ملتان:سابق رکن رویت ہلال کمیٹی مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ قندیل بلوچ میرے ذریعے عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ میری بات مانتے ہیں۔ وہ ان سے میرے فتوی کے مطابق شادی کی خواہش مند تھیں۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے سوشل میڈیا پر سینئر صحافی رضی الدین رضی کے ساتھ حالیہ انٹرویو کے دوران کیا۔ مفتی عبدالقوی نے مزید کہاکہ قندیل بلوچ پون گھنٹہ میرے ساتھ رہیں ۔انہوں نے مجھے جوکچھ بتایا وہ حقائق تھے۔ بنی گالا میں کون آتا جاتا ہے ،خاور مانیکا کون ہے، بشری بی بی کون ہیں اورپنکی پیرنی انہیں کیوں کہا جاتاہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ الزام غلط ہے کہ وہ میری وجہ سے قتل ہوئیں۔انہوں نے میری کیپ پہنچ کر جو تصاویربنوائیں وہ وائرل ہوگئیں ۔ممکن ہے اس کے بعد ان کے بھائیوں کو غصہ آگیا ہواور انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قندیل بلوچ نے اپنے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے جو گفتگو کی وہی ان کی موت کی وجہ بنی ہواور ان کے بھائیوں کو کسی ادارے کے اہلکاروں نے مشتعل کردیا ہو۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اس مقدمے میں گرفتار بھی کیاگیااوراس کی وجہ یہ تھی کہ میرے خلاف ایک پشتون مولوی نے مہم چلائی اور پھراس کاانجام بھی سب نے دیکھ لیا۔ انہوں نے کہاکہ قندیل بلوچ کا بھائی بھی اب رہا ہوچکا ہے اور اسلام میںورثاءقاتل کو معاف کرسکتے ہیں اوریہ اس لیے کیاگیا کہ ایک قتل کے بعد بدلے میں دوسرے کی جان نہ جائے۔
9مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ادارے ہمارے لیے سب سے اہم ہیں ۔بانی پی ٹی آئی کو جس طرح گرفتار کیاگیا اس پر لوگ مشتعل ہوئے لیکن اشتعال میں انہوںنے یہ نہ سوچا کہ ہمارے پاس ایک ہی تو ادارہ ہے جس پر ہمیں اعتماد ہے ورنہ تو اب عدالتوں پر بھی کسی کو اعتماد نہیں رہا۔
فیس بک کمینٹ

