
کیا عمران خان کی جرات ہے کہ وہ پوچھے کہ احسان اللہ احسان ISI کی قید سے کیسے نکل گیا ؟؟
کیا عمران خان کی اوقات ہے کہ وہ فوج سے کلبھوشن پر اپ ڈیٹ مانگ سکے؟؟
کوئی جا کر عمران خان کو بتائے کہ اس کیپیٹلزم کی دنیا میں طاقت کی ٹراجیکٹری پیسے کی عمارت پر رکی ہے اور اس وقت پاک فوج پاکستان نامی ملک سے زیادہ امیر ہے، اس کا ایک ایک جنرل اس ملک سے زیادہ پیسے رکھتا ہے، کیا عمران خان اپنے لوگوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس جس کا گھر DHA میں ہے وہ وہاں سے نکل آئے ؟؟
وہ عمران خان کہ جو لوگوں کو بجلی کے بل دینے سے روک سکتا ہے ، جو ہنڈی سے پیسے منگوا کر اس ملک کا نقصان کرنے کو کہہ سکتا ہے کیا اس میں جرات ہے کہ وہ کہے کہ اب کوئی DHA یا عسکری یا فضائیہ سوسائٹی یا فیلکن سوسائٹی وغیرہ وغیرہ میں انویسٹ نہیں کرے گا کیونکہ دنیا کے کسی ملک میں فوج کو بزنس کی اجازت نہیں ہوتی۔
یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ جب جنرل عاصم باجوہ کے پیزے کے ریسٹورنٹ برآمد ہوئے تو عمران خان نے کہا کہ باجوہ صاحب نے مجھے جواب دے دیا ہے اور میں بالکل ویسے ہی مطمئن ہوں جیسا کہ میاں نواز شریف MCB کے میاں منشا کو کوڑیوں کے بھاؤ بکنے پر مطمئن تھے۔
شعور کی علامت عمران خان جو آج باجوہ کو گالیاں دیتے ہیں وہی عمران خان ہیں کہ جو اپنی حکومت کے گرنے کے بعد بھی باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے حامی تھے کہ الیکشن تک باجوہ کو رہنے دینا چاہیے….
کتنا مکروہ ہے وہ آدمی کہ جس کو دو صوبے کے عوام ووٹ دے کر منتخب کریں اور وہ اپنے ہی بقول ایک غدار ایک میر جعفر کے کہنے پر اپنی دو حکومتیں صرف اس لیے گرا دے کہ ملک میں ایک آئینی بحران جنم لے اور وہ اپنا کوئی سیاسی فائدہ لے سکے، یاد رہے کہ دو صوبائی حکومتیں اسی کے کہنے پر گرائی گئیں کہ جس نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت گرائی تھی، کیا ایسا غبی اور بد سرشت ووٹ کا حقدار ہو سکتا ہے؟؟ یہ دو صوبائی حکومتیں عمران خان کو زمان پارک کی طرح کسی جنرل برکی سے وراثت میں نہیں ملی تھیں، نہ ہی بنی گالا کی طرح یہ جمائما کی اترن کا پیسا تھا، یہ عوام کی دی ہوئی امانت تھی ان کا اعتماد تھا لگ بھگ پندرہ کروڑ لوگوں کا دیا ہوا مینڈیٹ تھا، کیسے عمران خان نے باجوے کے کہنے پر ملیا میٹ کر دیا ۔
کیا یہ سوال کسی تحریکِ انصاف کے کارکن کے دماغ میں آیا؟؟ نہیں کیونکہ یہ سیاسی کراؤڈ نہیں ہے ایک فین کلب ہے، ایلیٹ کے لونڈے لونڈیوں کا کھیل ہے، یہاں ادارے ادارے نہیں کسی کی ساس، کسی کی بیوی، کسی کی بیٹی، کسی کی محبوبہ اور کبھی سب کی مشترکہ محبوباؤں کے دل کو بہلانے کے مشاغل ہیں شعور کی علامت کی حکومت اس کی نہیں بلکہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو، شیدے ٹلی جس کو عمران خان چپڑاسی نہ رکھے، بشری مانیکا اور فرح گوگی کی حکومت تھی، اس دماغی مفلوج کو تو ڈالر کا ریٹ اور غریب کا پیٹ صرف ٹی وی پر نظر آتا تھا جبکہ کہنے کو وہ وزیراعظم تھا۔
کوئی سوچے کہ جس آدمی کی وجہِ شہرت یوٹرن یعنی کہ جھوٹ ہو، جو کسی ایک بات پر کھڑا ہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، جس کی صبح کی بات اس کی گزشتہ شام کی بات کی صرف نفی نہ ہو بلکہ اس سے باہم متصادم بھی ہو کیا وہ کسی قسم کے شعور کا حامل ہو سکتا ہے ؟؟
کیا اس کی اپنی دماغی حالت باعث تشویش نہیں ہے؟؟
جو امریکہ سے لیکر محسن نقوی تک ہر کس و ناکس کو اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار سمجھتا ہو کیا وہ قابلِ سماعت بھی ہے ؟؟؟
میں آج دعویٰ کرتا ہوں کہ ابھی موجودہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر نظرِ کرم کرے یہ سارا شعوری اور فوج مخالف بیانیہ ایسے غائب ہو گا جیسے گرم توے پر سے پانی کی بوندیں، یہی عمرانیے پھر سے کہیں گے کہ اگر فوج نہ ہوتی تو یہ ملک شام اور افغانستان بن چکا ہوتا… مجھے یاد ہے کہ جب عاصمہ جہانگیر نے جنرلوں کے کرپشن پر ان کا پوسٹ مارٹم کیا تھا تو یہ یوتھ برگیڈ ہی تھی جس نے عاصمہ کو گندی گالیاں نکالی تھیں۔
اس بیانیے کا قوم کو فائدہ ہوا کہ نہیں یہ تو نہیں معلوم لیکن عمران خان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی برترین گورننس اس کی وجہ سے چھپ گئی کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ حضور کیا عثمان بزدار بھی فوج لائی تھی، کیا فوج نے آ پ کو مجبور کیا تھا کہ آپ ہر دوسرے مہینے وزیر خزانہ بدل دیا کریں، اور آپ نے متعدد بار فرمایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب فوج اور سول حکومت ایک پیچ پر ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ جب فوج نے بجٹ کٹ کیا ہے، جب نواز شریف نے ملک کے تمام مسائل کی جڑ باجوہ صاحب کو قرار دیا تھا تو عمران خان ہی تھے جو باجوہ صاحب کا دفاع کرنے میں سب سے آگے تھے اس وقت باجوہ صاحب میں برداشت، وقار، متانت اور جمہوری اقدار تھیں لیکن جیسے ہی فوج نے عمران خان کی سپورٹ بند کی تو وہ جانور ، میر صادق اور میر جعفر ہوگئے کبھی ڈرٹی ہیری تو کبھی کچھ اور اسی کے ساتھ تحریکِ انصاف کے حامی سڑکوں پر آ گئے اور انہوں نے اپنے لیڈر کے مطالبے کو سمجھے بغیر فوج پر دشنام شروع کر دی ان میں سے کسی نے نہیں سوچا کہ عمران خان کہہ کیا رہے ہیں کاش وہ غور سے سنتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ عمران خان کا مطالبہ فاشزم پر مبنی تھا کہ آپ کس طرح نیوٹرل ہو سکتے ہیں کیونکہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے یہ سوچے بغیر کہ میر صادق اور میر جعفر کا تاریخی کردار کیا تھا عمران خان نے اپنی ہی فوج کے ان جنرلوں پر الزام لگائے کہ جو ابھی کل تک عمران خان کی سہولت کار تھے، عمران خان نے کہا کہ جو ہم ہمارے ساتھ نہیں ہے وہ نہ صرف یہ کہ کرپٹ ہے بلکہ اسکی دنیا کے ساتھ آخرت بھی خراب ہو گی… کیونکہ اللّٰہ تعالٰی جب پوچھیں گے کہ تم نے حق یعنی عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیا تو انکے پاس کوئی راہِ نجات نہیں ہو گی، جب تحریکِ عدم اعتماد آ رہی تھی تو اپنے منحرف ساتھیوں کی بات سننے اور انکے مسائل کے تدارک کی بجائے انہیں کہا کہ لوگ تمہارے بچوں سے شادیاں تو دور انکی شادیوں میں شرکت بھی نہیں کریں گے، آپ لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا (نہیں معلوم جس بالٹی کی پناہ میں آج کل خان صاحب باہر نکلتے ہیں انہی بڑے بولوں کا نتیجہ تو نہیں) اگر یہ شعور ہے تو کمال یہ ہے کہ خان صاحب کے بقول یہ بکاؤ مال تھا کیا تحرِیک انصاف کے بھائی یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ بکاؤ مال تحریک انصاف میں کیسے آ گھسا تھا ؟؟ شاید انکو یاد نہ ہو ہم بتاتے ہیں مجھے ملتان ائیرپورٹ کے ایک سول ایوی ایشن کے افسر نے 2018 بتایا تھا کہ آج جہانگیر ترین کا جہاز نو مرتبہ ملتان ائیرپورٹ پر اترا اور دس بار اڑا یہ وہ موقع تھا کہ جب صوبہ جنوبی محاذ پی ٹی آئی میں ضم ہو رہا تھا اگر خان کا دیا ہوا شعور اتنا ہی کارگر ہوتا تو ان لوگوں کے رویوں میں ذرا سا بدلاؤ تو نظر آنا چاہئیے تھا لیکن جیسے وہ آئے تھے ویسے ہی چلے گئے تو اس سب میں امریکہ، تھری سٹوجز، ڈرٹی ہیری، میر جعفر ،میر صادق اور محسن نقوی کہاں سے آ گئے؟؟
جس کو لوگ شعور سمجھ رہے ہیں وہ دراصل شور ہے ایک ایسا شور کی جس کی موجودگی میں کچھ سنائی نہ دے جس کی وجہ سے اتنی دھول اڑے کہ کچھ دکھائی نہ دے ایک
Bull shitter
کا ایسا ایجنڈہ جس میں سوائے Bull Shit کے کچھ اور نہیں ہے جھوٹ ہے اور جھوٹ کی تکرار ہے کبھی تبدیلی، پینتیس پنکچر ، کبھی Absolutely Not، کبھی دو نہیں ایک پاکستان لیکن سب جھوٹ سب Bull Shit ایک عقل و فہم سے عاری شخص کا بنایا ہوا ایک کلٹ ایک موب ایک ہجوم ایک نیم وحشی گروپ کہ جس کو نہ آئین کی سمجھ ہے نہ قانون کی نہ وہ دلیل سنتے ہیں ان پر کوئی منطق کام کرتی ہے اگر انکو کچھ سمجھ آتا ہے تو وہ شور ہے کیونکہ اگر یہ شعور ہوتا تو وہ انکو جوڑتا، وہ ان میں برداشت پیدا کرتا، وہ ان میں متانت کی بڑھوتری کرتا، جو لوگ عمران خان کی وجہ سے اپنے باپ ،بڑے بھائیوں سے بھڑ پڑیں جو اپنے بڑوں کو صرف اس لیے کرپٹ کہیں کہ وہ عمران خان پر تنقید کرتے ہیں، جو لوگ سیاسی مخالفین کو حرم پاک میں حالت طواف میں نہ بخشیں، جن کو عمران خان کی چار سالہ پرفارمینس نظر نہ آتی ہو، جو ہر وقت مذہبی باتیں کرتے ہوں لیکن ایک illegitimate child اور عدت کا نکاح انکے نزدیک کسی سیاسی لیڈر کا ذاتی مسئلہ ہو جبکہ باقیوں کی ایک پسند کی شادی بھی انکی بدکرداری سے جوڑ دی جائے، جن کے نزدیک ارشد شریف شہید اور اکبر بگٹی غدار ہو، جو عمران خان سے متعلق ہر منفی بات کو فوج کا پراپوگینڈہ اور باقیوں سے متعلق افواہوں کو واحد سچ مانتے ہوں، جن کے نزدیک بھٹو نے مشرقی پاکستان توڑا ہو لیکن کشمیر باجوہ کی پالیسیوں کی وجہ سے ہاتھ سے گیا ہو، وہ حامل شعور نہیں شور کے وارث ہیں جو اس ملک میں باقی چیزوں کی طرح شعور کا لیبل کے ساتھ ہر جہالت کی دوکان پر وافر مقدار میں مفت مل رہا ہے، اور اسکے دو ہول سیل ڈپو ہیں ایک زمان پارک لاہور اور دوسرا بنی گالا اسلام آباد
عمران خان بھی اسی کر و فر سے یہاں آئے تھے جیسے کبھی نواز شریف آئے تھے ایک ایسا لیڈر جو اس فرسودہ نظام کو تہس نہس کر دے گا، جس کے آتے ہی تمام مسائل کافور ہو جائیں گے، وہی گھسا پٹا بیانیہ کہ تم لوگ عظیم ہو لیکن تمہارے لیڈروں کی وجہ سے تم پاتال میں گرے ہوئے ہو ورنہ یہ تو وہ ملک تھا کہ جہاں ملایشیا کے شہزادے خود عمران خان کے ساتھ پڑھا کرتے تھے، اس ملک کو اللّٰہ نے خزانوں سے نوازا ہے لیکن یہ لیڈر ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم مفلس ہیں کیونکہ یہ سب پیسا لوٹ کر باہر ملک لے جاتے ہیں، 1995-96 کی اگر آپ میاں نواز شریف کی تقاریر سنیں تو بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف یہی باتیں ہوتی تھیں اس وقت تقریباً یہی کچھ میاں صاحب فرمایا کرتے تھے، کہ اللّٰہ ہم پر بڑا مہربان ہے کہ اس نے اس ملک کی جان ذوالفقار علی بھٹو سے چھڑائی ایک بار انہوں نے ضیاء الحق کے مزار کے چبوترے پر کھڑے ہوکر اعجاز الحق (جو کہ اب پی ٹی آئی میں ہیں) کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ
"میں ضیاء الحق شہید کا مشن پورا کروں گا نہ جانے کہاں سے آ گئی ہے یہ عورت اس نے آپ سے آپ کی پیلی ٹیکسی چھین لی ہے اور اب یہ آپ کے گھر کا چولہا بھی نہیں جلنے دے گی، اس کے باپ نے ملک توڑا تھا یہ انگریزوں کے کتے نہلانے والے لوگ ہیں انگریزوں کے کتے”
اگر آپ یاد کریں تو 2011 کے آس پاس کی عمران خان کی تقاریر میں اسی طرح کی باتیں ہو رہی تھیں، لیکن اس میں جہاں ایک طرف نواز شریف کی حجامت ہوتی تھی وہیں کہیں نہ کہیں ایجنڈہ بھی ہوتا تھا جو کہ تھا تو نرا جھوٹ مثلاً ہمارے پاس دو سو لوگوں کی معاشی ٹیم ہے جو بس اس انتظار میں ہے کہ کب ہماری حکومت بنے اور وہ پالیسیاں جو تیار ہو چکی ہیں وہ نافذ کر کے اس ملک کی تقدیر بدلی جائے وغیرہ وغیرہ… یہاں تک کہ 2018 کے الیکشن کا اگر آپ منشور پڑھیں تو اس میں نوے دن میں جنوبی صوبہ، بڑی کرپشن کا خاتمہ شامل تھا، ایک سال میں معیشت کی بحالی پانچ سال میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں وغیرہ وغیرہ ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ بھی نہیں ہوتا اب صرف گالم گلوچ ہے، نفرین ہے اور تقیسم کا ایجنڈہ ہے اب عمران خان نے مدت سے یہ نہیں بتایا کہ اگر اب حکومت ملی تو وہ کون کون سے ارسطو ہیں کہ جو تقدیر بدلنے کو کہیں بے تاب بیٹھے ہیں، عمران خان اب نہیں بتاتے کہ اس بار حکومت کے ملنے پر وہ نیا منشور جاری کریں گے یا وہی منشور جاری رہے گا کیونکہ اس کا ایک فیصد بھی وہ اپنی چار سالہ حکومت میں نافذ نہ کر سکے۔
کیا عمران خان بتا سکتے ہیں کہ اس بار پنجاب کا ان کا تین چوتھائی اکثریت کا حامل وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟؟ کل تک کے پنجاب کے سب سے ڈاکو جو کہ اب تحریکِ انصاف کے صدر ہیں ان میں اور تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین کے درمیان اس وقت اقتدار کے لیے جو گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے کیا عمران خان اس کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟؟
کیا عمران خان میں یہ ہمت ہے کہ وہ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ بننے کی دوسری ٹرم کا اعلان ہی کر سکیں؟؟
کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اسد عمر اب کیا کریں گے کیونکہ اب تو کرونا بھی نہیں کہ وہ NCOC میں ہی ایکٹنگ کے جوہر دکھا سکیں؟؟
وزیرِ خزانہ کون ہوگا؟؟
اور وہ ایسا کیا مختلف کرے گا کہ جو اس نے پہلے نہیں کیا؟؟ کس طرح اس ونٹیلیٹر پر پڑی معیشت کو بحال کیا جائے گا؟؟ اب جبکہ نہ جہانگیر ترین ہیں، نہ علیم خان ہے، نہ فیصل واڈا ہے اور سب بڑھ کر نہ باجوہ صاحب ہیں نہ ثاقب نثار…..
بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا فوج کو گالیاں دینا شعور کی علامت ہے؟؟
اگر ہے تو بھائی پیپلز پارٹی کے جیالے 1977 سے گالی دے رہے ہیں اور جینوئن گالی دے رہے ہیں، آج تک کسی تحریکِ انصاف کے کارکن تو چھوڑیں کیا کسی لیڈر نے بھی کال کوٹھری کا منہ دیکھا ہے؟؟
پھانسی گھاٹ کہاں لگتا تھا یہ ایڈر یس بھی ان میں سے کسی کو نہیں معلوم ؟؟
فوج پر تنقید ہونی چاہئے لیکن اس کی سمت کیا ہو یہ ایک سوال ہے؟؟
کیا کبھی کسی نے عمران خان سے سنا کہ "DHA” کیسے بنا؟؟ NLC کی پیدائش کس DHQ میں ہوئی؟؟ کیا فوجی فوڈز، عسکر پیٹرولیم ، عسکری بینک، ہر بڑے شہر میں عسکری …1,2,3,4,5 کیسے بنتے گئے، اشفاق پرویز کیانی کے بھائی اور لاہور کے DHA فیز سیون کی کیا کہانی ہے؟؟
شاہین ائیرلائن کیسے بنی تھی اور کیوں بند ہوگئی ؟؟
لگ بھگ چالیس ہزار نیٹو کنٹینرز بابر غوری کیسے کھا گیا ؟؟
کیا عمران خان کی جرات ہے کہ وہ پوچھے کہ احسان اللہ احسان ISI کی قید سے کیسے نکل گیا ؟؟
کیا عمران خان کی اوقات ہے کہ وہ فوج سے کلبھوشن پر اپ ڈیٹ مانگ سکے؟؟
کوئی جا کر عمران خان کو بتائے کہ اس کیپیٹلزم کی دنیا میں طاقت کی ٹراجیکٹری پیسے کی عمارت پر رکی ہے اور اس وقت پاک فوج پاکستان نامی ملک سے زیادہ امیر ہے، اس کا ایک ایک جنرل اس ملک سے زیادہ پیسے رکھتا ہے، کیا عمران خان اپنے لوگوں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس جس کا گھر DHA میں ہے وہ وہاں سے نکل آئے ؟؟
وہ عمران خان کہ جو لوگوں کو بجلی کے بل دینے سے روک سکتا ہے ، جو ہنڈی سے پیسے منگوا کر اس ملک کا نقصان کرنے کو کہہ سکتا ہے کیا اس میں جرات ہے کہ وہ کہے کہ اب کوئی DHA یا عسکری یا فضائیہ سوسائٹی یا فیلکن سوسائٹی وغیرہ وغیرہ میں انویسٹ نہیں کرے گا کیونکہ دنیا کے کسی ملک میں فوج کو بزنس کی اجازت نہیں ہوتی۔
یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ جب جنرل عاصم باجوہ کے پیزے کے ریسٹورنٹ برآمد ہوئے تو عمران خان نے کہا کہ باجوہ صاحب نے مجھے جواب دے دیا ہے اور میں بالکل ویسے ہی مطمئن ہوں جیسا کہ میاں نواز شریف MCB کے میاں منشا کو کوڑیوں کے بھاؤ بکنے پر مطمئن تھے۔
شعور کی علامت عمران خان جو آج باجوہ کو گالیاں دیتے ہیں وہی عمران خان ہیں کہ جو اپنی حکومت کے گرنے کے بعد بھی باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے حامی تھے کہ الیکشن تک باجوہ کو رہنے دینا چاہیے….
کتنا مکروہ ہے وہ آدمی کہ جس کو دو صوبے کے عوام ووٹ دے کر منتخب کریں اور وہ اپنے ہی بقول ایک غدار ایک میر جعفر کے کہنے پر اپنی دو حکومتیں صرف اس لیے گرا دے کہ ملک میں ایک آئینی بحران جنم لے اور وہ اپنا کوئی سیاسی فائدہ لے سکے، یاد رہے کہ دو صوبائی حکومتیں اسی کے کہنے پر گرائی گئیں کہ جس نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت گرائی تھی، کیا ایسا غبی اور بد سرشت ووٹ کا حقدار ہو سکتا ہے؟؟ یہ دو صوبائی حکومتیں عمران خان کو زمان پارک کی طرح کسی جنرل برکی سے وراثت میں نہیں ملی تھیں، نہ ہی بنی گالا کی طرح یہ جمائما کی اترن کا پیسا تھا، یہ عوام کی دی ہوئی امانت تھی ان کا اعتماد تھا لگ بھگ پندرہ کروڑ لوگوں کا دیا ہوا مینڈیٹ تھا، کیسے عمران خان نے باجوے کے کہنے پر ملیا میٹ کر دیا ۔
کیا یہ سوال کسی تحریکِ انصاف کے کارکن کے دماغ میں آیا؟؟ نہیں کیونکہ یہ سیاسی کراؤڈ نہیں ہے ایک فین کلب ہے، ایلیٹ کے لونڈے لونڈیوں کا کھیل ہے، یہاں ادارے ادارے نہیں کسی کی ساس، کسی کی بیوی، کسی کی بیٹی، کسی کی محبوبہ اور کبھی سب کی مشترکہ محبوباؤں کے دل کو بہلانے کے مشاغل ہیں شعور کی علامت کی حکومت اس کی نہیں بلکہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو، شیدے ٹلی جس کو عمران خان چپڑاسی نہ رکھے، بشری مانیکا اور فرح گوگی کی حکومت تھی، اس دماغی مفلوج کو تو ڈالر کا ریٹ اور غریب کا پیٹ صرف ٹی وی پر نظر آتا تھا جبکہ کہنے کو وہ وزیراعظم تھا۔
کوئی سوچے کہ جس آدمی کی وجہِ شہرت یوٹرن یعنی کہ جھوٹ ہو، جو کسی ایک بات پر کھڑا ہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، جس کی صبح کی بات اس کی گزشتہ شام کی بات کی صرف نفی نہ ہو بلکہ اس سے باہم متصادم بھی ہو کیا وہ کسی قسم کے شعور کا حامل ہو سکتا ہے ؟؟
کیا اس کی اپنی دماغی حالت باعث تشویش نہیں ہے؟؟
جو امریکہ سے لیکر محسن نقوی تک ہر کس و ناکس کو اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار سمجھتا ہو کیا وہ قابلِ سماعت بھی ہے ؟؟؟
میں آج دعویٰ کرتا ہوں کہ ابھی موجودہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر نظرِ کرم کرے یہ سارا شعوری اور فوج مخالف بیانیہ ایسے غائب ہو گا جیسے گرم توے پر سے پانی کی بوندیں، یہی عمرانیے پھر سے کہیں گے کہ اگر فوج نہ ہوتی تو یہ ملک شام اور افغانستان بن چکا ہوتا… مجھے یاد ہے کہ جب عاصمہ جہانگیر نے جنرلوں کے کرپشن پر ان کا پوسٹ مارٹم کیا تھا تو یہ یوتھ برگیڈ ہی تھی جس نے عاصمہ کو گندی گالیاں نکالی تھیں۔
اس بیانیے کا قوم کو فائدہ ہوا کہ نہیں یہ تو نہیں معلوم لیکن عمران خان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی برترین گورننس اس کی وجہ سے چھپ گئی کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ حضور کیا عثمان بزدار بھی فوج لائی تھی، کیا فوج نے آ پ کو مجبور کیا تھا کہ آپ ہر دوسرے مہینے وزیر خزانہ بدل دیا کریں، اور آپ نے متعدد بار فرمایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب فوج اور سول حکومت ایک پیچ پر ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ جب فوج نے بجٹ کٹ کیا ہے، جب نواز شریف نے ملک کے تمام مسائل کی جڑ باجوہ صاحب کو قرار دیا تھا تو عمران خان ہی تھے جو باجوہ صاحب کا دفاع کرنے میں سب سے آگے تھے اس وقت باجوہ صاحب میں برداشت، وقار، متانت اور جمہوری اقدار تھیں لیکن جیسے ہی فوج نے عمران خان کی سپورٹ بند کی تو وہ جانور ، میر صادق اور میر جعفر ہوگئے کبھی ڈرٹی ہیری تو کبھی کچھ اور اسی کے ساتھ تحریکِ انصاف کے حامی سڑکوں پر آ گئے اور انہوں نے اپنے لیڈر کے مطالبے کو سمجھے بغیر فوج پر دشنام شروع کر دی ان میں سے کسی نے نہیں سوچا کہ عمران خان کہہ کیا رہے ہیں کاش وہ غور سے سنتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ عمران خان کا مطالبہ فاشزم پر مبنی تھا کہ آپ کس طرح نیوٹرل ہو سکتے ہیں کیونکہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے یہ سوچے بغیر کہ میر صادق اور میر جعفر کا تاریخی کردار کیا تھا عمران خان نے اپنی ہی فوج کے ان جنرلوں پر الزام لگائے کہ جو ابھی کل تک عمران خان کی سہولت کار تھے، عمران خان نے کہا کہ جو ہم ہمارے ساتھ نہیں ہے وہ نہ صرف یہ کہ کرپٹ ہے بلکہ اسکی دنیا کے ساتھ آخرت بھی خراب ہو گی… کیونکہ اللّٰہ تعالٰی جب پوچھیں گے کہ تم نے حق یعنی عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیا تو انکے پاس کوئی راہِ نجات نہیں ہو گی، جب تحریکِ عدم اعتماد آ رہی تھی تو اپنے منحرف ساتھیوں کی بات سننے اور انکے مسائل کے تدارک کی بجائے انہیں کہا کہ لوگ تمہارے بچوں سے شادیاں تو دور انکی شادیوں میں شرکت بھی نہیں کریں گے، آپ لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا (نہیں معلوم جس بالٹی کی پناہ میں آج کل خان صاحب باہر نکلتے ہیں انہی بڑے بولوں کا نتیجہ تو نہیں) اگر یہ شعور ہے تو کمال یہ ہے کہ خان صاحب کے بقول یہ بکاؤ مال تھا کیا تحرِیک انصاف کے بھائی یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ بکاؤ مال تحریک انصاف میں کیسے آ گھسا تھا ؟؟ شاید انکو یاد نہ ہو ہم بتاتے ہیں مجھے ملتان ائیرپورٹ کے ایک سول ایوی ایشن کے افسر نے 2018 بتایا تھا کہ آج جہانگیر ترین کا جہاز نو مرتبہ ملتان ائیرپورٹ پر اترا اور دس بار اڑا یہ وہ موقع تھا کہ جب صوبہ جنوبی محاذ پی ٹی آئی میں ضم ہو رہا تھا اگر خان کا دیا ہوا شعور اتنا ہی کارگر ہوتا تو ان لوگوں کے رویوں میں ذرا سا بدلاؤ تو نظر آنا چاہئیے تھا لیکن جیسے وہ آئے تھے ویسے ہی چلے گئے تو اس سب میں امریکہ، تھری سٹوجز، ڈرٹی ہیری، میر جعفر ،میر صادق اور محسن نقوی کہاں سے آ گئے؟؟
جس کو لوگ شعور سمجھ رہے ہیں وہ دراصل شور ہے ایک ایسا شور کی جس کی موجودگی میں کچھ سنائی نہ دے جس کی وجہ سے اتنی دھول اڑے کہ کچھ دکھائی نہ دے ایک
Bull shitter
کا ایسا ایجنڈہ جس میں سوائے Bull Shit کے کچھ اور نہیں ہے جھوٹ ہے اور جھوٹ کی تکرار ہے کبھی تبدیلی، پینتیس پنکچر ، کبھی Absolutely Not، کبھی دو نہیں ایک پاکستان لیکن سب جھوٹ سب Bull Shit ایک عقل و فہم سے عاری شخص کا بنایا ہوا ایک کلٹ ایک موب ایک ہجوم ایک نیم وحشی گروپ کہ جس کو نہ آئین کی سمجھ ہے نہ قانون کی نہ وہ دلیل سنتے ہیں ان پر کوئی منطق کام کرتی ہے اگر انکو کچھ سمجھ آتا ہے تو وہ شور ہے کیونکہ اگر یہ شعور ہوتا تو وہ انکو جوڑتا، وہ ان میں برداشت پیدا کرتا، وہ ان میں متانت کی بڑھوتری کرتا، جو لوگ عمران خان کی وجہ سے اپنے باپ ،بڑے بھائیوں سے بھڑ پڑیں جو اپنے بڑوں کو صرف اس لیے کرپٹ کہیں کہ وہ عمران خان پر تنقید کرتے ہیں، جو لوگ سیاسی مخالفین کو حرم پاک میں حالت طواف میں نہ بخشیں، جن کو عمران خان کی چار سالہ پرفارمینس نظر نہ آتی ہو، جو ہر وقت مذہبی باتیں کرتے ہوں لیکن ایک illegitimate child اور عدت کا نکاح انکے نزدیک کسی سیاسی لیڈر کا ذاتی مسئلہ ہو جبکہ باقیوں کی ایک پسند کی شادی بھی انکی بدکرداری سے جوڑ دی جائے، جن کے نزدیک ارشد شریف شہید اور اکبر بگٹی غدار ہو، جو عمران خان سے متعلق ہر منفی بات کو فوج کا پراپوگینڈہ اور باقیوں سے متعلق افواہوں کو واحد سچ مانتے ہوں، جن کے نزدیک بھٹو نے مشرقی پاکستان توڑا ہو لیکن کشمیر باجوہ کی پالیسیوں کی وجہ سے ہاتھ سے گیا ہو، وہ حامل شعور نہیں شور کے وارث ہیں جو اس ملک میں باقی چیزوں کی طرح شعور کا لیبل کے ساتھ ہر جہالت کی دوکان پر وافر مقدار میں مفت مل رہا ہے، اور اسکے دو ہول سیل ڈپو ہیں ایک زمان پارک لاہور اور دوسرا بنی گالا اسلام آباد
فیس بک کمینٹ

