باجوڑ میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں خود کش حملہ میں چالیس سے زائد افراد جاں بحق اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان سمیت مذمت و تعزیت کے بیانات کا تانتا بندھا ہے۔ تحقیقات کروانے اور قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبوں کا شور سنائی دینے لگا ہے۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے بھی فوجی و سول افسروں کے علاوہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت مستعد دکھائی دیتی ہے۔ یہ کہنا البتہ مشکل ہے کہ ان پھرتیوں اور دعوؤں کا کس کو کتنا فائدہ پہنچے گا۔
کسی نے ابھی اس جان لیوا دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن یہ حقیقت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہونی چاہئے کہ اس المناک دہشت گردی میں کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ خاص طور سے یہ وقوعہ افغان سرحد کے قریبی علاقہ میں ہونے کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تنظیم خاص طور سے اس واقعہ میں ملوث نہ بھی ہوئی تو بھی ایک آدھ دن میں حالات کا جائزہ لے کر اس کی ’ذمہ داری‘ قبول کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔ ماضی میں ایسی مثالیں تلاش کی جاسکتی ہیں کہ جب کوئی دہشت گرد گروہ محض اپنی دھاک بٹھانے اور حکام و عوام کو خوفزدہ کرنے کے لئے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے پر بھی آمادہ رہتے تھے، جن میں وہ براہ راست ملوث نہ بھی ہوں۔
پاکستانی حکام اور سکیورٹی ایجنسیوں کو تخریبی سرگرمی میں ملوث عناصر سے نمٹنے کا اتنا طویل تجربہ ہے کہ اس سانحہ کی ساری تفصیلات عوام کے سامنے نہ بھی لائی جاسکیں تو بھی متعلقہ حکام ضرور ان عناصر کے بارے میں حقائق تک پہنچ جائیں گے جو اس قسم کے کسی سانحہ میں ملوث ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن پاکستانی مفادات کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کو اس وقت ہمسایہ ملک افغانستان میں ’ہم مشرب‘ ہونے کے ناتے میزبانی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ کابل حکومت بظاہر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر سب دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتی رہتی ہے لیکن پاکستانی فوج اور سول حکومت یکساں طور سے واضح کرچکی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر افغان سرزمین سے سرگرم عمل ہیں اور وہیں انہیں محفوظ پناہ گاہیں، تربیت گاہیں اور ضروری بارودی مواد اور اسلحہ بھی فراہم ہوتا ہے۔
حال ہی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث عناصر نے مبینہ طور پر ایسا اسلحہ بھی استعمال کیا ہے جو امریکی فوجیں افغانستان چھوڑتے ہوئے وہیں چھوڑ گئی تھیں۔ یہ ’مال غنیمت‘ طالبان حکومت کے ہاتھ لگا تھا۔ اس کی تقسیم کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔ اگر پاکستان پر حملہ آور کچھ عناصر تک یہ اسلحہ پہنچ رہا ہے تو کابل میں طالبان حکومت کی مرضی و شراکت کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے۔ افغان حکومت اس وقت دنیا بھر میں تنہائی کا شکار ہے۔ اسے بنیادی انسانی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے بھی عالمی امدادی تنظیموں کی مدد اور وسائل کی ضرورت ہے۔ یہ امداد عام طور سے پاکستان ہی کے تعاون اور سہولت کی وجہ سے افغان عوام تک پہنچ پاتی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی تجارت اور لین دین کے معاملات بھی پاکستانی حکام کے جذبہ خیرسگالی کی وجہ سے انجام پارہے ہیں۔
پاکستان اگر افغانستان سے دہشت گردی کرنے والے عناصر پر قابو پانا چاہتا ہے تو دنیا کا کوئی دوسرا ملک یا ادارہ اس کی معاونت نہیں کرسکتا۔ پاکستان کے پاس وہ تمام وسائل، معلومات اور طریقے موجود ہیں جو کابل حکومت کی پالیسی پر اثر انداز ہونے میں معاون ہوسکتے ہیں۔ تاہم پاکستان نے ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں جن میں کابل کے حکمران طالبان کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ طالبان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر وہ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں اپنی حکومت قائم کئے بیٹھے ہیں تو اس میں پاکستانی امداد کا گہرا ہاتھ ہے۔ اس کے باوجود تحریک طالبان پاکستان مسلسل پاکستانی فوج اور حکومت کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیسے اور کن طریقوں سے کابل کے لئے حالات کو اتنا مشکل بنا دے کہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ دینے اور اس کی حوصلہ افزائی سے دست بردار ہوجائیں۔ باجوڑ میں ہونے والا حملہ پاکستانی صبر کا پیمانہ لبریز کرسکتا ہے۔
پاکستان نے فی الوقت یہ معاملہ امریکہ اور اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے۔ امریکہ، افغانستان سے دہشت گردی کے بارے میں خواہ کتنے ہی تند و تیز بیانات دے لیکن وہ وہاں دو دہائی تک عسکری مہم جوئی کرنے کے بعد اس خطے سے دست بردار ہوچکا ہے۔ امریکی نمائیندے اگرچہ دوحہ میں طالبان حکومت کے نمائیندوں سے ملتے رہتے ہیں لیکن ان ملاقاتوں کا کوئی ایسا نتیجہ سامنے آنے کی توقع نہیں کی جاسکتی جس سے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوسکے۔ افغان حکومت نے امریکہ کے ساتھ کئے گئے دوحہ معاہدے کی کسی شرط کو پورانہیں کیا۔ نہ تو اس نے وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کے لئے کسی کارروائی کا آغاز کیا ہے جس کا وعدہ اس معاہدہ میں کیا گیا تھا۔ نہ ہی خواتین کو حقوق فراہم کئے جارہے ہیں بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ ملک میں صنفی امتیاز میں اضافہ ہورہا ہے اور شعبہ ہائے زندگی سے عورتوں کو نکال باہر کرنے کے اقدام کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے ملکوں کے خلاف دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم نہ کرنے کا وعدہ بھی ایفا نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں حملے اس کی سب سے نمایاں مثال ہیں۔ لیکن پاکستان کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ یا کوئی دوسرا ملک پاکستان کی اس مشکل کو حل کروانے میں معاونت کرے گا۔ پاکستان کو یہ جنگ اب خود ہی لڑنا پڑے گی۔ البتہ یہ فیصلہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو مل کرکرنا ہوگا کہ اس جنگ میں کون سے طریقے استعمال کئے جائیں۔
باجوڑ کا دہشت گرد حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان میں اقتدار جلد ہی نگران حکومت کو منتقل ہونے والا ہے اور ملک میں انتخابی مہم شروع ہونے والی ہے۔ اگر تحریک طالبان یا اسی قبیل کے دیگر دہشت گرد گروہ انتخابات سے پہلے یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران وہ بعض جماعتوں کو سیاسی سرگرمیاں نہیں کرنے دیں گے تو یہ ملک کی خود مختاری اور جمہو ری نظام کی پائیداری کے لئے ایک سنگین سوال کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس کا جواب کابل سے مانگنے کی بجائے خود سے دریافت کرنا چاہئے اور ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے جن کی وجہ سے دہشت گرد عناصر حوصلہ مند ہورہے ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت بھی ہؤا ہے جب چین کے نائب وزیر اعظم پاکستان کے سہ روزہ دورہ پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ یہ دورہ سی پیک کی دس سالہ تقریبات کے حوالے سے کیا جارہا ہے ۔ دونوں ملک اس موقع پر اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کرنے والے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی احیا کے لئے سر توڑ کوششیں کررہا ہے۔ اقتصادی بحالی کے کسی بھی منصوبہ کی کامیابی کے لئے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا لازمی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو باجوڑ کا حملہ پاکستان کی معاشی لائف لائن پر حملہ ہے۔ جو عناصر بھی اس حملہ میں ملوث ہیں، وہ کسی ایک پارٹی یا چند افراد کو نقصان پہنچانے کی بجائے پاکستان کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کسی ایک پارٹی یا گروہ پر حملہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ پاکستان کو اسی سنجیدگی اور شدت سے اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔
ملک میں سیاسی تصادم کی موجودہ صورت حال میں ہر ناکامی کی ذمہ داری مخالف سیاسی فریق پر ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دہشت گردی میں اضافہ کی ذمہ داری یہ کہہ کر سابقہ حکومت پر ڈالی جاتی ہے کہ اس دور میں ٹی ٹی پی کے لوگوں کو پاکستان واپس آکر آباد ہونے کی سہولت دی گئی تھی ۔ سرکاری ترجمانوں کے مطابق اب یہی لوگ ملک میں تباہی و دہشت گردی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ملکی معاشی مسائل کی ذمہ داری بھی عمران خان اور تحریک انصاف پر عائد کرکے موجودہ حکومت سرخرو ہونے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مسائل کے سطحی اور آسان حل اور وجوہات تلاش کرنے کا سلسلہ بند کرکے مسئلہ کی گہرائی اور سنگینی کو محسوس کیا جائے تاکہ اس کا حل تلاش کیا جاسکے۔
ٹی ٹی پی کے دوبارہ متحرک ہونے کی بنیادی وجہ یہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف نے چند سو لوگوں کو افغانستان سے واپس آکر پاکستان میں آباد ہونے کی اجازت دےدی تھی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ طالبان کے بارے میں پاکستانی حکومت و فوج کی گزشتہ چار دہائیوں پر محیط پالیسیاں ہیں جن پر اب بھی کسی نہ کسی صورت میں عمل ہورہا ہے کیوں کہ حکمران ابھی تک متبادل اور مؤثر حکمت عملی تیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ملک کے معاشی مسائل کی وجہ کسی ایک حکومت کی غلط مالی پالیسیاں نہیں ہیں بلکہ افغان جنگ کے نام پر کثیر امریکی امداد بند ہونے کی وجہ سے پاکستانی معیشت کا ایک اہم معاشی سہارا ختم ہوچکا ہے۔ ملک کو اس کا متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت اس متبادل پر سنجیدگی سے کام کررہی ہے لیکن ملک کے سیاسی بحران اور تصادم کی وجہ سے اسے پزیرائی حاصل نہیں ہوپاتی۔
باجوڑ پر حملہ حکومت کے علاوہ پاکستانی عوام اور ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ملک دشمن عناصر پاکستانی مفادات پر حملہ آور ہیں اور معاشی بحالی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ ملک سے محبت کرنے والے ہر شخص، گروہ، پارٹی یا ادارے کو اس خطرے کو محسوس کرکے باہمی اختلافات کو قومی مقاصد کے حصول میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہئے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

