پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں عید الاضحیٰ کے روز قرآن سوزی کی مذمت کی ہے اور سویڈن سے ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔ قرار داد منظور ہونے سے پہلے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پوری قوم سے جمعہ کو اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے اور ریلیاں نکالنے کی اپیل کی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’یہ ناقابل برداشت اور مذموم حرکت آئندہ کسی نے کی تو پھر ہم سے کوئی گلہ نہ کرے‘ ۔
سویڈن میں قرآن سوزی پر دنیا بھر کے مسلمان ملکوں کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے اس حوالے سے خصوصی اجلاس منعقد کیا اور اقوام متحدہ کا انسانی حقوق ادارہ بھی اس معاملہ کا جائزہ لے رہا ہے۔ سویڈن میں اس بار یہ حرکت عراق کے ایک پناہ گزین نے کی تھی جس کا دعویٰ تھا کہ اس نے اظہار خیال کی آزادی کا حق استعمال کرتے ہوئے قرآن جلانے کا فیصلہ کیا تاکہ مغربی جمہوری اقدار کو واضح کیا جا سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر اسے اس حرکت سے روکا جاتا تو ’جمہوریت اور آزادی اظہار‘ کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
مغرب میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کے لئے یہ سہل دلیل عام طور سے استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ بعض سماجی عناصر کی طرف سے صرف قرآن یا مسلمانوں ہی کے بارے میں مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز رویہ اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ آزادی کی مغربی تفہیم کے مطابق مذہب چونکہ ایک سماجی قوت ہے جسے مذہبی رہنما اور سیاست دان ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں لہذا مذہبی اقدار کو للکارنا، ان کا مذاق اڑانا اور مذہبی علامات کی تضحیک کرنا بالکل جائز اور درست طریقہ ہے۔ اسٹاک ہوم میں قرآن سوزی میں ملوث شخص کے تو واضح سیاسی مقاصد تھے تاکہ وہ میڈیا کی توجہ حاصل کرسکے۔ تاہم مغرب میں اگرچہ مذہب کو ذاتی معاملہ تسلیم کیا گیا ہے لیکن مذہبی تعلیمات اور علامات کے سماجی و سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے انہیں چیلنج کرنے کا رویہ مباحث، فن پاروں اور تحریروں میں عام طور سے دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ مغربی مباحث، قوانین اور سیاسی مناظرہ میں جب ’توہین مذہب‘ کو جائز جمہوری اظہار کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کے مخاطب مسلمان، اسلام یا قرآن نہیں ہوتے۔ بلکہ اس سے مراد اکثریتی عقیدہ ہی ہوتا ہے۔ اس لئے مغربی اظہار میں عیسائیت، حضرت عیسیٰ اور بائیبل کے بارے میں متعدد ہتک آمیز رویے مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا اظہار صرف سیاسی گفتگو میں ہی نہیں ہوتا بلکہ تحریروں، فن پاروں، فلموں یا ڈراموں وغیرہ میں بھی اس آزادی کا کھل اظہار ہوتا ہے۔ لیکن نہ تو کوئی چرچ اس پر کوئی سخت رد عمل ظاہر کرتا ہے اور نہ ہی عوام سڑکوں پر نکل کر متعلقہ لوگوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرتے ہیں۔ حتی کہ اس قسم کے کسی اظہار کو سیاسی مباحث میں بھی کوئی جگہ نہیں ملتی۔ بعض عناصر کے اس طریقے کو فطری ردعمل کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ عیسائیت ماننے والے موجود نہیں ہیں یا یورپ کے مذہب پرست اس طریقہ کو جائز سمجھتے ہیں لیکن وہ یہ تسلیم چکے ہیں کہ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے۔ اس لئے اگر کوئی تجزیہ نگار یا ادیب کسی طرح مذہب کو موضوع گفتگو بنا کر اس کے بارے میں ہتک آمیز طرز عمل اختیار کرتا ہے تو اسے اس کا ذاتی فعل اور رائے سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لوگوں کے عقیدے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ مغربی ممالک میں مذہبی علامات یا پیغام کے بارے میں برداشت کا یہ طرز عمل صدیوں کی جمہوری روایت اور ہر کسی کو اپنی رائے کے اظہار کا حق دینے کے اصول کو عام کرنے کی وجہ سے پیدا ہو پایا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ مغربی ممالک میں عیسائیت یا دیگر عقائد پر عمل کرنے والے لوگ اپنے عقیدوں کے بارے میں جذباتی نہیں ہیں یا وہ اپنی مقدس کتابوں یا علامات کے بارے میں حساسیت سے محروم ہیں۔ تاہم ایک طویل جمہوری عمل میں وہ یہ سیکھ چکے ہیں کہ مذہبی عقائد کو لے کر چلتے ہوئے، ان پر تنقید کرنے والوں کو بھی اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے اور انہیں بھی اپنی بات کہنے کا ویسا ہی موقع ملنا چاہیے جیسا کسی عقیدہ یا مذہب کو ماننے والے لوگوں کو حاصل ہے۔
تاہم بوجوہ اسلامی ممالک میں جمہوری شعور یا اختلاف رائے کی ضرورت و حرمت کا اصول ابھی اتنا راسخ نہیں ہوا کہ عام مسلمان کو یہ بات سمجھائی جا سکے کہ مذہبی عقائد یا روایت پر تنقید کسی حد تک مذہب پرستوں کو اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنے اور اپنے عقیدے پر راسخ رہنے کا سبق و موقع دیتی ہے۔ مسلمان آبادیاں اہل مغرب کی طرح ابھی یہ بات ماننے پر آمادہ نہیں ہیں کہ مذہب پر کاربند رہنے اور اس پر تنقید کرنے کا عمل معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے جس سے نئی نسل کو اپنی رائے بنانے اور فکری طور پر مستحکم ہونے کا موقع ملتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس روایت کو عام کر کے درحقیقت مغرب نے مذاہب کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ اب عقیدے پر چلنے والے زیادہ مستعدی سے اپنے عقیدے کی حفاظت کے لئے دلیل اور حجت سے کام لیتے ہیں تاکہ نوجوان نسلوں کو اپنے ساتھ لے کر چل سکیں۔ تنقیدی روایت نے مذہب کی شدت پسندی کو کم کرنے اور اسے نئی انسانی روایت سے ہم آہنگ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مسلمان معاشروں میں ابھی یہ عمل شروع نہیں ہوسکا۔ اسی لئے مذہبی شدت پسندی بھی فروغ پا رہی ہے اور عقیدے کو عقلی دلائل سے جانچنے کی روایت مضبوط نہیں ہو سکی۔
مغربی ممالک میں اسلام یا قرآن کو نشانہ بنانے والے عناصر درحقیقت مسلمانوں کی اسی جذباتی وابستگی سے فائدہ اٹھا کر خود اپنی شہرت کے لئے قرآن سوزی یا اہانت آمیز گفتگو کے ذریعے سیاسی پیغام عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے والے عناصر نے خاص طور سے ان ہتھکنڈوں کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اپنے خلاف سامنے آنے والے رد عمل کو اپنی ’مظلومیت‘ اور مسلمانوں کی شدت پسندی کا نمونہ بنا کر پیش کریں۔ بدقسمتی سے متعدد صورتوں میں وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ زیر بحث معاملہ میں عراقی نژاد شخص سلوان مومیکا ایک فعل اسے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنانے کا سبب بنا ہے۔ اگر مسلمان ممالک اس واقعہ کو نظر انداز کرتے تو اس کی بات یا عمل کو کہیں کوئی توجہ حاصل نہ ہو سکتی اور نہ ہی مقامی آبادی کو فکر ہوتی کہ ایک فاتر العقل شخص کیا حرکت کر رہا ہے۔ لیکن مسلمان ممالک کا ردعمل ایسے مباحث کا سبب بنے گا جن میں ایک طبقہ مومیکا کو درست قرار دے کر اس کے دفاع میں دلائل دے گا۔
اس پس منظر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلے جمعہ کو سویڈن میں قرآن جلانے کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی اور ساتھ ہی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قرار داد مذمت منظور کروائی گئی ہے۔ اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’ایوان سویڈن کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قرآن جلانے کے مذموم واقعہ میں ملوث شخص کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ سویڈن کی حکومت کو چاہیے کہ نہ صرف متعلقہ فعل میں ملوث شخص کو سزا دلوائی جائے بلکہ یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اسلاموفوبیا سے متعلق واقعات کا بھی اسی طرح سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے جیسا دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت کے اظہار پر ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے‘ ۔
مسلمانوں کی جائز پریشانی کے اظہار کے لئے یہ قرارداد ایک متوازن متن پر مشتمل ہے تاہم دوسرے مذاہب سے نفرت کے حوالے سے شامل فقرے میں درحقیقت ’سامیت دشمنی‘ کے بارے میں یورپی ممالک کے قوانین کا حوالہ ہے۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہولوکاسٹ یا سامی عقیدے کے خلاف نفرت کے حوالے سے جو قوانین مروج ہیں ان کا پس منظر دوسری جنگ میں نازی جرمنی میں یہودیوں کے قتل و غارت اور ان کے خلاف روا رکھے گئے مظالم سے ہے۔ یہ قوانین یہودی عقیدے کو توہین مذہب کی جدید روایت سے تحفظ فراہم نہیں کرتے بلکہ یہودیوں سمیت کسی بھی عقیدے کو ماننے والے لوگوں کے خلاف نفرت کے اظہار یا تبلیغ کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس طرح معاشروں میں انتہا پسندی کی روک تھام کا اہتمام کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یورپ میں متعدد مواقع پر یہ قوانین مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا سبب بھی بنتے ہیں۔
البتہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم سمیت اپوزیشن لیڈر کی تقاریر میں معاملہ کی تفہیم اور اس سے عقلی طور سے نمٹنے کی کوشش کرنے کی بجائے جذباتی نعروں سے عوام کی سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسے حساس اور نازک موضوع پر کم از کم وزیر اعظم کو اس قسم کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اسٹاک ہوم میں قرآن سوزی کے خلاف مسلمان ممالک کے علاوہ پوپ سمیت متعدد ممالک نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سویڈن کی وزارت خارجہ بھی اس واقعہ کی مذمت کرچکی ہے۔ اس پر شہباز شریف کا یہ بیان غیر ضروری اور ناقابل عمل ہے کہ ’آئندہ کسی نے ایسی مذموم حرکت کی تو پھر ہم سے کوئی گلہ نہ کرے‘ ۔ حکومت پاکستان یا پارلیمنٹ کے پاس قرار داد منظور کرنے یا بیان دینے سے زیادہ کوئی اختیار نہیں ہے۔ دوسرا طریقہ اپنے ملک میں مذہبی رواداری اور برداشت عام کرنے کا رویہ ہے تاکہ دنیا کو مختلف عقائد کے درمیان ہم آہنگی کا عملی نمونہ پیش کیا جا سکے۔ پاکستانی سیاست دان یہ طریقہ اختیار کرنے کی بجائے نعرے بازی پر گزارا کرنا زیادہ سود مند سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم کے جذباتی فقرے معاشرے میں توازن کی بجائے جذباتی ہیجان میں اضافہ کریں گے جس کا نقصان صرف پاکستان کو ہی ہو گا۔
ایوان میں شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی نے یہاں بائبل کی بے حرمتی کی ہو، بائبل کو جلایا گیا ہو۔ اس کے باوجود اسلام کے خلاف جان بوجھ کر جو آگ بھڑکائی جا رہی ہے، یہ دنیا بھر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑانے کی سازش ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے‘ ۔ یہ بیان واقعاتی طور سے غلط اور حقائق سے متصادم ہے۔ پاکستان میں بائبل کو شاید نہ جلایا گیا ہو لیکن اقلیتی عقائد کے لوگوں کو زندہ جلانے، قتل کرنے، ان کی عبادت گاہوں کو تباہ کرنے کی درجنوں مثالیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اسی طرح اس دعوے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے کہ دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑانے کی کسی سازش پر کام ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم کو ایک حساس موضوع پر پارلیمنٹ سے خطاب میں کم از کم غیر ضروری لفاظی اور غلط بیانی سے کام نہیں لینا چاہیے۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

