قلم اور قلم کار کی ضرورت و اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔قلم ہی تہذیب انسانی،اس کے ارتقاء اور علم و دانش کا ذریعہ ہے۔قلم نے ہی قوموں کی تقدیر بدلنے اور سوئی ہوئی قوموں کو جگانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آزادی میں قلم کا بڑا حصہ شامل ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کے ”الہلال“ اور مولانا ظفر علی خان کے”زمیندار” نے عوام میں آزادی کا شعور بیدار کیا۔کسی بھی قوم اور علاقے کی تہذیب و ثقافت، تمدن،اخلاقی اقدار اور مذہبی روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے قلم ہی بہترین وسیلہ ہے۔
رضی الدین رضی ملتان اور اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ان کی زندگی کئی ایک حوالوں سے معتبر ہے۔وہ ایک بہترین نثر نگار،خوبصورت لب و لہجے کے مستند شاعر اور نامور صحافی جیسی خصوصیات کے حامل ہیں۔ان کے نزدیک ادب اور صحافت بلند مرتبے پر فائز ہیں۔ملتان اور اہل ملتان کے حوالے سے ان کی کم و بیش آٹھ تصانیف اشاعت کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔زیر نظر کتاب ”پیر سپاہی اور ملتان کی دیگر کہانیاں” ہے جس میں ملتان کی تاریخی،ادبی اور تہذیب و ثقافت کے متعلق کہانیاں موجود ہیں۔ان کالموں میں ملتان کی کئی رفتگان اور وابستگان کے علاوہ ملتان کی تاریخ کو شامل کیا گیا ہے۔زیر نظر کتاب صاحب موصوف کے اشاعتی ادارے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے مئ 2023ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔اس کا انتساب انہوں نے ظہیر کمال کے نام لکھا یے۔یہ کتاب کل 80 صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں صاحب موصوف نے پیر سپاہی سمیت کئی ایک اعتقادی اور توہماتی کہانیوں کو شامل کیا ہے۔جو کہ ان کے بچپن کی کہانیاں ہیں۔
رضی صاحب نے اپنے بچپن میں ملتان میں جو رسم و رواج،تہوار،فنون لطیفہ اور روایات کو رائج دیکھا اس کو اپنے کالموں میں محفوظ کر لیا اور اسے کتابی شکل دے دی۔ان کہانیوں میں سے ایک میں ”نیا دن“ اخبار اور اس سے جڑی بہت سی شخصیات کی یاد کو تازہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ چند اہم مضامین جن میں بابا ہوٹل،معطر سہرہ،نواب محی الدین کے دیوتا اور عمران سیریز، شاہ شمس کی بوٹی،زہریلی شراب اور اقبال شیخ کی خصوصی خبر،محمد علی باکسر،خوشبو کی شہادت اور بھٹو سے جڑی شاعری،پیر سپاہی اور قسور گردیزی پر تشدد کی کہانیاں بہت اہم ہیں۔ان کہانیوں کو صاحب موصوف نے بہت دلچسپ اور سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے جو اپنے اندر ملتان کی تاریخی،ادبی اور تہذیبی تاریخ کو سموئے ہوئے ہیں۔
”زہریلی شراب اور اقبال شیخ کی خصوصی خبر“ کی کہانی کی آخری سطریں اس بات کا بہترین نمونہ ہیں جن میں ایک کرائم رپورٹر خبر کے حوالے سے جواب طلبی پر عذر پیش کرتا ہے کہ ”جناب بات یہ ہے یہ خبر ہمیں مل ہی نہیں سکتی تھی۔اقبال شیخ نے تو مرنے والوں کے ساتھ پینے پلانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔خود وہ کھانا لینے گیا اور بعد میں اس کے دوستوں نے اس کے آنے سے پہلے ہی ماحول بنا دیا۔اگر اقبال شیخ کھانا لینے نہ جاتا تو آج تعداد 31 کی بجائے 32 ہوتی۔“
اس کے علاوہ زیر نظر تصنیف میں شامل پیر سپاہی کی کہانی بھی ایک اعتقادی اور توہماتی کہانی ہے۔پیر سپاہی جو کہ ایک غیر روائتی پیر تھا۔یہ نہ تو کوئی گدی نشین تھا اور نہ کسی دربار سے منسلک۔ہاں البتہ آستانہ پولیس میں کانسٹیبل ضرور تھا جسے ضیاء آمریت کے دور میں سیاسی شخصیات پر ہونے والے ظلم و بربریت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے لایا گیا تھا۔اس کا اصل نام عبدالحمید تھا جو کہ ڈسٹرکٹ خانیوال کی تحصیل جہانیاں کے گاوں علی شیر واہن کا رہنے والا تھا۔اس نے لاوڈ سپیکر اور مائیکروفون کے ذریعے لوگوں کو دم کرنے کا آغاز کیا۔تو اس دور میں اس کا کافی چرچا رہا۔وقت کے ساتھ ساتھ ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے چھوٹی موٹی کاشت کاری شروع کی اور گزر بسر کرنے لگا۔اور بالآخر 2005ء میں گمنامی میں انتقال کر گیا۔اسی اعتقادی اور توہماتی نظریے پر عمل پیرا موجودہ وقت میں راولپنڈی کا ایک پیرخطیب حسین بھی اسی طرح شہرت کی بلندیوں پر ہے۔یہ بھی مریضوں کو آن لائن دم کرتا ہے جس کے لیے حاضری بھی ضروری نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وقت کا اتار چڑھاؤ پیر سپاہی کی طرح پیر حق خطیب حسین کے دم کے اثر کو ماند کر پائے گا یا نہیں؟
فیس بک کمینٹ

