Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جون 30, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز
  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی : 14 بچے جاں بحق
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان
  • میرے گھر میں فرشتے نہیں آتے : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں : عمار مسعود کا کالم
  • مودی کی مسلمان دشمنی ، آج کا مغربی بنگال اور نومبر 1984 کی یاد : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • بہشتی دروازے کی گا رنٹی : یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • ایران کے زیر سایہ سکیورٹی کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • سرگودھا میں 14 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد زندہ دفن کرنے کی کوشش ، تین ملزمان گرفتار
  • محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»ڈاکٹر علی شاذف»عمران خان ، فوجی اشرافیہ اور بلوچ تحریک : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
ڈاکٹر علی شاذف

عمران خان ، فوجی اشرافیہ اور بلوچ تحریک : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

ایڈیٹرجنوری 3, 202442 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

عمران خان ایک نالائق، نااہل، جھوٹے، مکار، خودغرض، دغاباز اور منافق انسان ہیں۔ وہ اپنے وفادار اور با صلاحیت ساتھیوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں اور بھی بہت سے جھول ہیں جن کا ذکر کرنا یہاں مناسب نہیں ہے۔ انہیں فوج اور آئی ایس آئی کے کچھ ذمہ دار افسران نے اپنے نامعلوم مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے 2018 میں وزیراعظم بنایا۔ اقتدار کے دوران فوج کے ان ذمہ دار افسران میں سے کچھ عمران سے ناراض ہو گئے اور انہوں نے عمران کے سر پر سے اپنا دست شفقت ہٹا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔
عمران عوام کی طاقت اور جمہوریت پر بالکل یقین نہیں رکھتے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں بلکہ شاید دنیا میں طاقت کا سرچشمہ امیر افراد یا سرمایہ دار مافیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دار مافیا کی مدد کے بغیر وہ بلکہ کوئی بھی اقتدار حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کا ایک جملہ جس سے ان کی اس ذہنیت کا اظہار ہوتا ہے یہ ہے کہ ”سیاست کرنا غریب آدمی کا کام نہیں ہے“ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سیاسی میدان میں کامیابی کے لیے ہمیشہ پاکستان کے طاقتور سرمایہ دار فوجی اور غیرفوجی مافیا کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔
ان دنوں عمران مکافات عمل کا شکار ہیں اور ان کے خلاف پاکستانی سرمایہ دار مافیا کی جانب سے شدید انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کی جماعت کے اہم رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ وہ خود اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی جگہ ایک ڈمی چیرمین پاکستان تحریک انصاف کام کر رہے ہیں۔ مختلف صحافی اس سیاسی جبر پر عمران سے اظہارِ ہمدردی کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مقتدر ادارے کی طرف سے جس پر بھی جبر کیا جائے اس کی مذمت ہونی چاہیے۔ دوسری طرف کچھ صحافی 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کی طرف سے برپا کیے جانے والے پرتشدد ہنگاموں کو ایک ناقابل معافی جرم قرار دے رہے ہیں۔ عدلیہ ظاہر کر رہی ہے کہ وہ ملک میں صرف اور صرف انصاف چاہتی ہے اس لیے تحریک انصاف اور عمران کے بارے میں اس کا رویہ نرم پڑ رہا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی سختیوں کی وجہ سے پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس اور اشرافیہ کا ایک بڑا حلقہ عمران کی زبردست حمایت کر رہا ہے۔ پنجاب میں عمران کو ایک مقبول رہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ کھمبے کو بھی الیکشن میں کھڑا کریں گے تو وہ 8 فروری کا انتخاب جیت جائے گا۔ دوسری طرف ن لیگ بہت مطمئین اور پر اعتماد نظر آتی ہے کیونکہ اسے دور حاضر کی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نواز شریف کو یقین ہے کہ وہ بآسانی چوتھی مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔ پنجاب کے تمام الیکٹیبلز اس وقت ن لیگ میں ہیں اور ن لیگ کی ٹکٹ بلیک میں بھی دستیاب نہیں ہے۔
ہم عمران پر ہی رہتے ہیں، عمران کی جماعت ایک طرف واضح طور پر فوج مخالف مہم چلائی رہی ہے جب کہ دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیرمین کہہ رہے ہیں کہ وہ فوج کے مخالف نہیں ہیں اور یہ ان کی اپنی فوج ہے۔ عمران کی جماعت بلوچ یکجہتی تحریک کی حمایت بھی کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ اس وقت ہر فوج مخالف بیانیے کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ اعلیٰ فوجی افسران کی اکثریت اب بھی عمران کے ساتھ ہے لیکن فوجی ڈسپلن کی وجہ سے خاموش ہے۔ فوجی اشرافیہ کے خاندان خاص طور پر ان کی خواتین عمران کی مداح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فوجی افسران دفتر اور گھر دونوں جگہوں پر شدید دباؤ میں رہتے ہیں۔ اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے پی ٹی آئی کے خلاف شدید ردعمل کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ 9 مئی کو فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی گئی تھی۔یہ بھی واضح ہے کہ 9 مئی کی اس مبینہ بغاوت میں فوج کے اپنے حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے۔ حاضر سروس افسران کی بیگمات کے علاوہ عمران کو ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران (ایکس سروس مین) اور ان کے خاندانوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ عمران کی کٹھ پتلی سیاست ابھی ختم نہیں ہوئی. پراجیکٹ عمران کو نقصان ضرور پہنچا ہے لیکن شاید یہ مکمل طور پر رول بیک نہیں ہوا۔عمران یقیناً مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب لوہا گرم ہو اور وہ ضرب لگائیں۔ سوشل میڈیا پر عمران کی گرفت بدستور مضبوط ہے اور دوسری جماعتیں اس کے قریب قریب بھی نظر نہیں آتیں۔ عمران اپنی ڈھکی چھپی فوجی حمایت کے باعث یقیناً اپنے روشن مستقبل کے لیے پرامید ہوں گے۔ جونہی وہ اپنی حامی فوجی اشرافیہ کی مدد سے اقتدار حاصل کریں گے ان کا فوج مخالف بیانیہ بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا اور وہ ایک مرتبہ پھر اس ملک کو اپنے ذاتی کارپوریٹ ادارے کی طرح چلانے کا آغاز کر دیں گے۔
عمران اور ان کی حامی اشرافیہ کے لیے مایوس کن بات صرف یہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کی تحریک نے پورے ملک میں نئی سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے جس کا سیاسی اشرافیہ کی انتخابی کٹھ پتلی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نچلے طبقے کی یہ بلوچ تحریک ملک سے کٹھ پتلی سیاست کا خاتمہ کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں عمران خان کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاویدکاتجزیہ:مولانا فضل الرحمان کے بیان کردہ خدشات
Next Article جبری گمشدگی کیس: حکومت لکھ کر دے مزید کسی کو غیر قانونی لاپتہ نہیں کیا جائیگا: چیف جسٹس
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز

جون 30, 2026

لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی : 14 بچے جاں بحق

جون 30, 2026

ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان

جون 30, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ماؤں کا دکھ سمجھتی ہوں : ٹیوشن سینٹر سانحے کے ذمہ دار وں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا‘ مریم نواز جون 30, 2026
  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی : 14 بچے جاں بحق جون 30, 2026
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان جون 30, 2026
  • میرے گھر میں فرشتے نہیں آتے : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم جون 30, 2026
  • جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں : عمار مسعود کا کالم جون 29, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.