سادات سے تعلق رکھنے والی ”بنتِ حوا“ کو پہلے ہراساں کیا گیا، اسے ذو معنی جملے کہے گئے، ”پردہ کرنا ہے تو گھر بیٹھو“ جیسے فقرے کسے گئے، مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کرنے، ہراساں کرنے، اور ذہنی ایذا رسانی کے بعد بالآخر ناکردہ جرم کے الزام میں سرکاری نوکری سے ہی برخاست کر دیا گیا.
ہراسانی، مذہبی و صنفی حقوق کیخلاف ظلم کی یہ داستان پی ایچ اے ملتان میں لکھی گئی۔ اور یہ معرکہ اور کسی نے سر نہیں کیا، بلکہ خود ڈی جی نے ہی اسے سرانجام دیا ہے۔ آصف رؤ ف خان سواتی کے اس اقدام پر سب سراپا احتجاج ہیں ۔ اس سے قبل کے ڈی جی شفقت رضا کی سرکردگی میں ایک بورڈ میٹنگ میں جہاں ڈیڑھ درجن افسران و ملازمین کو محکمانہ ترقیاں دی گئیں، وہیں سیدہ منیبہ کو بھی ان کی تعلیمی قابلیت، اور سروس کی بنیاد پر گریڈ سولہ سے سترہ میں ترقی دی گئی تھی، اور تب سے وہ بطور پی ایس او ٹو ڈی جی اپنے منصب پر تعینات تھیں۔
واضح رہے کہ متاثرہ افسر سیدہ منیبہ علی PHD اسکالر ہیں ، جو پی ایچ ڈی سے پہلے بے اے، بی ایڈ، ایم کام امتیازی نمبروں کیساتھ کر چکی تھیں. ان کے تحقیقی مضامین عالمی جریدوں (Journals International) میں شائع ہوتے رہے ہیں، اور حال ہی میں ان کا ایک مضمون بعنوان "سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے طلباء کی بدتمیزی اور منفی رویے کے تعامل کو کم کرنے میں اساتذہ کا کردار” ایک معروف انٹرنیشنل جریدے میں شائع ہوا ہے، جسے اکیڈیمکس میں بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے.
پی ایچ اے سٹاف میں موجود سترہ خواتین میں سے سیدہ منیبہ اکیلی پردے دار خاتون تھیں، ”پی ایس او“ ہونے کیوجہ سے ڈی جی کیساتھ دفتری تعامل زیادہ تھا، اور افسر کو ماتحت کا پردہ بالکل روا نہیں تھا. ملتان کا چارج سنبھالنے کے بعد سے ہی رؤوف سواتی اپنے غلط ارادوں سے خاتون ماتحت افسر کو مسلسل پریشان کرتا رہا، غیر اخلاقی جملے کستا رہا، اور نقاب ہٹانے پر مسلسل اصرار کرتا رہا. مخدوش دفتری صورتحال اور ذہنی کوفت سے پریشان افسر ایک ذہنی و نفسیاتی کرب میں مبتلا تھی. وہ اس قدر ڈپریشن کا شکار ہو گئی کہ اس سے منصبی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا محال ہو چکا تھا. لہذا ذہنی کوفت اور ڈپریشن کی شکار خاتون نے مجبور ہو کر اپنے والدین کو باس کی مکروہ کارستانیوں سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کربناک صورتحال سے تنگ آ کر طبی بنیاد پر دو ہفتے کی چھٹی لے لی. مگر چونکہ ڈی جی نے اپنے برے ارادوں میں ناکامی اور اپنی فرمائشوں کے آگے گھٹنے نہ ٹیکنے کی پاداش میں ماتحت خاتون افسر کو سبق سکھانے کی ٹھان رکھی تھی، سو اس نے خرابی صحت کی بنیاد پر میڈیکل لیو کو اعتنا بھی کب بخشنا تھا.
برے ارادوں کی تکمیل میں ناکامی پر رنجیدہ، اور اور غصے میں مبتلا افسر نے میڈیکل کو جعلی قرار دے کر ماتحت افسر کی جواب طلبی کر دی، ساتھ ہی انکوائریاں بھی شروع کروا دیں، جن کے نتیجے میں بالآخر انہیں معطل ہی کر دیا. اس غیر قانونی معطلی پر احتجاج کرتے ہوئے متاثرہ خاتون افسر نے اپنے خلاف اس ظلم پر آواز اٹھانے کی دھمکی دی تو اس پر ڈی جی نے معطلی کو ختم تو کر دیا، مگر ساتھ ہی شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا.
اب ڈی جی نے ایک اور گھناؤنا کھیل رچایا. اپنی پشت پناہی میں اس نے ایک دوسرے ماتحت سے ایک درخواست لکھوا کر متاثرہ خاتون کی محکمانہ ترقی پر سوال کھڑا کر دیا. اور یوں ریکارڈ میں جعلسازی کا الزام لگا کر سرے سے نوکری سے ہی برخاست کر دیا. افسرِ بالا موصوف نے یہیں پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ ریکارڈ ٹیمپرڈ کا کیس اینٹی کرپشن کو بھی بھیج دیا، جہاں اپنے بے پناہ اثر و رسوخ کا بھرپور و بے دریغ استعمال کیا. اوپر سے نشتر انتظامیہ پر بھی بیجا دباؤ ڈالا کہ وہ ایک بورڈ کی تشکیل دیں، جو خاتون کو میڈیکلی اَن فٹ قرار دے.
مستزاد یہ کہ متاثرہ خاتون کے شوہر، جو بہاولپور یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کو بیوی کے کیس میں پیروی کرنے سے روکنے کیلئے وی سی کو خط بھی لکھ دیا. جبکہ اپنے ہی محکمے کے دیگر ملازمین پر اپنے حق میں، اور خاتون کے خلاف بیانات کیلئے بھی مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے.
مذ کورہ بالا اقدامات پر بھی بس نہ کی گئی، بلکہ خاتون کیخلاف ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ایک مہم چلائی گئی. پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا، پریس ریلیزز جاری کی گئیں، خبریں لگانے کیلئے اخبارات پر پیسہ پانی کیطرح بہایا گیا. الغرض متاثرہ خاتون اور اس کے والد کیخلاف اس مکروہ ڈس انفارمیشن کیمپین میں سرکاری وسائل کا بھی بے تحاشا زیاں کیا گیا. خاتون کے والد محکمہ انفارمیشن کے ریٹائرڈ افسر ہیں، اور ملتان ٹی ہاؤس کے کیئر ٹیکر کے طور پر کام کر رہے ہیں. سچ کہیں تو ملتان ٹی ہاؤس انہی کے دم سے آباد ہے، ہر رکن کی عزت و احترام، ان کی اخلاقی مدد، کسی بھی شکایت کا بروقت تدارک، اور اپنی کمال معاملہ فہمی سے ہی انہوں نے یہ ممکن بنا رکھا ہے.
سوچنے اور حیرانگی کی بات ہے کہ نوکری سے برخاست کرنے کے بعد افسرِ بالا کا یہ بھی کیا فرضِ منصبی ہوتا ہے کہ برخاست شدہ افسر کو توپوں کے دہانے پر رکھا جائے؟ امر واقع یہ ہیکہ روؤف سواتی نے اس کیس کو ذاتی پرخاش و عناد کا مسئلہ بنا دیا ہے. صنفِ نازک کے ہتھیار نہ ڈالنے سے بظاہر اس کی مردانہ و افسرانہ اَنا کافی مجروح ہوئی ہے. دفتر میں کہانیاں تو اور بھی گردش میں ہیں، مگر خوفزدہ خواتین حرفِ شکایت زباں پہ نہیں لے آ رہیں.
متاثرہ خاتون افسر، سیدہ منیبہ علی نے اپنے دفاع میں جو چند اقدامات اٹھائے ہیں، اور جن مختلف فورمز پر دادرسی کیلئے دروازہ کھٹکھٹایا ہے، ان کی مختصر تفاصیل کچھ یوں ہیں:
1) انوسٹی گیشن پر متعین اینٹی کرپشن کے افسر کے سامنے اپنے میاں کیساتھ پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروایا.
2) صوبائی محتسب کو ضابطے کی کاروائی کیلئے درخواست دی، جس میں صنف نازک کو افسر بالا کے ظلم و بربریت کیخلاف مناسب و متناسب اقدامات کی اپیل کی گئی.
3) ہائی کورٹ میں ہراسانی کا کیس بھی داخل کیا جا چکا ہے.
4) پنجاب کے چیف سیکریٹری صاحب، صوبائی سیکریٹری ہاؤسنگ پنجاب، اور صوبائی سیکریٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب کے نوٹس میں بھی یہ معاملہ لا یا گیا ہے.
5) حقوق نسواں کی مختلف تنظیموں سے رابطے کئے جا رہے ہیں لیکن ان سے امید رکھنا عبثِ محض ہے، کیونکہ پردہ دار خواتین کیلئے ان کا متحرک ہونا بظاہر ان کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے.
راقم کی یہ بھی رائے ہےکہ یہ سب بھی ابھی کافی نہیں ہے. آپ احباب سے بھی درخواست ہے کہ آگے بڑھیں..! اس ظلم کیخلاف، اس ہونہار خاتون افسر کی آواز کو بلند کرنے میں اس فیملی کا ساتھ دیں. متعلقہ انتظامیہ اور اقتدار کے ایوانوں تک رسائی و شنوائی تک ہمیں ان کیساتھ کھڑے ہونا چاہئے، پیچھے بالکل نہیں ہٹنا چاہئے.
صحافت، علم و ادب، سوشل سوسائٹی اور معاشرے کے کچھ سرکردہ لوگوں نے متاثرہ خاتون، اور اس کے خاندان، کیساتھ یکجہتی اور حمایت کیلئے بیانات دئے ہیں، ان میں پی ایچ اے کے ڈی جی کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور انتظامیہ سے فوری اقدامات کے مطالبات کئے گئے ہیں. ان میں نمایاں نام یہ ہیں: بزرگ و سینئر ترین صحافی، معروف دانشور و مصنف، اور کالم نگار مسیح اللہ جامپوری. جرنلزم کے معروف استاد پروفیسر ڈاکٹر شبیر حسین بلوچ، معروف شاعر و ادیب، اور کالم نگار رضی الدیں رضی، صدارتی ایوارڈ یافتہ کالم نگار اور معروف کمپیئر شاکر حسین شاکر، شاعر و ادیب مستحسن خیال خلجی، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ربنواز ملک، کالم نگار سجاد ملک، پروفیسر امجد رامے، اور دیگر ۔۔
مطالبہ: چونکہ افسر بالا، آصف روؤف سواتی انویسٹیگیشن پر اثرانداز ہونے کی مسلسل کوشش میں ہے، اور سرکاری وسائل کا بھی بیجا استعمال کر رہا ہے، لہذا آزاد اور مبنی حق تحقیقات کو ممکن بنانے کیلئے اس سے موجودہ عہدے کا چارج واپس لیا جائے.
آخر میں بارِ دیگر تمام احباب سے اس کاز کیلئے آواز بلند کرنے کی استدعا ہے.
فیس بک کمینٹ

