آپ بھی حیران ہو رہے ہوں گے کہ جب ملک میں معاشی بحران عروج پر ہے ۔ہر شخص اپنے معاملات زندگی کی وجہ سے پریشان ہے ۔ایسے میں ہمیں کیا سوجھی ۔کہ ہم ایک پرانے قرض کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔دوستو یہ قرض ایک عرصے سے ہم نے لے رکھا تھا ۔لیکن ہماری ازلی ابدی سستی کی وجہ سے یہ قرض نہ صرف بڑھتا چلا گیا بلکہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ہم اپنے آپ سے بھی شرمندہ شرمندہ تھے ۔اور جن کو قرض واپس کرنا تھا ان کو دیکھ کر راستہ تبدیل کرنے لگ گئے تھے ۔ابھی ہم قرض کی ادائیگی کا سوچ رہے تھے کہ ان کی طرف سے خوبصورت سا پیغام ہمارے فون پر آیا ۔وہ پیغام آپ بھی پڑھ لیں ۔
سو جام تصدق، ہزاروں میخانے
نگاہ یار کی لذت، شراب کیا جانے
پیغام کیا تھا اس نے ہمیں فوری طور پر ان کے قرض کی ادائیگی کرنے کے لیے قائل کیا ۔تو آ ج ہم پروفیسر ڈاکٹر مختار ظفر کو ایک بہت ہی پرانا قرضہ لوٹا رہے ہیں ۔کہ ان کی محبتوں کے تلے ہم ایک عرصے سے جی رہے ہیں اور جب وہ اپنی ہر نئی کتاب ہمیں بھجواتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ آئی ایم ایف ہیں اور ہم سری لنکا یا پاکستان ۔اس سے پہلے کہ ہم ان کی نظر کرم کی طرف سے ڈیفالٹ ہو جائیں آج ہم آ ج ہم پہلی قسط کے طور پر ان کا قرضہ اتارنے کی کوشش کریں گے ۔
پروفیسر ڈاکٹر مختار ظفر سے پہلی ملاقات کب ہوئی ؟یہ تو ہمیں یاد نہیں ۔البتہ ان کی پہلی ملاقات پر تعارف کے بعد وارفتگی آج بھی یاد ہے ۔اور یہ وارفتگی ابھی تک جاری و ساری ہے ۔کہ وہ دبستان ملتان کی ایک ایسی شخصیت ہیں جو ہر شخص کی ہمیں خوشی میں نہ صرف موجود ہوتے ہیں بلکہ خوبصورت گفتگو کر کے اپنے ہونے کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔اگر میں کیلکولیٹر سامنے رکھ کر بیٹھوں اور حساب کتاب لگانا شروع کروں تو پھر یہ بتانا چاہوں گا کہ میرے شہر میں جس شخصیت کی سب سے زیادہ نثری کتابیں شائع ہوئی ہیں اس کا نام پروفیسر ڈاکٹر مختار ظفر ہے ۔باوجود اس کے یہ ان کی کتابوں کی تعداد درجنوں ہے ۔لیکن ان کے ہاں جو عجز، محبت اور احترام کی خو ہے ۔وہ آ ج کے دور میں خال خال دکھائی دیتی ہے ۔
انہوں نے اپنی نوکری کے ساتھ اپنے قلم کو بھی رواں دواں رکھا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے موضوعات بالکل مختلف ہیں پھر تحقیق کرتے ہوئے ایسی شخصیات پر قلم اٹھاتے ہیں جس پر پہلے کبھی کسی نے کام نہیں کیا ٠اس لحاظ سے وہ محنت کرنے کے عادی ہیں اور یہی محنت ان کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ۔
ڈاکٹر پروفیسر مختار ظفر ملتان کے مختلف کالجز میں تدریسی خدمات اور ملتان بورڈ میں کلیدی عہدوں پر فرائص سر انجام دینے والے تقسیم پاکستان سے پہلے 1945 میں ضلع جالندھر تحصیل نکودر کے ایک گاؤں چک مغلانی میں پیدا ہوئے۔ ڈاہرانوالہ ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایس ای کالج بہاولپور سے ایف اے کیا جبکہ بی اے اور ایم اے اردو کا امتحان پرائیویٹ پاس کیا۔ بھٹو دور کے ایک سابق وزیر اعلٰی پنجاب حنیف رامے کو خط لکھ کر اپنی گوناگوں صلاحیتوں سے متاثر کیا اور ان کی سفارش پر انٹرویو کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ایڈہاک لیکچرر اردو منتخب ہوئے۔ اگلے ہی سال پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقل لیکچرر منتخب ہو گئے۔ تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطور ٹیوٹر اور ری سورس فل پرسن خدمات سر انجام دیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ موضوع تھا "ملتان کی شعری روایات بحوالہ چھ ادبی شخصیات یعنی اسد ملتانی، علامہ طالوت، عبداللہ نیاز، کشفی ملتانی، کیفی اور شفقت کاظمی”۔ یہ مقالہ پروفیسر ڈاکٹر اے بی اشرف صاحب کی نگرانی میں مکمل کیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحانات میں بطور سپرنٹنڈنٹ، انسپکٹر، ہیڈ ایگزامینر، سیکریسی اور چیف سیکریسی آفیسر خدمات سر انجام دیں ۔ 1981 تا 1987 تک پنجاب لیکچرر ایسوسی ایشن ملتان کے ڈویژنل صدر منتخب ہوتے رہے۔ ملتان بورڈ کے کنٹرولر، انچارج چیئرمین اور ملتان بورڈ آف گورنر کے ممبر بھی رہے۔ 2005 میں ریٹائرمنٹ کے بعد دی ایجوکیٹر کالجز ملتان اور سنٹرل کالج فار گرلز ملتان کے پرنسپل بھی رہے۔ نوبل گرلز کالج ملتان اور دی ٹائمز یونیورسٹی ملتان میں صدر شعبۂ اردو اور ایم فل کے استاد کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ بےشمار سیمینارز اور ادبی اجتماعات میں اظہارِ خیال فرمایا۔ روزنامہ خبریں کے ادبی ایڈیشن کے انچارج بھی رہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی جرائد میں آپ کے مضامین چھپتے رھے۔ ملتان ٹی ہاؤس کے تاحیات اعزازی رکن ہیں۔ ملتان اکادمی ادبیات پاکستان کے ممبر اور پاکستان رائٹرز فورم ملتان کے چیئرمین بھی رھے۔ بہت اچھے لکھاری ہیں۔ بقول پروفیسر منیر رزمی،
"ملتان میں علم و ادب ، تحقیق و تدریس کا حرفِ معتبر ہیں ۔ ان کے عشقِ قاموس میں ابوالکلام آزاد کی ادبیت ، سید ابوالاعلی مودودی کی علمیت ، مولانا ظفر علی خاں کی سخن طرازیاں ، آغا شورش کاشمیری کے قرطاس ادب میں رزم و بزم کی صبح گاہی ، اقبالیات کا سوزِ عشق ، پاکستانیت سے والہانہ وابستگی ، ملتان اور اہل ملتان سے پیار ، تدریس میں تقدس مآب جولانیاں اور ایک ملک گیر روزنامے خبریں میں ادبی صفحے کے انچارج کے طور پر کام کیا اور بہت سی نئی روایات قائم کی ۔” ان کی کچھ کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔
1- علامہ طالوت
2- اسد ملتانی
3- محمد عبداللہ نیاز
4- ملتان کی اردو شعری روایت (مقالہ پی ایچ ڈی)
5- شاعرانِ خوش نوا (تحقیق و تنقید)
6- آفاقی و سرمدی سرائیکی شاعر : خواجہ غلام فرید
7- نگارش کدہ : تبصرے، تجزیئے
8- پاکستانیات
9- ملتان ، ادب اور تصوف
10- ابوالکلام آزاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ متاعِ گم گشتہ
11- شعر و ادب کی محفلیں
12- سفر نامے (سوئے حرم لے چل اور کیوں نہ ہم بھی سیر کریں ساؤتھ کوریا کی)
13- آئینہ خانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقد و نظر کا
14- علامہ طالوت کے نظریاتی افسانے (تحقیق و تدوین)
15- رہ نوردِ جستجو از ع س مسلم
16- صریرِ خامہ از ع س مسلم
17- مقدمے اور ابتدائیے
18۔عالم خواب کا مجلسی مکالمہ
19۔وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید استینوں میں
20۔انشائیے تخلیقی رمز یات کے ۔
آپ کی تخلیقات، فن اور شخصیت پر ایم اے کی سطح پر بہت سے اور ایم
فل کی سطح پر درج ذیل چار مقالات لکھے گئے۔
1- مختار احمد ظفر کی ادبی خدمات از اشفاق احمد
2- تحقیق و تنقید میں مختار ظفر کا مقام از مسرت بتول
3- مختار احمد ظفر کی ادبی خدمات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ از ماجدہ صدیق
4- ڈاکٹر مختار ظفر کی تخلیقات کا تحقیقی جائزہ از رابعہ خالد
ڈاکٹر مختار ظفر کا فن اس بات کا متقاضی ہے کہ اب ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جائے تاکہ تاکہ ان کے پورے کاموں کو پذیرائی مل سکے ۔ڈاکٹر مختار ظفر ملتان کی تہذیبی ،ثقافتی، علمی اور ادبی زندگی کہ ایسے فرد ہیں جنہوں نے صحافت بھی کی اور وادی سیاست کے ایسے شہسوار رہے ۔جہاں پر انہوں نے عزت کے ساتھ شہرت بھی کمائی ۔وہ ملتان کی ایک ایسی علمی شخصیت ہیں جنہوں نے اس علمی توقیر میں اضافہ کیا ان کے بارے میں ڈاکٹر انوار احمد کہتے ہیں
ڈاکٹر مختار ظفر بنیادی طور پر استاد ہیں ،ادبی ایڈیشن مرتب کرنے والے ، ملتان ہی نہیں اس خطے کی تہذیبی شناخت کو اجاگر کرنے والی اور اپنی عقیدت کی محور شخصیتوں کو کلاس روم یا خواب و خیال میں یک جا کرنے کے آرزو مند فسوں کار بھی ساتھ ساتھ۔
فیس بک پر ہر دوسرا شخص دہائی دے رہا ہوتا ہے کہ میری شناخت کسی اچکے کے ہاتھ لگ گئی ہے اس لئے میں نہیں جانتا کہ وہ ڈاکٹر مختار ظفر کون ہے جو احباب کو صبح شام ڈراتا ہے کہ میں علیل ہوں میرے لئے دعائیں کیجئے اور یہ مختار ظفر کون ہے جو ملتے وقت لکھنوی / ملتانی بانکا بلکہ چھیلا لگتا ہے ۔
انہوں نے اپنی کتاب عالم خواب کا مجلسی مکالمہ میں ریاض انور ، سردار جبار ، عمر کمال ، ارشد ملتانی اور اسلم انصاری کی بزم ثقافت کے اس جشن فرید کی یاد تازہ کرائی ہے جو ملتان کے تاریخی قلعے پر نصف صدی پہلے ہوا تھا اب اس میں مختار ظفر نے کیا یہ سقراط کو "عالم خواب کے مجلسی مکالمے” کی محفل کا صدر مجلس بنایا سقراط ہو تو پھر افلاطون اور ارسطو بھی آئیں گے ، خواجہ فرید کے ساتھ بابا فرید ، شاہ لطیف ، مست توکلی اوررحمن بابا بھی اپنے کلام سمیت آئے ، مختار مسعود کی تصدیق و توضیح کے ساتھ عطا اللہ شاہ بخاری بھی آئے ، شمس سبزواری بھی پھر علامہ طالوت آئے تو مختار ظفر
” توازن ” قائم کرنے عبیداللہ سندھی کو بھی لائے ۔
انہوں نے کوشش کی ہے کہ راوی کے طور پر ان تمام شخصیتوں کے کوائف کا تعارف بھی کرا دیاجائے سو وہ شاکر اور شاہ مری کی کتب سے استفادہ بھی کرتے ہیں( مگر جانتے نہیں کہ شاہ مری توکلی کو طوق علی بنانے والوں سے چڑتا ہے) تاہم یہ کتاب اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے جتن کرنے والے ڈاکٹر مختار ظفر کی تازہ ترین مصروفیت دی ٹائمز انسٹیٹیوٹ سے وابستگی کی بھی اطلاع دیتا ہے ۔
ہمارے ہاں عام طور پر پروفیسر حضرات ریٹائرمنٹ کے بعد یا تو کسی مسجد کے متولی بن جاتے ہیں ۔یا ان کی اولادیں یہ کہتی ہیں کہ ہمارے بچوں کی سکول اور اکیڈمی کی ڈیوٹیاں دیں ۔دوسری صورت میں اگر بچے بیرون ملک ہوں تو ایسے والدین اپنے بچوں کے پاس جا کر وقت پاس کرتے ہیں ۔لیکن ڈاکٹر مختار ظفر کہ بچے اگرچہ باہر ہیں ۔وہ گاے گاے ان کے پاس جا کر رہتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں جب واپس آ تے ہیں تو ان کی پٹاری میں کسی نئی کتاب کا مسودہ ہوتا ہے ۔جس کو وہ شائع کروانے کے بعد دوستوں تک بھجواتے ہیں ۔اور پھر اگلی کتاب پر کام شروع کر دیتے ہیں ۔ایسے لوگ سرمایہ ملت ہوتے ہیں ۔ملت کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے تمام عمر جس نظریے کے ساتھ وابستہ رہے وہاں وہاں پر ملک و ملت جیسے الفاظ کا استعمال بڑا بے رحمانہ کیا جاتا ہے ۔لیکن ڈاکٹر مختار ظفر نے اپنے قلم کے ذریعے اس ملک کے پڑھنے والوں کو جو کتابیں دی ہیں وہ کبھی پرانی نہیں ہو گی کیونکہ موضوعات نئے ہیں ۔اور نئے موضوعات پر ڈاکٹر مختار ظفر نے اس انداز سے قلم اٹھایا کہ وہ موضوعات امر ہو گئے ہیں ۔
فیس بک کمینٹ

