اوشن گیٹ کمپنی نےایک اعلامیہ جاری کیاہےجس میں اس تشویش کااظہارکیاگیاہےکہ چند روز قبل لاپتا ہونے والی آبدوز میں سوار تمام پانچ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
یاد رہے ان پانچ افراد میں پاکستان کی ایک بڑی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے صاحبزادے سلیمان داؤد بھی شاملِ ہیں۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر ان افراد کے حوالے سے انتہائی مایوس کن اور تنگ نظری پر مبنی آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جس سے یہ تاثر قائم کیا جا رہا ہے ۔۔ اور زیرسمندر اوشن گیٹ کی مہم کا حصہ بننے کو پیسے کے زیاں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
آبدوز کے لاپتا ہونے کے المیہ کا موازنہ بحر اقیانوس میں انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والے افرد سے بھی کیا جا رہا ہے جو یقیناً افسوسناک ہے۔
بحیرہ اوقیانوس کے انسانی المیہ کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسانی سمگلنگ جیسے گھناونے جرائم کی روک تھام کریں ۔ اس کے برعکس ریاست کی جانب سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے مربوط پروگرام کی بجائے عوام کو گمراہ کن اور نفرت انگیز میڈیا مہم میں الجھا دیا جاتا ہے۔
قدرت اور سائنس ہمیشہ ایک دوسرے کی ضد رہے ہیں۔ ٹائیٹنک ایک علامت ہے سمندر کی منہ زور لہروں کو تسخیر کرنے کے انسانی عزم کی۔
گہرے پانیوں میں سیر کے لئے پیسوں سے زیادہ جرات ، ہمت اور جستجو کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ مت بھولیں کہ انسانی ترقی ایسے ہی مہم جو افراد کی مرہون منت ہے جنہوں نے زمین، سمندروں اور آسمانوں میں نت نئی راہیں تلاش کرنے میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں کاروباری افراد اوربڑی کمپنیوں کے سرمایہ سےہی نئی سائنسی تحقیق ممکن ہوتی ہے۔
جب کیوی کوہ پیما ہیلری ایڈمنڈز ماؤنٹ ایورسٹ کو پہلی مرتبہ سر کرنے کے لیئے روانہ ہوئے تو بی بی سی ریڈیو نے انہیں ایک خصوصی آلہ فراہم کیا جس سے حاصل شدہ معلومات پر ہیلری ایڈمنڈز کو ایک خصوصی بلیٹن کے ذریوے روزانہ موسم کا حال بتایا جاتا تھا۔ بی بی سی کے خصوصی بلیٹن سے ہی کیوی کوہ پیما کو ان بچے کی ولادت کی خبر دی گئی۔ "آپ کی اہلیہ اور بچہ بخیریت ہیں۔ خصوصی بلیٹن ختم ہوا” یہ براڈکاسٹ بھی جغرافیایئ بلندیوں پر انسانی سفر کی داستان کی تاریخ میں محفوظ ہے۔
اسی طرح جب ناسا نے اپنے خلائی پروگرام کاآغاز کیا تو امریکی حکومت کو خلائی پروگرام لئے ایک خطیر رقم خرچ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ وقت نے ثابت کیا کہ انسانی خلائی پروگرام پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالروں نے انسانیت کو نہ صرف نئی جہتوں سے روشناس کرایا بلکہ ٹیلی مواصلات میں انقلاب برپا کردیا۔
خلائی تحقیق سے انسانیت کو حاصل ہونے والے فوائد کا ان سطور میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ مگر یقیناً خلائی مہم جوئی کی راہ میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے والے خلاء نوردوں کے ہم آج بھی مقروض ہیں۔
آج انسانیت کو نئی آزمائشوں کا سامنا کرنا ہے۔ موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لیے جہاں نت نئے تجربات کئے جا رہے ہیں۔ وہیں گہرے پانیوں میں تحقیق اور آبی حیات کا تحفظ ناگزیر ہے۔ سمندر اس کرہ ارض کا تین چوتھائی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم سمندر کو نظر انداز کرکے موسمی تغیرات کے اثرات سےزندگی کومحفوظ بنا سکیں؟
بدقسمتی سے پاکستان میں نہ تو بنیادی تعلیم تک رسائی ممکن ہے اورنہ ہی عصرحاضر میں انسانیت کو درپیش آزمائشوں کا ادراک۔
پاکستان کی طاقت کی راہداریوں میں منی لانڈرنگ اور کالےدھن کی بازگشت ہی سنائی دیتی ہے۔ ناجائز حربوں سے کمائے ہوے پیسے سے لنگرخانے کھول کرابلاغ کی زینت بننا یا پاکستان کے کم آمدنی والے محنت کش طبقہ کی بے بسی کو دنیا بھر میں اجاگر کرکے خیرات اکھٹی کرنا کارخیر سمجھاجاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں نہ تو اپنی جائز آمدن کو ظاہر کرنے والے کاروباری طبقہ کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی تحقیق اور جستجو کے حامل ذہنوں کی قدر۔ یہی ایک قومی المیہ ہے۔
ٹائٹینک ڈوب گیا؟ بالکل نہیں!
اوشن گیٹ غرقاب؟ ہر گز نہیں!
اوشن گیٹ بھی گہرے پانیوں میں انسانی رسائی کے لئے ایک سنگ میل ہے۔ گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ نے گہرے پانیوں میں آبی حیات کے تحفظ کے لئے تاریخ ساز قوانین کا نفاذ کیا ہے ۔ مقصد زندگی کی بقا کے لئے سمندری پانیوں کی دیکھ بھال۔ انسانی مستقبل یقیناً روشن ہے ۔ یقیناً سپیس سٹیشن کے بعد گہرے پانیوں میں ڈیپ سی کنٹرول سسٹم کو زیادہ مربوط اور موثر بنانا اگلا مرحلہ ہو گا۔ وہ وقت بھی دور نہیں جب ریاستوں کو مشترکہ انسانی مفاد کے لئے اپنے شہریوں کے وقار میں اضافہ کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
فیس بک کمینٹ

