بیسویں صدی سائنسی ایجادات اور انقلابات کی صدی تھی. اکیسویں صدی میں سائنس کا یہ تیز رفتار سفر اپنی معراج کی طرف گامزن ہے. میرے چھوٹے بھائی نے آج مجھ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک خبر کے بارے میں سوال کیا جس میں ختنے کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر نے بچے کا عضو تناسل کاٹ ڈالا. بھائی جان!! ڈاکٹر نے اتنی بڑی غلطی آخر کیوں کر دی؟؟ کیا اس ڈاکٹر کا لائسنس کینسل ہو جائے گا؟ وہ بچہ تو ایک بنیادی انسانی ضرورت اور قدرتی صلاحیت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا، کیا ریاست اسے سزا دے گی. میں نے اسے کئی برس پہلے ملتان کے نجی ہسپتال میں ہونے والے واقعے کے بارے میں بتایا جب ایک خاتون نارمل زچگی کے لیے آئی اور حرام مغز میں لگائے گئے درد روکنے کے ایک ٹیکے کے سائیڈ افیکٹ کی وجہ سے کوما میں چلی گئی اور کئی برس تک وینٹیلٹر پر رہی، شاید آج بھی ہو. وہ مینجمنٹ کی ایک سنگین غلطی تھی، اس پر بہت شور بھی مچا لیکن معاملہ بالآخر ٹھنڈا پڑ گیا. ایسا کیوں ہوتا ہے؟ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں موجود اس بنیادی نقص کا پتا کارل مارکس نے آج سے 160 برس پہلے لگا لیا تھا. وہ نقص یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام پیسے کے گرد گھومتا ہے. یہ اس نظام کی بنیادی غلطی ہے. سائنس کا مقصد انسان کے لیے مادی فوائد حاصل کرنا ہے. سرمایہ داری میں سائنس کو انسانی مادی مفادات کی بجائے پیسے یا کیپیٹل کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ انسان انسانیت پر مرتکز ہونے کی بجائے منافع یا استحصال کی جانب اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھتا ہے. عظیم سائینسی ایجادات اور انقلابات کے اس جدید دور میں اس ایک بنیادی انسانی غلطی کی وجہ سے دھرتی پر موجود انسانوں کی اکثریت آج مادی استحصال کا شکار ہے. بیسویں صدی میں دنیا ایک طرف سرمایہ دار اور دوسری طرف اشتراکی سیاسی دنیاؤں میں بٹی ہوئی تھی. اس جنگ میں عارضی طور پر سرمایہ دار دنیا جیت گئی لیکن اشتراکیت کے مارکسی نظریے کو شکست نہ ہو سکی. مارکسزم آج کے عہد میں جتنا مناسب نعم البدل ہے شاید تاریخ میں کبھی نہ تھا. سوشل میڈیا نے سرمایہ دارانہ نظام کے نقائص کو دنیا کے سامنے عریاں کر دیا ہے. آج ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا دو ہی طبقات میں بٹی ہوئی ہے. ایک طرف چند دولتمند سرمایہ دار ہیں اور دوسری طرف 95 فیصد غریب محنت کش. محنت کشوں کو یہ ادراک حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ دنیا انہی کے دم سے چل رہی ہے لہذا انہیں اس دنیا کی جدید سائنسی اور انقلابی مادی ایجادات سے فوائد حاصل کرنے کا پورا حق ہے. سائینسی، سیاسی اور سماجی سوشلزم یہی ہے کہ موجودہ بےکار اور گھسے پٹے، بدبودار اور پرتعفن عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور خطہ ارض پر اشتراکیت کا سرخ پرچم لہرا دیا جائے. اشتراکی نظام میں جب ڈاکٹر کی توجہ اپنے مالی فائدے کی بجائے مریض کی صحتیابی پر ہو گی تو ایسی فاش غلطیوں کا امکان بھی کم سے کم ہو جائے گا.
Previous Articleحاتم طائی کی قبر پر لات : پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے لیٹر کمی
Next Article امتیاز عالم کا کالم:نگاہِ مرد مومن اور پوپ

